سوال 7749
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ایک سوال تھا کہ اگر جماعت کے ساتھ ایک آدمی نماز پڑھ رہا ہے نماز میں اس کو شیطان نے غافل کر دیا ہے وہ دعائیں صحیح طریقے سے نہیں پڑھ پاتا وہ کیا دوبارہ نماز پڑھ سکتا ہے؟
جواب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
دیکھیے، اگر اسے محسوس ہوتا ہے کہ یہ شیطانی وسوسے ہیں جو اسے آ رہے ہیں، تو اسے چاہیے کہ اپنے بائیں طرف تین مرتبہ تھتکار دے اور أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ پڑھے۔ اس کا ذکر حدیث میں موجود ہے۔
اس کے ساتھ خشوع و خضوع بڑھانے کی کوشش کرے اور ظاہری، باطنی، خارجی اور داخلی، تمام اسباب اختیار کرے۔ اس طرح نماز دوبارہ پڑھنے کی حاجت نہیں رہے گی۔
بس سورۂ فاتحہ پوری ہونی چاہیے، رکوع اور سجدے مکمل ہونے چاہییں اور آخری تشہد ہر صورت میں پورا ہونا چاہیے۔ یہ تمام ضروری امور ہیں۔ باقی اگر کوئی کمی رہ جائے تو اللہ تعالیٰ معاف فرمانے والا ہے۔
کیونکہ اگر وہ ہر مرتبہ نماز دہرانے لگے گا تو ایک دفعہ دہرانے کے بعد اگلی نماز میں پھر وسوسہ آئے گا اور وہ دوبارہ نماز دہرائے گا۔ اس طرح یہ سلسلہ بڑھتا جائے گا۔
لہٰذا وسوسے کو توڑنے کا حل یہی ہے کہ اپنی پوری توجہ کے ساتھ نماز ادا کرے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت پر نظر رکھے۔
فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ




