سوال 7433

منگیتر سے قبل نکاح جماع کرنے والے بچے کا شرعی حکم کیا ہے؟

جواب

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
جس لڑکی سے اس شخص نے بدکاری کی ہے ہاں جو منگیتر ہے تو عام طور پر جو ہے یہ منگنی جو ہوتی ہے بعض علاقوں میں تو باقاعدہ ایجاب و قبول ہوتا ہے اور بعض علاقوں میں ایجاب و قبول کی کیفیت تو نہیں ہوتی وہ صورت نہیں ہوتی لیکن یہ ہوتا ہے کہ ہم نے یہ فلاں کو دے دی ہے اور انہوں نے بھی قبول کر لی ہوتی ہے تو ہمارے بعض جو اہل علم ہیں اہل ظواہر میں سے وہ اس کو نکاح ہی سمجھتے ہیں تھوڑی سی احتیاط ہونی چاہیے کہ منگنی کے بعد جہاں پر ایجاب و قبول ہوا ہو وہ نکاح ہی ہوتا ہے اگرچہ لوگ اس کو منگنی ہی کہتے ہیں وہاں پر یہ بچہ یہ بالکل ثابت النسب ہے۔ ایک بات اور جو منگنی کو ہی نکاح قرار دیتے ہیں تو ان کے ہاں تو پھر بھی یہ ثابت النسب ہے۔ تیسری بات یہ ہے کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اور شیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ ان کا یہ ہے کہ الولد للفراش اس حدیث کا جو مصداق ہے وہ یہ ہے کہ ایک عورت شادی شدہ ہے اور کوئی اور شخص اس بچے پہ دعوی کرے تو نہیں اس کو نہیں ملے گا لیکن اگر کوئی ایسی عورت ہے جس کا جس کی شادی ہے ہی نہیں وہ بغیر نکاح کے ہے اس کے ساتھ اگر کوئی بدکاری کرے اور وہ شخص کہتا ہے یہ میرے نطفے سے ہے تو اگرچہ یہ عمل ان کا ناجائز ہے، حرام ہے، گناہ ہے لیکن اس بچے کی نسبت اس کی طرف کی جا سکتی ہے۔ تو اس بات کو بھی ذرا مدنظر رکھیں۔

فضیلۃ الشیخ مفتی عبد الولی حقانی حفظہ اللہ

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
بارک اللہ فیکم شیخ بالکل درست فرمایا کہ بعض علاقوں میں تو منگنی ہی نکاح کے قائم مقام ہے لیکن جو نکاح کے شرائط ہیں وہ تو پائی نہیں جاتی یعنی باقاعدہ طور پر حق مہر کا تعین اور اسی طریقے سے ایجاب و قبول گواہان کی موجودگی میں اور ولی کی اجازت ابھی تو ولی نے رضامندی ظاہر کی ہے کہ یہ رشتہ ہمیں منظور ہے لیکن باقاعدہ نہ تو ایجاب و قبول ہوا تو بہرحال اس سلسلے میں ایک اور مسئلہ بھی زیرِ بحث آتا رہا کہ نکاح ہو گیا ہے رخصتی نہیں ہوئی اور باپ نے جو ہے اس کو مؤخر کیا ہوا ہے کسی بھی حکمت کی وجہ سے کہ جی بچی پڑھ رہی ہے یا فلاں موقع ہے یا اس اور اس عرصے میں میاں وہ خفیہ طور پر ایک دوسرے سے ملتے ہیں، تعلق قائم کرتے ہیں۔ اور بعد میں پھر جب رخصتی ہوتی ہے تو اس کے کچھ ماہ کے بعد بچے کی ولادت ہے۔ تو اگرچہ وہ بچہ تو جائز ہے لیکن اس آپس میں تعلق کو بھی جو ہے بعض ہمارے ائمہ نے، علماء نے کہا کہ یہ جائز نہیں ہے اس لیے کہ باپ نے بھی اجازت نہیں دی ابھی بیٹی کو رخصت کیا نہیں ہے۔ تو اس سلسلے میں یہ جو مسئلہ ہے کہ اس شخص نے صرف منگنی کے بعد اس کے ساتھ صحبت کی ہے آیا اس کو اس کا جو ہے باپ کا درجہ دیا جائے گا؟ وہ بیٹا اس کا بیٹا اور وارث کہلائے گا۔ جزاکم اللہ خیرا۔
منگیتر سے نکاح سے قبل صحبت کی ہے وہ بچہ ولد زنا کہلائے گا۔ اور ان کی شادی آپس میں اگر ہو گئی تو نکاح درست ہے اور ازواجی تعلق بھی قائم کر سکتے ہیں۔ لیکن وہ بچہ ماں کی طرف سے منسوب ہوگا اور باپ کا وارث یا باپ کے ساتھ اس کا رشتہ قائم نہیں ہوگا۔

فضیلۃ الشیخ عبد الحنان سامرودی حفظہ اللّٰہ