سوال 7470

السلام عليكم و رحمة الله و برکاته
شیخ محترم!
ایک بندہ نے اپنے رشتدار سے کہا کہ آپ کی بائک ( جو 2026 ماڈل ہے ) مجھے دے دو میرے کو پیسے کی ضرورت ہے میں اس کو بیچ کر اپنے ضرورت پوری کرونگا اگلے سال میں آپ کو 27 ماڈل بائیک لے کر دونگا.
کیا یہ صورت جائز ہے؟

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
بالکل درست نہیں۔
یہ قرض لے/ دے کر اضافہ لینے/ دینے والی سودی صورت ہی ہے.

فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ

سائل: قرض دینے والے کی طرف سے تو یہ شرط نہیں۔ لینے والا اپنی مرضی /خوشی سے قرض میں احسان والا معاملہ کررہا ہے۔
جواب: ایسے معاملات میں احسان اور سود میں فرق رکھنا بہت مشکل ہے.
کوئی بھی شخص کہے کہ مجھے ایک لاکھ روپیہ دیں، میں آپ کو احسان کرتے ہوئے سوا لاکھ واپس کر دوں گا. اور بینک بھی یہی کچھ کرتا ہے.
مزید یہاں اہل علم موجود ہیں، ان سے رہنمائی لے لیں۔

فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ

و علیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ اگر سوال میں بیان کردہ صورت بالکل یہی ہے کہ رشتے دار اپنی 26 ماڈل بائیک دوسرے شخص کو دیتا ہے وہ شخص اسے فروخت کر کے اس کی رقم اپنی ضرورت میں استعمال کرتا ہے اور اس کے بدلے میں یہ طے ہے کہ اگلے سال 27 ماڈل کی بائیک واپس دے گا۔ تو میری رائے میں تو یہ معاملہ جائز نہیں ہے اور اس کی وجہ جو بظاہر سمجھ میں آ رہی ہے کہ یہ قرض ہے کیونکہ بائیک دینے والے کا مقصد یہ ہے کہ اس کی بائیک یا اس کی قیمت استعمال کی جائے اور بعد میں اس کے بدلے میں دوسری بائیک واپس ملے۔ لیکن یہاں واپسی میں بہتر اور نئی بائیک دینا پہلے سے طے کیا گیا ہے جو قرض کے بدلے مشروط منفعت ہے۔ اور یہ سود کے حکم میں آتا ہے۔ اہل علم جو ہیں وہ بعض فقہاء کے فتاوی جو ہیں اس حوالے سے ملتے ہیں کہ کسی کو اپنی گاڑی اس شرط پر دینا کہ وہ اسے فروخت کر کے رقم استعمال کرے اور کچھ عرصے بعد اس سے نئی یا بہتر گاڑی واپس کرے جائز نہیں کیونکہ قرض کے بدلے اضافی منفعت مشروط ہو رہی ہے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جو ایک ہمیں اصول ملتا ہے فقہی قاعدہ کہ بھئی ایسا قرض جس سے قرض دینے والے کے لیے مشروط فائدہ حاصل ہو سود کے حکم میں ہے۔ البتہ یہ ہو سکتا ہے کہ اگر رشتے دار محض قرض حسن دینا چاہتا ہے تو وہ میں تمہیں بائیک فروخت کرنے کی اجازت دیتا ہوں اس کی موجودہ قیمت رقم تم میرے ذمے قرض سمجھو اور ایک سال بعد اتنی ہی رقم واپس کر دو۔ تو قرض دینے والا یہ بات کہہ دے۔ ٹھیک ہے۔ تو اس میں کوئی اضافی فائدہ پہلے سے شرط کی صورت میں طے نہ ہو۔ پھر وہ شخص اپنی خوشی سے قرض واپس کرتے وقت بغیر کسی پیشگی شرط یا وعدے کے کوئی بہتر چیز دے دیتا ہے تو اس کی الگ سے تفصیل ہے۔ لیکن میں یہاں یہ سمجھ رہا ہوں میری ذاتی رائے کہ یہ جو 2027 کی ماڈل بائیک دینا پہلے سے طے کر لیا جائے یہ اسی زمرے میں آئے گا۔
واللہ اعلم بالصواب

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر فیض الابرار شاہ حفظہ اللہ