سوال 7299

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ اکثر منافقی امتی قراءھا کیا یہ حدیث صحیح ہے اور اس کو بیان کیا جا سکتا ہے؟

جواب

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
سند میں بحث ہے لیکن مفہوم بہرحال درست ہے اس کا۔ روایت بالمعنی اگر بیان کریں تو ٹھیک ہے سند بہرحال اس کی مخدوش(مشکوک) ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته
یہ روایت ثابت ہے، اسکو بیان کیا جاسکتا ہے، سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

أَكْثَرُ مُنَافِقِي أُمَّتِي قُرَّاؤُهَا

میری امت کے اکثر منافق قراء ہوں گے
(التاريخ الكبير للبخاري : 822، مسند احمد : 6637 وسندہ حسن)
امام ذہبی نے اس روایت کو صالح قرار دیا ہے۔
(ميزان الاعتدال للذھبي : 560/1)
امام عقيلي نے بھی صالح قرار دیا ہے
(الضعفاء الكبير للعقيلي : 274/1)
امام ذہبی نے ایک مقام پر محفوظ قرار دیا ہے
(سير أعلام النبلاء : 28/8)
امام بوصيري نے اس روایت کو حسن قرار دیا ہے
(إتحاف الخيرة المهرة : 351/6)
امام ہیثمی لکھتے ہیں :
اس روایت کو امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کیا ہے، اور امام احمد کی روایت کی ایک سند کے تمام راوی ثقہ اور مضبوط ہیں
(مجمع الزوائد ومنبع الفوائد : 229/6)
علامہ ناصر الدین الباني نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے
(السلسلة الصحيحة : 750)
محدث احمد شاکر نے اس روایت کو صحیح قراردیا ہے
(تخريج المسند لشاكر : 195/6)
مسند احمد کے محقق شعيب الأرنؤوط نے اس روایت کو حسن قرار دیا ہے
(تخريج المسند لشعيب : 6637)
ھذا ما عندي والله اعلم بالصواب

فضیلۃ العالم حافظ محمد عبداللہ حفظہ اللہ

بارك الله فيكم وعافاكم
یہ روایت صرف عبد الله بن عمرو رضی الله عنہ سے علی الاقل بعض کے نزدیک حسن ہے اور شیخ مصطفی العدوی نے مطلقا ضعیف قرار دیا ہے۔
اس روایت کی دیگر اسانید ضعیف و منکر ہیں۔
حافظ ذہبی نے امام عقیلی کے الفاظ ہی نقل کئے ہیں خود باسناد صالح نہیں کہا ہے۔
اس روایت کو صحیح تسلیم کر لیں تو بھی اس سے مراد تمام قراء و حفاظ نہیں ہیں۔
بلکہ اس سے مراد:
(1) ریاکاری کرنے والے
(2) فساق
(3) دنیا کمانےکی خاطر قرآن پڑھنے والے
(4) زنادقہ اور خوارج بھی ہیں
یہاں اعتقادی منافق مراد نہیں بلکہ عملی منافق مراد ہے
سواے آخر الذکر صورت کے۔
والله أعلم بالصواب

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ