سوال 7674
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
علماء کرام صاحب! امید کرتا ہوں آپ خیریت سے ہوں گے۔
میرا ایک سوال ہے کہ نماز ادا کرتے وقت لباس کے حوالے سے شریعت کی کیا ہدایات ہیں؟ اگر کوئی شخص ہاف بازو شرٹ، تنگ لباس، یا ایسا لباس پہن کر نماز ادا کرے جس سے جسم کی ساخت نمایاں ہوتی ہو، تو کیا اس کی نماز ہو جاتی ہے؟
اسی طرح اگر کوئی شخص آدھی شلوار، آدھے ٹراؤزر یا پینٹ وغیرہ پہن کر نماز ادا کرے، تو کیا ایسے لباس میں نماز درست ہو جاتی ہے؟
براہِ کرم اس بارے میں قرآن و سنت کی روشنی میں ہماری رہنمائی فرمائیں اور یہ بھی نصیحت فرمائیں کہ نماز کے وقت ہمیں کس طرح کا لباس اختیار کرنا چاہیے، تاکہ ہم اپنی نماز بھی درست طریقے سے ادا کریں اور اللہ تعالیٰ کے سامنے ادب و احترام کے ساتھ کھڑے ہوں۔
جزاکم اللہ خیراً کثیراً
جواب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
دیکھیں،
﴿خُذُوا زِينَتَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍ﴾
کے مطابق کامل، مکمل اور اچھے سے اچھا لباس پہن کر مسجد میں آنا چاہیے۔ یہ شرعی فیصلہ ہے۔
مرد کا ستر ناف سے لے کر گھٹنے تک ہے، اور پورا حصہ آگے، پیچھے، دائیں اور بائیں سے ڈھانپنا ضروری ہے۔ کم از کم اتنا لباس نماز کے لیے فرض ہے۔ گھٹنا بھی ستر میں شامل ہے، اس لیے اسے ڈھانپنا ضروری ہے۔
اگر اللہ تعالیٰ نے سہولت دی ہے تو بلاوجہ آدھے ٹراؤزر(چڈیاں) اور بنیانیں پہن کر مسجد آنے والوں کو روکنا اور سمجھانا چاہیے۔ ہاف بنیان میں نماز تو ہو جاتی ہے، لیکن یہ چپکے ہوئے کپڑے ہیں اور لباس کے مقصد کے خلاف ہیں۔
لہٰذا ایسے لباس سے، بالخصوص نماز کے موقع پر، بچنا چاہیے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




