سوال 7217
ہم اپنی ابنیت کسی اور کی طرف ظاہر نہیں کرسکتے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے آپ کو ابن المطلب کہا، اسی طرح ہم ساس سسر کو والد والدہ بھی کہہ دیتے ہیں۔
کیا یہ بھی بھی حدیث میں وارد مذمت و وعید میں شامل ہے؟
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ
مجازی، عرفی یا تشریفی طور پر ایسی نسبتیں جائز ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے نسب توڑ کر یہ نہیں فرمایا تھا کہ میں فلاں کا نہیں بلکہ فلاں کا بیٹا ہوں، بلکہ تشریفی طور پر اپنے حسب و نسب، خاندان کے شرف اور بہادری کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: «أنا ابن عبد المطلب»۔
یہی معاملہ دیگر نصوص میں بھی ملتا ہے۔ مثلاً سیدنا یوسف علیہ السلام کا قول:
﴿وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ آبَائِي إِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ﴾
حالانکہ ان میں بعض براہِ راست والد نہیں تھے بلکہ اجداد میں سے تھے۔ اسی طرح “یا أخت ہارون” میں بھی یہی اسلوب پایا جاتا ہے۔
لہٰذا نسبت کی نوعیت دیکھی جائے گی کہ وہ مجازی، تشریفی یا تعظیمی ہے یا نہیں۔ نسب توڑنا ایک الگ مسئلہ ہے، جبکہ کسی کو محبت، احترام یا عرف کے طور پر بیٹا، ماں، باپ، چچا یا آباء و اجداد کی طرف نسبت کرنا ایک الگ معاملہ ہے۔
اس لیے کسی کو ماں، باپ، بیٹا یا ساس سسر کو والدین کہنا، یا اجداد کی طرف نسبت کرنا، ان صورتوں میں جائز ہے اور یہ اس وعید کے زمرے میں نہیں آتا جو اپنے حقیقی نسب کو چھوڑ کر کسی اور کی طرف جھوٹی نسبت اختیار کرنے پر وارد ہوئی ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ



