سوال 7524

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
محترم ایک سوال ہے میری بہن کی شادی ہوئی ہے تقریباً 13/ 14 سال ہو گئے ہیں تین بچے ہیں جس سے شادی ہوئی ہے اس کا اور اس کے خاندان کا تعلق بریلوی مکتبہ فکر سے ہے حقیقت میں ان کو اپنے مکتبہ فکر کے حوالے سے بھی نہیں پتا تقریباً کوئی خاص علم نہیں میری بہن کو کچھ نہ کچھ دین کی سمجھ ہے شرک وغیرہ نہیں کرتی کچھ نمازیں پڑھتی ہیں کچھ رہ جاتی ہیں تو میری بہن کو ان کے ساتھ رہنا چاہیے کے نہیں ۔ قرآن و حدیث سے رہنمائی فرمائیں۔ جزاک اللہ خیراً

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ
محض بریلوی مکتبہ فکر سے ہونا کوئی ایسا سبب نہیں کہ جس کی وجہ سے مرد کو طلاق یا عورت کو خلع لے کر علیحدگی کا مشورہ دیا جائے۔
بہت اچھی بات ہے کہ آپ کی بہن بدعات و خرافات سے بچتی ہیں، اور اس کے سسرال والے بھی اس کو مجبور نہیں کرتے.. لہذا وہ اپنی زندگی کو اسی طرح اسلامی تعلیمات کے مطابق گزارتی رہیں۔

فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
شیخ محترم اس میں کچھ اضافہ کر لیں اور وہ یہ ہے کہ ہماری وہ بہن صرف خود عمل نہ کرے بلکہ اپنے شوہر اور بچوں کو بالخصوص کتاب و سنت کی تعلیم گاہے بگاہے دیتی رہے پورے گھر کو دے تو اور اچھا ہے بڑے حکمت کے ساتھ بڑی دانائی کے ساتھ۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ
بالکل درست فرمایا شیخ محترم

فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ