سوال 7432
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
میرا سوال یہ ہے کہ ایک لیکچر میں سنا کہ مالکی اور شافعی مذہب میں اجازت ہے کہ اگر کسی عورت کا محرم نہ ہو تو گروپ کے ساتھ وہ جا سکتی ہے hajj کے لیے اور سفر پر امن ہو جیسے آج کل ہے تو یہ صرف اسی عورت کے لیے ہوگا جسکا محرم اس دنیا میں کوئی بھی نہیں ہے یا اس کے لیے بھی کہ جس کے محرم ہیں پر وہ جانے کے قابل نہیں۔
۲۔ دوسرا یہ کہ اس طرح جو خواتین ملک سے باہر جاتی ہیں وہ بھی یہی دلیل دیتی ہیں کہ سفر تو پر امن ہے جہاں جا کر رہتی ہیں وہ جگہ بھی محفوظ ہے تو کیا ایسا ٹھیک ہو جائے گا؟
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
حج فریضہ ہے۔ عمرہ اور حج میں فرق ہے۔ اگر کسی صورتِ حال میں کوئی اور صورت نہ بن رہی ہو تو یہ بالکل آخری صورت ہے کہ گروپ کی شکل میں عورت حج کے لیے چلی جائے۔ بعض فقہاء نے اس کی اجازت دی ہے، لہٰذا اگر واقعی کسی کی گود اس طرح پھنس گئی ہے کہ محرم میسر نہیں، تو بعض فقہاء کی رائے کو دیکھتے ہوئے گروپ کی شکل میں حج کے لیے جانے کی گنجائش دی جا سکتی ہے۔
البتہ یہ کہنا کہ آج کل سفر پر امن ہے، اس لیے محرم کی ضرورت نہیں، ایسا کچھ نہیں ہے۔ امن تو نبی کریم ﷺ کے دور میں زیادہ تھا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دور میں بھی زیادہ تھا، لیکن وہاں بھی محرم کا اہتمام کیا جاتا تھا۔
اب رہی نوکری کے لیے عورت کا دور دراز سفر کرنا، تو اس کے لیے یہ گنجائش نہیں ہے۔ عورت کا نوکری کرنا، دور جا کر پڑھنا، یہ کوئی ضروری چیز نہیں ہے؛ نہ فریضہ ہے اور نہ کوئی ضروری چیز ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

