سوال 7448
پاکستان میں سیکڑوں ہزاروں لوگ میڈیکل بلنگ کے کام سے منسلک ہیں، اس حوالے سے شرعی رہنمائی کی ضرورت ہے، ذیل میں تفصیل کے ساتھ اس کی کیفیت و نوعیت واضح کی جا رہی ہے، تاکہ اہل علم اس حوالے سے شرعی رہنمائی فرما دیں۔
میڈیکل بلنگ کیا ہے؟
یہ ایک دفتری یا “کلرک” کا کام ہے جو امریکہ کے ڈاکٹروں اور کلینکس کے لیے کیا جاتا ہے۔ امریکہ میں ڈاکٹر اپنے مریضوں کا علاج کرتے ہیں، لیکن چونکہ وہاں علاج کے اخراجات زیادہ تر انشورنس کمپنیوں کے ذریعے ہی ادا کیئے جاتے ہیں، اس لیے ڈاکٹر کو ہر مریض کے علاج کا بل (Claim) انشورنس کمپنی سے وصول کرنا پڑتا ہے۔
ڈاکٹر چونکہ خود علاج میں مصروف ہوتے ہیں اور امریکہ میں اس کام کیلئے ایک اضافی ملازم رکھنا مہنگا کام ہے اس لیے وہ یہ کام کسی میڈیکل بلنگ کمپنی کو دے دیتے ہیں۔ پاکستان میں موجود کمپنیاں یہ کام کم لاگت پر کر دیتی ہیں، اس لیے امریکی ڈاکٹر یہ سروس یہاں سے حاصل کرتے ہیں۔
میڈیکل بلر (Medical Biller) کیا کرتا ہے؟
میڈیکل بلر کا کام صرف دفتری نوعیت کا ہے اور ایک بلر کا کام تب شروع ہوتا ہے جب مریض خود سے ڈاکٹر کے کلینک پر آتا ہے۔ بلر کی ذمہ داریاں مندرجہ ذیل ہیں:
انشورنس کمپنی سے کال کر کے مریض کی انشورنس تفصیلات لینا مثلا کیا مریض کی انشورس ایکٹیو ہے یا نہیں؟ کیا انشورنس ڈاکٹر کو مریض کے علاج کیلئے ادائیگی کرے گئی یا نہیں؟ (کیونکہ انشورنس پلان ایک محدود حساب تک مریضوں کے علاج کی ادائیگی کرتی ہے۔ مثلا ایک سستا انشورنس پلان سالانہ 3 لاکھ سے زیادہ کے اخراجات ادا نہیں کرے گا)
ڈاکٹر کے نسخے (Prescription) یا (Superbill) سے مریض کی تفصیل سافٹ وئیر سسٹم میں درج کرنا۔
بل کو سافٹ ویئر میں HCFA فارم کی شکل میں تیار کرنا.
اس بل کو انشورنس کمپنی کے سسٹم میں بھیجنا۔
اگر انشورنس کمپنی اعتراض کرے تو اس میں ممکنہ ریکارڈ کی درستگی کر کے دوبارہ انشورنس کو بھیجنا۔
جب ادائیگی ہو جائے تو اس کی رسید کے مطابق سافٹ وئیر میں بل پر ادا شدہ رقم کی تفصیلات کو (Payment Posting) ریکارڈ کرنا۔
یعنی یہ پورا کام صرف ڈیٹا انٹری، ای میل/کال، اور کمپیوٹر پر فائلنگ سے متعلق ہے۔
کریڈینشلنگ (Credentialing):
ڈاکٹراپنی ضرورت کے مطابق چاہتے ہیں کہ وہ مختلف انشورنس کمپنیوں کے نیٹ ورک میں شامل ہو جائیں تاکہ زیادہ مریض ان کے پاس آسکیں۔
پاکستان میں موجود ٹیم ڈاکٹر کے تعلیمی سند، لائسنس اور دیگر ڈاکیومنٹس چیک کرتی ہے اورانشورنس کے نیٹ ورک میں شمولیت کیلئے درخواست تیار کرتی ہے اور امریکی انشورنس کمپنی کو درخواست مع تمام ڈاکومنٹس ویریفکیشن کے لیے بھیجتی ہے۔
انشورنس کمپنی ڈاکٹر کی اہلیت کی تصدیق کرتی ہے۔
تصدیق کے بعد انشورنس کمپنی ڈاکٹر کو علاج کے ریٹس اور شرائط پر مشتمل ایک معاہدہ (contract) بھیجتی ہے۔
ڈاکٹر انشورنس کے معاہدے (contract) پر دستخط کرنے کے بعد انشورنس نیٹ ورک میں شامل ہو جاتا ہے۔
الغرض اس میں بھی بلنگ کمپنی/ بلر کا کام صرف ریکارڈ تیار کرنے اور فائل جمع کرانا ہوتا ہے نہ کوئی کمیشن، اور نا ہی انشورنس بیچنے کا کام۔ اس کا مقصد صرف ڈاکٹر کو انشورنس کے نیٹ ورک میں شامل کرانا ہوتا ہے تاکہ جن مریضوں کے پاس پہلے سے انشورس موجود ہے وہ ڈاکٹر سے چیک اپ کروا سکیں اور ڈاکٹر کو انشورنس کمپنی سے مقررہ ادائیگی ہو سکے۔
آمدنی کا طریقہ کار
پاکستانی کمپنی/ بلر کو ڈاکٹر کی طرف سے معاوضہ اس وقت ملتا ہے جب ڈاکٹر کو اپنے کاروباری بینک اکاونٹ میں انشورس کے بلوں کی رقم موصول ہوجاتی ہے۔ اوراس “سروس فیس” کی ادائیگی ڈاکٹر اپنے اخراجات سے کرتا ہے اور انشورس کمپنی سے پاکستانی کمپنی/ بلر کو سے براہ راست کوئی ادائیگی نہیں ہوتی۔
سروس فیس کا حساب:
یا تو ہر کلیم پر ڈاکٹر کو موصول رقم کا 3 سے 5 فیصد (بلنگ فیس)،
یا ایک مقررہ ماہانہ فیس (Fixed Amount)۔
“سروس فیس” صرف خدمت (Service) کے بدلے میں حاصل ہوتی ہے، جو کہ ڈاکٹر پاکستانی کمپنی کو ادا کرتا ہے۔
یعنی انشورنس کمپنی کا پاکستانی کمپنی کے ساتھ کسی بھی طرح کا مالی لین دین نہیں ہوتا۔
میڈیکل بلر کے دائرہ کار میں کیا شامل نہیں؟
میڈیکل بلر یا کمپنی:
کسی مریض کو انشورنس خریدنے کا مشورہ نہیں دیتی، انشورنس بیچتی نہیں، اور انشورنس کمپنی سے کمیشن نہیں لیتی۔ الغرض انشورس کی خرید و فروخت سے ایک بلر کا قطعی کوئی تعلق نہیں ہوتا اور نا ہی بلنگ کا کام انشورنس کی خرید و فروخت میں کسی بھی طرح کے تعاون کا باعث بنتا ہے۔
میڈیکل بلر یا کمپنی کا کام صرف ڈاکٹر کے لیے دفتری، حسابات، اور آن لائن خدمت انجام دینا ہے۔
انشورنس ایجنٹ اور بلر کے کام کا موازنہ:
انشورنس ایجنٹ کا بنیادی کام عوام کے ساتھ ہے وہ ان کو انشورنس پالیسی بیچ کا اپنا کمیشن کماتا ہے۔ اس کے برعکس ایک بلر کا کام کلینک میں بیھٹے کلرک کا ہے۔ جب ایک مریض ڈاکٹر سے اپنا چیک اپ کرواتا ہے تب بلر کا کام شروع ہوتا ہے، جس کی تفصیل اوپر ذکر کی گئی ہے۔
اکاونٹینٹ(CFO) اور بلر کے کام کا موزانہ:
ایک اکاونٹینٹ کا کام کسی بھی ادارئے کی آمدنی اور اخراجات کا حساب بنانا اور ایسی حکمت علمی تیار کرنا ہوتا ہے جس سے کاروبار کے اخراجات میں کمی ہوسکے اور منافعے میں اضافہ ہو۔ اکاونٹینٹ کے کام میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ ضرورت کے تحت مالکان کو بینکوں سے قرضے لینے کا مشورہ بھی دیتا ہے اور قرضہ لینے کے تمام عمل میں مددگار ہوتا ہے۔ جبکہ بلر کی ذمہ داری صرف تب شروع ہوتی ہے جب مریض کلینک میں اپنا چیک اپ کروانے کیلئے خود ڈاکٹر سے کوئی وقت تہہ کرتا ہے۔ بلر کا کلینک کے کام کو بڑھنے(Marketing) سے کوئی لینا دینا بھی نہیں ہے
یہ کام کلریکل/سروس پرووائیڈر(Service Provider) کی نوعیت کا ہے۔
پاکستانی کمپنی کی آمدنی صرف کلینک کے حسابات مرتب کرنے (بل تیار کر کے انشورس کو بھیجنا) اور بقایاجات کی ادائیگی مکمل ہونے تک اسکا پیچھا کرنے (follow up) کے کام کی اجرت ہے۔
لہٰذا ہم آپ سے رہنمائی کے خواہاں ہیں کہ آیا اس قسم کی آن لائن سروس شرعاً جائز اور حلال ہے یا نہیں۔
جواب
الحمد للہ وحدہ والصلاۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ!
میڈیکل بلنگ کے حوالے سے ہمیں مختلف لوگوں کی طرف سے سوالات موصول ہوتے رہتے ہیں، بعض لوگوں کے مطابق پاکستانی کمپنی یا فری لانسر انشورنس کمپنیوں کا ملازم یا کمیشن ایجنٹ ہوتا ہے، یہ صورت تو بالکل درست نہیں، کیونکہ انشورنس بذات خود بھی درست نہیں اور انشورنس کے کسی ادارے میں کام کرنا بھی اہل علم کے ہاں جائز نہیں۔
دوسری صورت وہ ہے، جو یہاں سوال میں بیان کی گئی ہے کہ میڈیکل بلر کمپنی یا فرد کا تعلق ڈاکٹر اور کلینک کے ساتھ ہوتا ہے، ان کا کسی بینک یا انشورنس کمپنی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا، البتہ چونکہ مریضوں نے انشورنس کروائی ہوتی ہے اور ان کے علاج کے پیسے انشورنس کمپنی نے دینے ہوتے ہیں، اس لیے بلر ڈاکٹر/کلینک کی طرف سے ایسے مریضوں کا بل انشورنس کمپنیوں سے کلیئر کروا کر دیتا ہے۔
بعض اہل علم کے ہاں اس سے بھی گریز بہتر ہے، کیونکہ ان کے ہاں اس میں بھی انشورنس کے کام میں تعاون کی کیفیت محسوس ہوتی ہے، اور یہ کہ انسان کو شبہات سے بچنا چاہیے۔
البتہ بعض دیگر اہل علم کے ہاں یہ صورت جائز معلوم ہوتی ہے، کیونکہ یہاں انشورنس کا تعلق مریض کے ساتھ ہے، ڈاکٹر یا اس کا بِل کلیئر کروا کر دینے والی کمپنی/فرد کا انشورنس سے تعلق نہیں ہے، ڈاکٹر مریض کا علاج کرتا ہے اور بلر نے ڈاکٹر کی طرف سے اس کے پیسے وصول کرنے ہیں۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے دکاندار کسی کو جائز طریقے سے کوئی حلال چیز بیچے، لیکن پیسے دینے والا اسے بینک سے یا انشورنس کمپنی سے پیسے نکلوا کر ادا کرے، یا چوری ڈاکے یا حرام کے پیسوں سے ادائیگی کرے، تو اس میں دوکاندار اور بائع کا کوئی قصور نہیں، بلکہ گاہک اور خریدار ذمہ دار ہے۔
اگر ڈاکٹر کے علاج کرنے میں کوئی شرعی قباحت یا غلط کام نہیں تو اس کے مریضوں سے ریکوری کرنا اور پیمنٹس وغیرہ وصول کرنا اور اس کے لیے بینک یا انشورنس کمپنی سے رابطہ کرنا، اس میں حرج نہیں ہے، اور ان سب کاموں کی ڈاکٹر یا کلینک یا ہسپتال سے اجرت وصول کرنا جائز ہے۔ واللہ اعلم۔
فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ

