سوال 7473
السلام علیکم، مسلمان حکمرانوں کے خلاف کب اٹھنا یا جہاد کرنا واجب ہوتا ہے؟
جواب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
دیکھیں، میرے نزدیک اس سوال کی حاجت نہیں ہے، یہ ایک غیر ضروری بحث ہے؛ اس لیے کہ تلوار اٹھانے یا تختہ الٹنے کی کوئی عام بحث ہمیں شرعاً نہیں دی گئی۔
ہاں، یہ ضرور ہے کہ حکمرانوں کی اطاعت سے ہاتھ کب کھینچا جا سکتا ہے؟ اس بارے میں حدیث میں کفرِ بواح کا ذکر ہے، یعنی جب کھلم کھلا اور دو ٹوک طریقے سے کفر کا ارتکاب نظر آئے۔
لیکن اس خطاب کو ہر کس و ناکس، ہر فردِ واحد کے لیے نہیں سمجھا جا سکتا کہ وہ خود اپنی سمجھ کے مطابق کسی حکمران کے بارے میں فیصلہ کرے کہ یہ کفرِ بواح ہے اور پھر اس کے خلاف کھڑا ہو جائے۔ اس سے تو انارکی پھیل سکتی ہے اور خون خرابے کی ایسی تحریک بن سکتی ہے جیسی ہمارے ہاں بعض انتہا پسند تنظیموں کی صورت میں دیکھی جاتی ہے۔
لہٰذا ایسا کوئی حکم نہیں کہ ہر فرد اپنی طرف سے تلوار اٹھا لے، بغاوت کرے یا تختہ الٹنے کی کوشش کرے۔ حدیث کے مفہوم میں مسلمانوں کی اجتماعیت مخاطب ہے۔ جب کفرِ بواح کا معاملہ ہو تو مسلمانوں کی اجتماعی حیثیت سے اطاعت سے ہاتھ کھینچنے کا حکم سمجھا جائے گا۔
لہٰذا اس مسئلے میں اتنی ہی بحث کافی ہے جتنی حدیث کے اندر موجود ہے؛ اس سے آگے ہر فرد کے لیے خروج اور بغاوت کا دروازہ کھول دینا درست نہیں۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

