سوال 7343

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ایک سوال ہے ایک بندہ کسی طلاق یافتہ لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہے اور وہ نکاح شرعی کرنا چاہتا ہے مثلا قانونی کاغذات کے بغیر گواہان کی موجودگی میں اب وہ اسکو ایک مکان پلاٹ دے گا اسکے علاوہ کیا وہ یہ شرط لگا سکتا ہے کہ میری جائیداد سے کسی قسم کا کوئی حصہ کا مطالبہ نہیں کرسکتی یہ بس یہی جو میں اسکو اپنی خوشی سے دے دوں۔
اس بارے رہنمائی فرمائیں کیا ایسا کرنا جائز اور درست ہے کتاب وسنت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں جزاکم اللہ خیرا

جواب

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کسی کو قبل از وقت یا بعد از وقت میراث سے محروم کرنے کا اختیار کسی کو نہیں ہے۔ اس میں وہ محروم کرنا چاہ رہا ہے اسے یہ جائز نہیں ہے۔ بات واضح ہے۔ جس طرح وہ ایسی شرط لگا دے کہ جی میرے بعد تم کسی اور سے نکاح نہیں کرو گے۔ یہ شرط بھی باطل ہوگی۔ تو ایسی شرطیں جو کتاب و سنت کے خلاف ہوں وہ باطل ہوتی ہیں چاہے وہ ایک سو شرطیں ہوں یا ایک ہزار شرطیں ہوں۔ سوال سے یہی معلوم ہوتا ہے لہذا یہ باطل شرط ہے۔ ایسی شرط وہ نہیں لگا سکتا نہ عورت کو قبول کرنی چاہیے۔

فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ