سوال 7349
السلام علیکم کیا مرفوع القلم بچے کے لیے نماز جنازہ میں مغفرت کی دعا اور قبر پر اللہم ثبتہ وانصرہ کی دعا کی جا سکتی ہے؟
جواب
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
دعائیں عام طور پر حکایتاً، جس طرح منقول ہیں، اسی طرح پڑھنی چاہییں۔ البتہ اگر کوئی ان کے صیغوں میں ایسی تبدیلی کرنا چاہے جس کی اہلِ علم نے گنجائش بیان کی ہے، تو اس کی بھی اجازت ہے۔
چنانچہ بعض سلف نے فرمایا کہ بچے کے جنازے میں یہ دعا کی جا سکتی ہے:
اللهم اجعله لنا سلفًا و فرطًا و ذخرًا
اسی طرح والدین کے لیے دعا کی جائے، مثلاً: اللهم اغفر لوالديه
جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ بچے کے والدین کے لیے مغفرت کی دعا کی جائے (يُدعى لوالديه بالمغفرة)۔
البتہ اگر منقول دعائیں اسی طرح پڑھ لی جائیں تو یہ بھی درست ہے۔
اسی طرح قبر پر اگر یہ دعائیں کی جائیں:
اللهم ثبته عند سؤال منكر ونكير
اللهم أجره من عذاب القبر ومن عذاب النار
تو یہ بھی درست اور جائز ہیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ



