سوال 7577

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
علماء کرام! رہنمائی فرمائیں کہ نمازِ باجماعت میں مقتدی کو سورۃ فاتحہ امام کے ساتھ ساتھ پڑھنی چاہیے یا امام کی قراءت مکمل ہونے کے بعد اس کے لیے الگ وقت دیا جائے تاکہ مقتدی سورۃ فاتحہ پڑھ سکے؟
براہِ کرم قرآن و حدیث کے دلائل کی روشنی میں اس مسئلے کے تمام اہم اقوال اور ائمہ و اہلِ علم کے تفصیلی مواقف واضح فرما دیں۔
جزاکم اللہ خیراً

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
جہاں تک مقتدی کے سورۃ فاتحہ پڑھنے کا معاملہ ہے، مقتدی سورۃ فاتحہ پڑھنے میں آزاد ہے، جیسے ثناء پڑھنے میں وہ آزاد ہے۔ سورۃ فاتحہ فرض ہے، لہٰذا اگر وہ پہلے پڑھ لیتا ہے تو بھی ٹھیک ہے، امام کے پیچھے پیچھے پڑھتا ہے تو بھی ٹھیک ہے، اور اگر امام سکتہ کرتا ہے اور موقع دیتا ہے تو بھی ٹھیک ہے۔
ساری صورتیں صحیح ہیں۔ جزء القراءۃ خلف الامام، امام بخاری رحمہ اللہ کی جو بحث دیکھی جائے تو ان تمام صورتوں کے جواز کی گنجائش موجود ہے۔
خلاصہ یہی ہے کہ مقتدی اپنی سورۃ فاتحہ مکمل کرے گا، جس طرح بھی اس سے بن سکے۔ البتہ آواز نہیں نکالے گا، سورۃ فاتحہ بغیر آواز کے پڑھے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ