سوال 7308

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
نماز جنازہ میں دوسری اور تیسری تکبیر کے بعد ہاتھ باندھنے کی دلیل درکار ہے؟

جواب

وعلیکم السلام و رحمة الله و برکاته
کوئی خاص دلیل تو نہیں، عمومی دلائل ہی ہیں، سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

كَانَ النَّاسُ يُؤْمَرُونَ أَنْ يَضَعَ الرَّجُلُ اليَدَ اليُمْنَى عَلَى ذِرَاعِهِ اليُسْرَى فِي الصَّلَاةِ

“لوگوں کو حکم دیا جاتا تھا کہ نماز میں آدمی اپنا دایاں ہاتھ بائیں بازو پر رکھے۔”
[صحیح البخاري حدیث نمبر : 740]
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ نبی ﷺ نماز میں اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھتے تھے۔
[سنن نسائي حدیث نمبر : 888]
نیز بعض لوگ اس طرح کے عمومی دلائل کو رکوع کے بعد ہاتھ باندھنے کی دلیل پیش کرتے ہیں، یہ استدلال درست نہیں، کمزور ہے، جسکی کئی ایک وجوہات ہیں، المقصود کے احادیث میں لفظ الصلاۃ استعمال ہوا ہے جو تمام نمازوں کو شامل ہے۔
ھذا ما عندي والله اعلم بالصواب

فضیلۃ العالم حافظ محمد عبداللہ حفظہ اللہ