سوال 7453

نماز وتر کا صحیح طریقہ بتا دیں؟ مثلا تین وتر پڑھنے ہوں تو کیسے پڑھیں گے؟
بارک اللہ

جواب

ایک، تین، پانچ، سات، نو، گیارہ…؟
تعداد کے لحاظ سے الگ لگ طریقے مروی ہیں۔
تین وتر پڑھنے کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ دو رکعات ادا کر کے سلام پھیر دیں اور ایک رکعت الگ ادا کریں، یہی طریقہ رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عشاء کی نماز سے جس کو لوگ عتمہ کہتے ہیں فراغت کے بعد سے فجر تک گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے ہر دو رکعت پر سلام پھیرتے اور وتر ایک رکعت پڑھتے
[صحیح مسلم حدیث نمبر: 1718]
ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ دو رکعت (شفع) اور ایک رکعت (وتر) کے درمیان سلام پھیر کر ان کو الگ کر دیتے تھے اور ہم اس سلام کو سن لیتے تھے
[الإحسان في تقريب صحيح ابن حبان : 2435]
نیز جن روایات میں تین وتر اکٹھے پڑھنے کا ذکر ہے ان کی سند میں ضعف ہے لہٰذا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ دو الگ اور ایک الگ رکعت پڑھنا ہے۔
اکٹھے تین وتر ایک سلام سے پڑھنا رسول اللہ ﷺ سے ثابت نہیں، البتہ صحابہ سے آثار مروی ہیں
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

دَفَنَّا أَبَا بَكْرٍ لَيْلًا فَقَالَ عُمَرُ : إِنِّي لَمْ أُوتِرْ فَقَامَ وَصَفَفْنَا وَرَاءَهُ فَصَلَّى بِنَا ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ لَمْ يُسَلِّمْ إِلَّا فِي آخِرِهِنَّ

سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی تدفین رات کو ہوئی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے وتر رہ گئے تھے، آپ وہ پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے، تو ہم نے آپ کے پیچھے صف بنا لی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے تین وتر پڑھائے اور آخر میں سلام پھیرا
(شرح معاني الآثار للطحاوي : 393/1)
ثابت بنانی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:

صَلَّى بِي أَنَسٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الْوِتْرَ أَنَا عَنْ يَمِينِهِ وَأُمُّ وَلَدِهِ خَلْفَنَا ، ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ ، لَمْ يُسَلِّمْ إِلَّا فِي آخِرِهِنَّ ، ظَنَنْتُ أَنَّهُ يُرِيدُ أَنْ يُعَلِّمَنِي

سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے مجھے تین وتر پڑھائے۔ میں ان کی دائیں جانب تھا اور ان کی لونڈی ہمارے پیچھے تھی۔ آپ نے صرف آخر میں سلام پھیرا، شاید مجھے سکھانا چاہ رہے تھے
(شرح معاني الآثار للطحاوي : 294/1)
ثابت بنانی رحمہ اللہ ہی بیان کرتے ہیں:

إِنَّهُ أَوْتَرَ بِثَلَاثٍ لَمْ يُسَلِّمْ إِلَّا فِي آخِرِهِنَّ

سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے تین وتر پڑھے اور آخر میں سلام پھیر
(مصنف ابن ابی شیبه : 294/2)
ھذا ما عندي والله اعلم بالصواب

فضیلۃ العالم حافظ محمد عبداللہ حفظہ اللہ