سوال 7333
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
رکعتیں بعد العصر۔ اس کی جو علماء رسول الله صلی اللّٰه علیه وسلم کے ساتھ تخصیص کرتے ہیں۔
ان کے دلائل کیا ہیں؟
جواب
السلام علیکم ورحمة الله وبرکاته عصر کے بعد دو نوافل ادا کرنا صحیح ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سمیت صحابہ بھی یہ نوافل پڑھا کرتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے یہ نوافل کبھی نہیں چھوڑے
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جس دن بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم عصر کے بعد میرے ہاں تشریف لاتے تو دو رکعت ضرور پڑھتے تھے۔
(صحيح البخاري حدیث نمبر : 593)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت نماز پڑھنے سے منع کیا ہے وہ عین عصر کے بعد کا وقت نہیں ہے بلکہ اس وقت ہے جب سورج زرد ہوجائے
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عصر کے بعد (نفلی) نماز پڑھنے سے منع فرما دیا، ہاں ! جب سورج بلند ہو، تو پڑھ سکتے ہیں
(سنن ابي داود حدیث نمبر : 1274)
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
تم سورج کے طلوع اور غروب کے وقت نماز نہ پڑھو کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع اور غروب ہوتا ہے، اس کے درمیان جتنی چاہو نماز پڑھو
(مسند ابي يعليٰ حدیث نمبر : 4612)
یعنی مطلقاً عصر کے بعد نوافل ادا کرنا منع نہیں،
عاصم بن ضمرہ کہتے ہیں، ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک سفر میں تھے، آپ رضی اللہ عنہ نے ہمیں عصر کی دو رکعتیں پڑھائیں، پھر اپنے خیمے میں داخل ہو کر دو رکعتیں ادا کیں، میں یہ منظر دیکھ رہا تھا
(السنن الكبريٰ للبيهقي : 459/2)
سیدنا عمرؓ اس شخص کو مارتے تھے جو شخص یہ دو رکعات ادا کرتا تھا، اس کی وجہ بھی حدیث میں واضح ہے
میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ کیسے نماز پڑھتے تھے؟ کہا: آپ ﷺ ظہر کی نماز پڑھتے، اس کے بعد دو رکعت پڑھتے، پھر عصر کی نماز پڑھتے، اس کے بعد بھی دو رکعت پڑھتے۔ عرض کیا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تو ان دو رکعت پر مارتے اور ان سے منع کرتے تھے، کہنے لگیں: خود سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یہ دو رکعت پڑھتے تھے اور جانتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ بھی یہ دو رکعت پڑھتے تھے، لیکن آپ کی دیندار قوم کے افراد ناسمجھ تھے۔ وہ ظہر کے بعد عصر تک نماز پڑھتے رہتے، پھر عصر کے بعد مغرب تک نوافل پڑھتے رہتے۔ اس وجہ سے عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں مارا اور یہ آپ نے اچھا کیا
(مسند السراج حدیث نمبر : 1530)
فضیلۃ العالم حافظ محمد عبداللہ حفظہ اللہ
الله يبارك فيك ويرضيك
اس مسئلہ میں بہت تفصیل ہے
اور ایک سے زائد موقف ہیں
راجح یہی ہے کہ عصر کے بعد سببی نماز کے علاوہ نماز پڑھنے کی ممانعت ہے اور ممانعت والی احادیث صحت کے اعتبار سے زیادہ ہیں اور ان کے رجال ثقات حفاظ ہیں اور خاص طور پر روایات صحیحین کی ہیں
جن میں مطلقا ممانعت ہے۔
رہا عمل نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا تو وہ عصر کے بعد وہ دو رکعت ادا کیں جو ظہر کی نماز کے بعد دو ادا کرنے سے رہ گئے اور معلوم ہے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم جس عمل کو شروع کرتے پھر اس پر دوام اختیار کرتے تھے اور ان دو رکعت کو اہل علم و شارحین حدیث نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا خاصہ قرار دیا ہے
رہا سیدنا علی کا عمل تو ان سے اس کے مخالف بھی روایت سنن أبو داود،مصنف ابن أبی شیبہ میں موجود ہے ۔
اور جمہور سلف صالحین وائمہ
کا مؤقف ہی صواب ہے
صحیحین وغیرہ کی صریح احادیث یہی بتاتی ہیں ۔
مثلا:
امام ترمذی کہتے ہیں:
ﻭاﻟﺬﻱ اﺟﺘﻤﻊ ﻋﻠﻴﻪ ﺃﻛﺜﺮ ﺃﻫﻞ اﻟﻌﻠﻢ ﻋﻠﻰ ﻛﺮاﻫﻴﺔ اﻟﺼﻼﺓ ﺑﻌﺪ اﻟﻌﺼﺮ ﺣﺘﻰ ﺗﻐﺮﺏ اﻟﺸﻤﺲ، ﻭﺑﻌﺪ اﻟﺼﺒﺢ ﺣﺘﻰ ﺗﻄﻠﻊ اﻟﺸﻤﺲ، ﺇﻻ ﻣﺎ اﺳﺘﺜﻨﻲ ﻣﻦ ﺫﻟﻚ، ﻣﺜﻞ اﻟﺼﻼﺓ ﺑﻤﻜﺔ ﺑﻌﺪ اﻟﻌﺼﺮ ﺣﺘﻰ ﺗﻐﺮﺏ اﻟﺸﻤﺲ، ﻭﺑﻌﺪ اﻟﺼﺒﺢ ﺣﺘﻰ ﺗﻄﻠﻊ اﻟﺸﻤﺲ ﺑﻌﺪ اﻟﻄﻮاﻑ ﻓﻘﺪ ﺭﻭﻱ ﻋﻦ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﺭﺧﺼﺔ ﻓﻲ ﺫﻟﻚ
ﻭﻗﺪ ﻗﺎﻝ ﺑﻪ ﻗﻮﻡ ﻣﻦ ﺃﻫﻞ اﻟﻌﻠﻢ ﻣﻦ ﺃﺻﺤﺎﺏ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ، ﻭﻣﻦ ﺑﻌﺪﻫﻢ.
ﻭﺑﻪ ﻳﻘﻮﻝ اﻟﺸﺎﻓﻌﻲ، ﻭﺃﺣﻤﺪ، ﻭﺇﺳﺤﺎﻕ.
ﻭﻗﺪ ﻛﺮﻩ ﻗﻮﻡ ﻣﻦ ﺃﻫﻞ اﻟﻌﻠﻢ ﻣﻦ ﺃﺻﺤﺎﺏ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ، ﻭﻣﻦ ﺑﻌﺪﻫﻢ اﻟﺼﻼﺓ ﺑﻤﻜﺔ ﺃﻳﻀﺎ ﺑﻌﺪ اﻟﻌﺼﺮ، ﻭﺑﻌﺪ اﻟﺼﺒﺢ.
ﻭﺑﻪ ﻳﻘﻮﻝ ﺳﻔﻴﺎﻥ اﻟﺜﻮﺭﻱ، ﻭﻣﺎﻟﻚ ﺑﻦ ﺃﻧﺲ، ﻭﺑﻌﺾ ﺃﻫﻞ اﻟﻜﻮﻓﺔ.
سنن ترمذی تحت:(184)
والله أعلم بالصواب
فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ



