سوال 7526
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
شیخ محترم میت کے پاس کیا اس کی مغفرت کی دعائیں اونچی آواز میں کرسکتے ہیں اور پھر اس کے ثواب کے لئے گھر میں جلسہ رکھ دیتے ہیں اور پھر سب کو بلا کر دعا کروائی جاتی ہے۔ اور یہ سب اہلحدیث گھر میں ہورہا۔
تو کیا درست عمل ہے؟
جواب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
دیکھیں، اگر اتفاقی طور پر آپ نے درس رکھا، کوئی عالم آئے، انہوں نے بیان کیا اور آخر میں آپ نے کہا کہ دعا فرما دیں تو اس کی گنجائش ہے۔ یہ ایک الگ بات ہے۔
لیکن خاص طور پر جو رواج بڑھتا جا رہا ہے کہ لوگوں کو جمع کرکے اجتماعی دعا کروائی جائے، یہ صحیح نہیں ہے۔ جواز ایک چیز ہے اور کسی عمل کو باقاعدہ عادت اور رواج بنا لینا دوسری چیز ہے۔
آواز ہلکی ہو یا تیز ہو، یہ ایک الگ بحث ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيلًا﴾
یعنی اعتدال بھی تو ہر چیز میں چاہیے۔
لیکن جو رواج بڑھتا جا رہا ہے کہ جو آ رہا ہے دعا کرا رہا ہے، جو آ رہا ہے دعا کرا رہا ہے، پھر وہ کہتے ہیں کہ جی ہاں، ابو عبید عامر کے لیے نبی علیہ السلام نے ہاتھ اٹھا کر دعا کی تھی، جی ہاں، آپ نے بھی دعا کر لی، لیکن اب اس کو رواج نہ دیں۔
اس لیے کہ بعد میں کتنے لوگوں نے اس پر عمل کیا؟ صحابہ میں، تابعین میں، کس نے اس عمل کو معمول بنایا؟ کسی نے بھی نہیں کیا۔ تو کیا ان کو دین سمجھ نہیں آیا اور ہمیں دین زیادہ سمجھ آ گیا؟
لہٰذا اتفاقاً دعا ہو جانا الگ بات ہے، لیکن خاص طور پر لوگوں کو جمع کرکے بلانا اور یہ کہنا کہ جی دعا ہو رہی ہے، آئیے دعا ہوگی، آئیے تیسرے دن ہوگی، دوسرے دن ہوگی، پہلے دن ہوگی، یہ طریقہ جائز نہیں ہے۔
خواہ انفرادی ہو یا اجتماعی، اس طرح اسے باقاعدہ رواج اور معمول بنانا درست نہیں ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




