سوال 7348

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ!
علمائے کرام سے ایک شرعی رہنمائی درکار ہے۔
اگر ایک مرد اور عورت کا نکاح شرعی طریقے سے، ایجاب و قبول، گواہوں اور نکاح پڑھانے والے عالمِ دین کی موجودگی میں ہو جائے، لیکن رخصتی کے بعد شوہر کو معلوم ہو کہ اس کی بیوی نکاح سے پہلے ہی کسی اور سے حاملہ تھی، تو ایسی صورت میں:
کیا اس وجہ سے نکاح خود بخود ٹوٹ جاتا ہے؟
کیا نکاح کے گواہوں یا نکاح پڑھانے والے عالمِ دین پر کوئی شرعی ذمہ داری یا اثر آتا ہے یا ان کا نکاح بھی ٹوٹ جاتا ہے؟
اس معاملے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟
براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً

جواب

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
بات یقینی طور پر ہو شبہ نہ ہو بلا وجہ کا بدگمانی نہ ہو بات اگر یقینی ہے کہ وہ پہلے سے حاملہ ہے کسی اور کے نکاح کی وجہ سے یا جیسے بھی تو پھر دونوں میں علیحدگی کروا دی جائے گی قانونی طور پہ کیونکہ قانونی طور پہ تو نکاح لکھا جا چکا ہے تو قانونی طور پہ فسخ کی ڈگری حاصل کی جائے گی اور دونوں کو الگ کر دیا جائے گا یہاں تک کہ وہ وضع حمل ہو جائے اور وہ نفاس سے پاک ہو جائے اس کے بعد فیصلہ کریں کہ اس سے نکاح کر کے مجھے اس کو رکھنا ہے یا نہیں یہ طریقہ کار ہے۔
اور جب واقعتاً علم تھا ہی نہیں تو قاضی صاحب اور گواہ اور لڑکا اور بھی جو شریک ہوئے ان پر ان شاء اللہ کوئی قدغن نہیں ہے، کوئی غرامہ نہیں ہے، کوئی جرمانہ نہیں ہے، کوئی عیب نہیں ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ