سوال 7405

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
کسی نے ایک مسئلہ پوچھا ہے جس کے تحت مجھے یہ کہا گیا ہے کہ مولانا صاحب سے پوچھیں اگر وہ اجازت دیتے ہیں تو تب آپ یہ کام شروع کریں براہ مہربانی میری رہنمائی فرما دیں.
میرے والد صاحب کا انتقال 2016 میں ہوا ہم 2 بہن بھائی ہیں میرا بھائی چھوٹا ہے اس نے قرآن مجید حفظ کیا اور میٹرک لیکن اس کے پاس ابھی تک کوئی روزگار نہیں ہے میری امی نے مجھے پڑھایا میں نے گریجویشن مکمل کی ابھی دو ماہ پہلے
ہمارا ذریعہ آمدن صرف والد صاحب کی پیشن ہے جو کہ 30 ہزار ہے
ہمارے اخراجات
کرایہ مکان: 12 ہزار
بجلی کا بل : 7 ہزار
گیس کا بل : 1 ہزار
دودھ کا بل : 5 ہزار
باقی روز مرہ کر اخراجات کھانا، پینا، اوڑھنا یہ سب الگ ہے ۔۔۔
میں جاب کرنا چاہتی ہوں اور اپنی والدہ کا سہارا بننا چاہتی ہوں کیونکہ انہوں نے مجھے بہت مشکل اور محنت سے پڑھایا ہے
شہر تلہ گنگ میں سکول کالجز میں انٹرویو دیا وہ سب 10 ہزار کوئی کالج 15 ہزار کہتے ہیں اسے زیادہ کوئی بھی نہیں
میں نے ایک بینک میں اپلائے کیا ہے اور میرا انٹرویو پاس ہو گیا ہے لیکِن میرے ماموں اور ابو کے کزن چاچو کہتے ہیں ایک بار اس بات کی اجازت لے لو کہ ہمارے حالات ٹھیک نہیں ہیں میں بینک میں جاب کر لوں اگر مجھے کوئی نوکری ملی تو میں یہ کام بعد ازاں چھوڑ دوں گی
لیکن اس وقت میری مجبوری کیا اسلام میں ان حالات کے پیش نظر کوئی گنجائش بن سکتی ہے؟؟؟
بینک میں جس پوسٹ کے لیے میں نے اپلائے کیا ہے، وہ insurance والا کام نہیں ہے ، وہ کاؤنٹر یا branch banking ہے۔

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔
آپ کے اس سوال میں دو باتیں پوچھی گئی ہیں۔ یا دو باتیں ذکر کی گئی ہیں۔ ایک تو معاشی مجبوری اور دوسرا بینک کی ملازمت کے حوالے سے شرعی حکم کیا ہے؟ بینک کی ملازمت تو براہ راست یا بالواسطہ کسی بھی اعتبار سے جائز نہیں ہے۔ خواہ اس میں کیشیئر، برانچ بینکنگ، اکاؤنٹ اوپننگ، دیگر آپشنز یا جو ویلکم سینٹر ہوتا ہے، ویلکم کاؤنٹر ہے وہاں پر کسی بھی اعتبار سے اس میں جائز نہیں ہے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جو فرمان ہے کہ سود کھانے والے، کھلانے والے، اس کا حساب لکھنے والے، اس کے گواہوں پر لعنت کی۔ اور کہا یہ سب اس گناہ میں برابر کے شریک ہیں۔ جہاں تک بات ہے ہم اپنی اس بہن کے حوالے سے بات کرتے ہیں۔ والد کا انتقال ہو چکا ہے، آمدنی محدود ہے، بھائی بے روزگار ہیں، گھر کے اخراجات بھی ہیں۔ تو ایسی حالت میں شریعت کی رو سے سب سے پہلے جائز ذرائع معاش کی پوری کوشش کی جائے اگرچہ تنخواہ کم ہی کیوں نہ ہو اور ساتھ میں بہتر مواقع کی تلاش جاری رکھی جائے۔ تو ہم اپنی ضرورت کے مطابق جو ہم ایک غیر حلال یا حرام کی طرف جانا چاہ رہے ہیں یا وہ اضطراری کیفیت میں اس طرف نکلنا چاہ رہے ہیں تو بہتر یہ ہے کہ جو جائز ذرائع معاش ہیں خواہ وہ کم ہی کیوں نہ ہوں تو اصولاً اس کو اختیار کرنا چاہیے، اللہ تعالیٰ سے اس سے رزق میں برکت کی امید رکھنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ اسی میں برکت دے گا اور ساتھ میں تلاش اپنی جاری رکھے، ان شاء اللہ العزیز اللہ تعالیٰ مزید جو ہے وہ روزی میں کشادگی کے جو ہیں اسباب پیدا کرے گا، روزی کھلی کر دے گا ان شاء اللہ العزیز۔

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر فیض الابرار شاہ حفظہ اللہ