سوال 7519

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
قرآن وسنت کے دلائل سے جواب عنایت فرمائیں:
کہ گورنمنٹ کے اعلانات یا دنیاداری کے دیگر اعلانات مسجد میں عوام الناس کو مطلع کرنے کیلئے کرنا درست ہے یا نہیں؟
نیز فوتگی یا درس و دروس کے اعلانات بھی جائز ہیں کہ نہیں.
اگر جائز ہیں تو اس کی دلیل کیا ہے؟
ینشد ضالة میں صرف گمشدہ چیز آئے گی یا سب اعلانات؟

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
ایک مرتبہ یہ وضاحت کی جا چکی ہے کہ مسجد میں اعلان کرنا اور گمشدہ چیز کو مسجد میں آ کر تلاش کرنا، یہ دو الگ کیفیتیں ہیں۔ گمشدہ چیز کا مسجد میں اعلان کرنا اور اسے مسجد کے اندر تلاش کرنا منع ہے، اور یہ ایک الگ مسئلہ ہے۔
لیکن مسجد کے اسپیکر کا فائدہ اٹھا کر کسی ضروری اعلان کی اطلاع دینا ایک دوسری چیز ہے۔ آج کل تو یہی ہے کہ پرائیویٹ گاڑی پر اسپیکر لگا کر گلیوں، کوچوں اور سڑکوں پر بھی اعلانات کیے جاتے ہیں۔ لہٰذا اگر کوئی مسجد سے بھی اعلان کروا لیتا ہے تو ان شاء اللہ اس میں کوئی سختی نہیں ہے۔
یہ اس زمرے میں بالکل نہیں آتا کہ مسجد میں اپنی گمشدہ چیز تلاش کرتے ہوئے کسی کو دیکھو تو اسے کہو: “تیری چیز اللہ تجھے نہ لوٹائے۔” یہ وعید گمشدہ چیز کے اعلان اور مسجد کو اس مقصد کے لیے استعمال کرنے کے متعلق ہے، جبکہ دیگر ضروری اعلانات اس زمرے میں آتے ہی نہیں۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ