سوال 7354
السلام علیکم
شیخ صاحب نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر انفرادی طور پر دعا کی جا سکتی ہے، اگر کی جا سکتی ہے تو کیا سنت سے ثابت ہے، راہنمائی فرما دیں۔ جزاک اللہ خیرا
جواب
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
نماز کے بعد دعا انفرادی ہو یا اجتماعی یہ کبھی کبھار ہے۔ کیونکہ نماز خود دعا ہے نماز کے اندر آپ دعائیں کریں سجدے میں کریں تشہد میں کریں۔ پھر بھی اگر اپنی زبان میں نماز کی قرأت کرنا چاہتے ہیں تو کر لیں لیکن یہ کبھی کبھار کا عمل ہے۔ اذکار پورے کریں وہ بھی دعائیں ہیں۔ تو انفرادی ہو یا اجتماعی یہ کبھی کبھار کا عمل ہے اس کو لازم نہ سمجھا جائے مستقل اختیار نہ کیا جائے۔ البتہ اتنا بھی انکار نہ کریں۔ اور اتنا بھی اس کو نہ چھوڑیں کہ وہ ہاتھ سے چھوٹ ہی نہ جائے جیسے ہمارے ہاں وہ بالکل ہی تو اثبات والے اور انکار والے دونوں ہی ہمارے نزدیک افراط و تفریط کا شکار ہیں۔ اس سے بچنا چاہیے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
و عليكم السلام و رحمة الله و بركاته
فرض نماز ادا کر چکنے کے بعد مسنون ادعیہ و اذکار کا اہتمام کریں
اس عمل کے بعد دعا کر لیں ۔
قرآن وسنت میں فرض نماز کے بعد دعا کے اہتمام کرنے کی فضیلت،اہمیت،ترغیب بیان نہیں ہوئی ہے ۔
یہ سوچ وفکر خالص برصغیر کی ہے۔
دعا کی قبولیت کے جو خاص مواقع ہیں ان میں بھی فرض نماز کے بعد کا ذکر نہیں ہے۔
تو آپ اذان و اقامت،تہجد کے آخری وقت،بارش کے وقت،مرغ جب بولے یا سجدے کی حالت میں تو تب دعا کا اہتمام کر لیا کریں یہ چند خاص مواقع ہیں جن میں دعا قبول ہونے کے زیادہ چانس ہوتے ہیں ۔
باقی آپ دن ،رات میں جب چاہیں رب العالمین سے مانگیں دعائیں کریں درست عمل ہے۔
مگر ایک الگ سے سوچ و فکر قائم کر کے کسی وقت اور جگہ کو خاص کر لینا محض ایک تکلف ہے۔
دعا کی اہمیت،فضیلت سب سے زیادہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم جانتے تھے پھر صحابہ کرام رضوان الله تعالی علیھم اجمعین،اور اہل بیت رضی الله عنھم اجمعین جانتے تھے مگر کسی نے بھی اس موقع پر ہاتھ اٹھا کر دعا کی ہو اس کی صراحت کسی صحیح حدیث میں وارد نہیں ہوئی ہے حالانکہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم
اور صحابہ کرام ہم سے کہیں زیادہ دعا کا اہتمام کرتے تھے مگر نماز کے بعد کا اہتمام ان عظیم ہستیوں سے بھی ثابت نہیں ہے۔
باقی مروجہ اجتماعی دعا کے مسئلہ کو سمجھنے کے لئے میرا مفصل جواب العلماء ویب سائٹ کے سوال 5915 پر ملاحظہ کریں
فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ
وعلیکم السلام و رحمة الله و برکاته
نمازوں کے بعد دعاؤں کا جواز ہے، لیکن نمازوں کے بعد دعا کرنے سے بہتر ہے، نماز سے پہلے، اذان اور اقامت کے دوران نماز کریں کیونکہ یہ دعاؤں کی قبولیت کا وقت ہے
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
الدَّعْوَةُ لَا تُرَدُّ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ، فَادْعُوا
اذان اور اقامت کے درمیانی وقت میں کی جانے والی دعاء رد نہیں ہوتی، لہٰذا اس وقت دعاء کیا کرو
[مسند احمد حدیث نمبر : 13357]
نماز کے دوران دعائیں کریں، خصوصی طور پر سجدے میں دعا کریں، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
أَقْرَبُ مَا يَكُونُ الْعَبْدُ مِنْ رَبِّهِ وَهُوَ سَاجِدٌ، فَأَكْثِرُوا الدُّعَاءَ
بندہ سجدے کی حالت میں اپنے رب کی رحمت کے بہت قریب ہوتا ہے، لہٰذا اس میں خوب دعا کرو
[صحیح مسلم حدیث نمبر : 1083]
تشہد میں فرض دعائیں پڑھنے کے بعد دعائیں کریں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خصوصی طور پر دعاؤں کا اختیار دیا ھے، عبداللہ بن مسعود بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ثُمَّ يَتَخَيَّرُ مِنَ الدُّعَاءِ أَعْجَبَهُ إِلَيْهِ فَيَدْعُو
اس کے بعد جو دعا اسے پسند ہو پڑھے
[صحیح البخاري حدیث نمبر : 835]
شیخ الاسلام امام ابن قیم فرماتے ہیں :
وَأَمَّا الدُّعَاءُ بَعْدَ السَّلَامِ مِنَ الصَّلَاةِ، مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ أَوِ الْمَأْمُومِينَ، فَلَمْ يَكُنْ ذَلِكَ مِنْ هَدْيِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْلًا، وَلَا رُوِيَ عَنْهُ بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ وَلَا حَسَنٍ، وَأَمَّا تَخْصِيصُ ذَلِكَ بِصَلَاتَيِ الْفَجْرِ وَالْعَصْرِ، فَلَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ هُوَ وَلَا أَحَدٌ مِنْ خُلَفَائِهِ، وَلَا أَرْشَدَ إِلَيْهِ أُمَّتَهُ، وَإِنَّمَا هُوَ اسْتِحْسَانٌ رَآهُ مَنْ رَآهُ عِوَضًا مِنَ السُّنَّةِ بَعْدَهُمَا، وَاللَّهُ أَعْلَمُ
“سلام پھیرنے کے بعد، قبلہ رخ یا مقتدیوں کی طرف منہ کرکے دعا کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے میں بالکل ثابت نہیں ہے، اور نہ ہی اس بارے میں آپ سے کوئی صحیح یا حسن سند کے ساتھ روایت مروی ہے، اور فجر اور عصر کی نماز کے بعد خاص طور پر اس دعا کو لازم کرنا، نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا، نہ آپ کے خلفائے راشدین میں سے کسی نے، اور نہ ہی آپ نے اپنی امت کو اس کی ہدایت دی۔ یہ تو صرف بعض لوگوں کی اپنی پسند (استحسان) ہے، جسے انہوں نے ان دونوں نمازوں کے بعد سنت (نمازِ سنت) کے بدل کے طور پر اختیار کر لیا
[زاد المعاد : 248/1]
یعنی دعا مانگنے کا محل، مقام، قبولیت کے زیادہ چانس یہ نماز سے پہلے، یا نماز کے دوران ہے۔
نیز فرماتے ہیں
وَالدُّعَاءُ فِي صُلْبِ الْعِبَادَةِ قَبْلَ الْفَرَاغِ مِنْهَا أَفْضَلُ مِنْهُ بَعْدَ الْفَرَاغِ مِنْهَا، وَهَذَا كَمَا كَانَتْ سُنَّتُّهُ فِي دُعَائِهِ فِي الصَّلَاةِ؛ إِذْ كَانَ يَدْعُو فِي صُلْبِهَا، فَأَمَّا بَعْدَ الْفَرَاغِ مِنْهَا، فَلَمْ يَثْبُتْ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يَعْتَادُ الدُّعَاءَ
عبادت کے دوران، اس کے مکمل ہونے سے پہلے دعا کرنا، عبادت ختم ہونے کے بعد دعا کرنے سے زیادہ افضل ہے۔ یہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تھا کہ آپ نماز کے اندر دعا فرمایا کرتے تھے۔ البتہ نماز سے فارغ ہونے کے بعد آپ کا دعا کو اپنا مستقل معمول بنانا کسی صحیح دلیل سے ثابت نہیں ہے۔
[زاد المعاد : 263/2]
نماز کے بعد مسنون اذکار اور دعائیں الگ ہیں، مسنون دعائیں اور اذکار کرنے کے بعد بھی اگر کوئی دعا کرنا چاہتا ہے تو کرسکتا ہے۔
“نماز کے بعد انفرادی طور پر دعاؤں کا جواز”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے بعد اذکار سکھائے ہیں
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا
يَا مُعَاذُ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ، فَقَالَ: أُوصِيكَ يَا مُعَاذُ لَا تَدَعَنَّ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ تَقُولُ: اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ”، وَأَوْصَى بِذَلِكَ مُعَاذٌ الصُّنَابِحِيَّ، وَأَوْصَى بِهِ الصُّنَابِحِيُّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ
اے معاذ! قسم اللہ کی، میں تم سے محبت کرتا ہوں، قسم اللہ کی میں تم سے محبت کرتا ہوں“، پھر فرمایا: ”اے معاذ! میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں: ہر نماز کے بعد یہ دعا پڑھنا کبھی نہ چھوڑنا:
اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ
اے اللہ! اپنے ذکر، شکر اور اپنی بہترین عبادت کے سلسلہ میں میری مدد فرما
[سنن ابي داؤد حدیث نمبر : 1522]
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقْرَأَ بِالْمُعَوِّذَاتِ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ
مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ میں ہر نماز کے بعد معوذات پڑھا کروں
[سنن ابي داؤد حدیث نمبر : 1523]
نماز کے بعد جو مسنون ازکار سکھائے گئے ہیں، وہ کریں، اسکے بعد آپ رب العالمین سے دعائیں کرسکتے ہیں
وَقَالَ رَبُّكُمُ ادۡعُوۡنِىۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَـكُمۡؕ اِنَّ الَّذِيۡنَ يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ عَنۡ عِبَادَتِىۡ سَيَدۡخُلُوۡنَ جَهَنَّمَ دَاخِرِيۡنَ
اور تمھارے رب نے فرمایا مجھے پکارو، میں تمھاری دعا قبول کروں گا۔ بے شک وہ لوگ جو میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں عنقریب ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے
[سورۃ غافر آیت نمبر : 60]
ھذا ما عندي والله اعلم بالصواب
فضیلۃ العالم حافظ محمد عبداللہ حفظہ اللہ



