سوال 7675

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ایک شخص نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔ عدت ختم ہونے کے بعد دونوں چار سال تک الگ رہے، پھر ان کا نئے سرے سے نکاح ہوگیا۔ نئے نکاح کے ایک سال بعد شوہر نے دوبارہ طلاق دے دی۔
اب سوال یہ ہے کہ نئے نکاح کے بعد دی گئی یہ طلاق پہلی شمار ہوگی یا پہلے نکاح کے دوران دی گئی طلاق بھی شمار ہوگی اور یہ دوسری طلاق کہلائے گی؟
براہِ کرم شرعی رہنمائی فرمائیں۔
جزاکم اللہ خیرا

جواب

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
لجنۃ العلماء سلفیہ میں یہ سوال ہو چکا ہے۔ تجدیدِ نکاح کے بعد اگر شوہر طلاق دیتا ہے تو یہ دوسری طلاق شمار ہوگی، جبکہ پہلی طلاق اس کے اکاؤنٹ میں باقی رہے گی۔
اب اس کے پاس صرف ایک طلاق کا اختیار ہے۔ اگر وہ بھی استعمال کر لی تو پھر معاملہ ختم ہو جائے گا، حتیٰ کہ عورت کسی دوسرے شوہر سے نکاح کرے۔
لہٰذا اسے سختی سے تنبیہ کریں کہ ہوش میں رہے اور طلاق کے معاملے میں انتہائی احتیاط کرے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ