سوال 7331

السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ
نفل نماز میں نیت سے زیادہ اضافہ کیا جا سکتا ہے؟ یعنی اگر ایک وتر کی نیت کر کے شروع کیا تھا لیکن تین پڑھ لے۔

جواب

وعلیکم السلام و رحمة الله و برکاته
نماز میں نیت کو تبدیل کیا جا سکتا ہے، شوقیہ تو نہیں کرنا چاہیے، اگر کوئی کرنا چاہے یا کسی کو خیال آجائے کہ مجھے کر لینا چاہیے تو نیت تبدیل کی جاسکتی ہے لیکِن اس کو عادت ہرگز نہ بنائے۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:

إِنِّي لَأَدْخُلُ فِي الصَّلَاةِ وَأَنَا أُرِيدُ إِطَالَتَهَا، ‏‏‏‏‏‏فَأَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ فَأَتَجَوَّزُ فِي صَلَاتِي مِمَّا أَعْلَمُ مِنْ شِدَّةِ وَجْدِ أُمِّهِ مِنْ بُكَائِهِ

میں نماز شروع کردیتا ہوں۔ ارادہ یہ ہوتا ہے کہ نماز طویل کروں، لیکن بچے کے رونے کی آواز سن کر مختصر کردیتا ہوں کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ ماں کے دل پر بچے کے رونے سے کیسی چوٹ پڑتی ہے۔
[صحیح البخاري حدیث نمبر : 709]
اس طرح کی روایات سے استدلال کیا جاسکتا ہے کہ دوران نماز نیت تبدیل کی جا سکتی ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں رات کی نماز میں نبی ؐ کی بائیں طرف کھڑا ہوا آپ نے میرا سر اپنی پیٹھ کے پیچھے سے پکڑا اور مجھے اپنی دائیں طرف کر دیا ”
[صحیح البخاری حدیث نمبر : 699]
امام بخاری نے اس حدیث پر باب قائم کیا ہے :

بَابُ إِذَا لَمْ يَنْوِ الإِمَامُ أَنْ يَؤُمَّ ثُمَّ جَاءَ قَوْمٌ فَأَمَّهُمْ

باب: نماز شروع کرتے وقت امامت کی نیت نہ ہو، پھر کچھ لوگ آ جائیں اور وہ ان کی امامت کرنے لگے
اس میں واضح دلیل ہے کہ نیت نماز میں تبدیل کرنا درست ہے
ھذا ما عندي والله اعلم بالصواب

فضیلۃ العالم حافظ محمد عبداللہ حفظہ اللہ