سوال 7521
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
اساتذہ کرام اور مشائخ عظام سے سوال ہے کہ نمازی کے آگے سے کتنے فاصلے تک گزرا جا سکتا ہے مطلب یہ ہے کہ نمازی جو نماز پڑھ رہا ہے اس کے آگے سترہ نہ پڑھا ہے تو اس کے سجدہ والی جگہ سے کتنے فاصلے پر گزرا جا سکتا ہے؟
جزاکم اللّٰہ خیراً کثیرا
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
نمازی کے آگے سے کتنے فاصلے سے گزرا جا سکتا ہے یا نہیں، اس سلسلے میں مشہور اختلاف ہے اور غالباً اس حدیث سے استدلال کیا جاتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اگر نمازی کے آگے سے، سترہ کے درمیان کوئی گزرے تو اسے روکو۔
بعض لوگ کہتے ہیں کہ جب ایک مصلے کے آگے سے گزرنے سے روکا نہیں جا سکتا تو اس کے بعد فاصلے سے گزرنے کی گنجائش ہوگی۔ لیکن یہ بات بھی واضح ہے کہ نبی کریم ﷺ نے نمازی کو حکم دیا کہ اپنے آگے سترہ رکھ کر نماز پڑھے تاکہ اس کی نماز خراب نہ ہو۔ ورنہ جن چیزوں سے نماز منقطع ہوتی ہے، ان کا تذکرہ بھی احادیث میں موجود ہے۔
پھر یہ بات کہ ایک مصلیٰ یا چند مصلے چھوڑ کر گزرنے سے کوئی حرج نہیں ہے، ایسی کوئی واضح حدیث ہمارے سامنے نہیں۔ بلکہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اگر نمازی کے آگے سے گزرنے والے کو معلوم ہو جائے کہ اس پر کتنا وبال اور گناہ ہے، تو وہ چالیس سال تک کھڑا رہنا اس بات سے آسان سمجھے گا کہ نمازی کے آگے سے گزرے۔
اگر فاصلے سے گزرنے کی گنجائش ہوتی تو نبی کریم ﷺ یہ فرماتے کہ دو، تین مصلے چھوڑ کر یا ایک میل دور سے گزر جائے۔ لیکن گزرنے کا تو اس طرح ذکر ہی نہیں ہے، بلکہ فرمایا کہ نمازی کے آگے سے نہ گزرے۔
لہٰذا بہرحال صورتِ احتیاط اسی میں ہے کہ نمازی کے آگے سے جتنا بھی فاصلہ ہو، احتیاط کی جائے اور اس کے آگے سے نہ گزرا جائے۔ بلکہ کوشش کرے کہ کچھ وقت انتظار کر لے اور نمازی کو سلام پھیر لینے دے، سوائے مجبوری کے۔
حرمین شریفین میں اس کی صورت کچھ مختلف ہو جاتی ہے، کیونکہ وہاں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں انسان ہوتے ہیں، بالخصوص حج اور رمضان کے مواقع پر، بلکہ عام دنوں میں بھی ہزاروں کی تعداد میں نمازی نماز پڑھ رہے ہوتے ہیں۔ اکثر لوگ دنیا کے مختلف حصوں سے آئے ہوئے ہوتے ہیں، جنہیں اتنے مسائل کا علم نہیں ہوتا۔ وہ بیچ میں ہی کھڑے ہو کر فرض نماز پڑھنے کے بعد وہیں سنتیں شروع کر دیتے ہیں۔
تو اس لیے بعض لوگ امرِ مجبوری سمجھ کر نمازی کے آگے سے گزرنے کو جائز سمجھ لیتے ہیں، جبکہ امرِ مجبوری ایک الگ چیز ہے۔ بلاوجہ نمازی کے آگے سے نہیں گزرنا چاہیے اور جہاں تک ہو سکے احتیاط کرنی چاہیے۔
واللہ اعلم بالصواب۔
فضیلۃ الشیخ عبد الحنان سامرودی حفظہ اللہ
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ایک بات یہ ہے کہ حدیث میں چالیس سال کا ذکر آیا ہے، چالیس میل کا نہیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ سترہ رکھنے کے جو الفاظ ہیں، ان میں “بین یدیہ” آیا ہے، یعنی نمازی اپنے آگے سترہ رکھے۔ اور گزرنے کی ممانعت میں بھی “بین یدیہ” ہی کے الفاظ آئے ہیں۔ تو دونوں صورتوں میں ایک ہی تعبیر استعمال ہوئی ہے۔
اب جب بین یدیہ سترہ رکھنے کی باری آتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ سترہ قریب ہی رکھا جائے، سجدے کی جگہ کے پاس رکھا جائے۔ لیکن جب گزرنے کی نوبت آتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ “بین یدیہ” میں تو چار میل بھی شامل ہے۔ تو یہ عجیب بات ہے۔
اچھا، حدیث میں آیا ہے کہ نمازی کے آگے سے گزرنے والے کو روکو۔ تو اسے روکنے کا مطلب کیا ہے؟ ہاتھ سے روکو گے۔ اور اگر ہاتھ سے روکنا ہے تو تم اس کے پیچھے چل کر تو نہیں جاؤ گے، بلکہ جہاں وہ گزر رہا ہے وہیں اسے روکنا ہوگا۔ اس لیے جو بات سمجھ میں آنے والی ہے، وہ یہی ہے کہ جہاں سترہ رکھا جاتا ہے، وہی نمازی کے آگے کی حد ہے۔
اگر کسی نے سترہ نہیں رکھا تو پھر دوسری صف میں گزرنے کی کوئی ممانعت نہیں ہے۔ جو ممانعت ہے وہ “بین یدیہ” ہے، اور بین یدیہ وہی ہے جو سترہ رکھنے کے اعتبار سے نمازی کے آگے ہے۔
لہٰذا اگر آگے بندہ جاتا ہے اور پھر وہاں اسے روکنے کا حکم ہے تو سوال یہ ہے کہ نمازی چل کر جائے گا؟ حدیث میں نمازی کے چل کر جانے کی تو کوئی بات آئی نہیں ہے۔
بہرحال دوسری یا تیسری صف میں سے اگر کوئی گزر جاتا ہے تو ان شاء اللہ تعالیٰ کوئی حرج نہیں ہے۔
فضیلۃ الشیخ مفتی عبد الولی حقانی حفظہ اللہ
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
شیخ! جزاکم اللہ خیراً، بارک اللہ فیکم۔
یقیناً حدیث میں 40 کا ذکر ہے، لیکن ابن ماجہ کی حدیث میں 100 سال کا بھی ذکر ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ چالیس کا ذکر کم از کم چالیس، یا ایک ایسی تعداد کے طور پر ہے جو لمبے عرصے کو ظاہر کرتی ہے۔ چاہے چالیس دن ہو یا آج کی گھڑی کے اعتبار سے کوئی چالیس منٹ کھڑا ہو، اس کے مقابلے میں یہ بات سامنے آتی ہے کہ آدمی نمازی کے آگے سے گزرنے کے لیے جلدی نہ کرے۔
دوسری بات یہ ہے کہ یہ معاملہ عام نہیں ہے، شیخ! اسی لیے اس میں مختلف اقوال ہیں۔ بعض اہلِ علم کہتے ہیں کہ سجدے کی جگہ سے آگے مزید اتنے گز، اتنے ہاتھ، یا تقریباً کنکر پھینکنے کی مقدار تک یہ ممانعت ہے۔ صحیح بخاری میں جیسے ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ منیٰ میں نماز پڑھ رہے تھے اور آپ ﷺ کے آگے سترہ تھا۔ میں نمازیوں کے آگے سے گزرتا ہوا گیا اور اپنی گدھی کو میں نے چرنے کے لیے چھوڑ دیا کہ گھاس چنے لگے۔ پھر میں آ کر صف میں شامل ہو گیا، تو کسی نے مجھے روکا ٹوکا نہیں۔
چونکہ امام کا سترہ مقتدی کا سترہ ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ امام کے ساتھ نماز پڑھنے والے لوگ نہ ہوتے تو پھر لوگ انہیں روکتے ٹوکتے۔ تو وہ بھی ظاہر ہے نماز کی جگہ سے کافی آگے، صفوں کے آگے سے ہوتے ہوئے گئے اور سواری سے اتر کر پھر واپس آئے اور صف میں شامل ہوئے۔
چونکہ اس سلسلے میں ہمارے یہاں نہ تو اتنا رش ہے اور نہ ہی ہمارے ہاں کوئی ایسی مجبوری ہوتی ہے، لیکن سلام پھیرتے ہی، بغیر دیکھے فوراً لوگ نمازیوں کے آگے سے چل پڑتے ہیں۔ بہت زیادہ لاپرواہی، کاہلی اور سستی دیکھنے میں آتی ہے، الا ما شاء اللہ چند افراد ایسے ہوں جو بیٹھے رہیں یا انتظار کر لیں۔
ورنہ تو ایک اٹھا، دوسرا اٹھا، پھر پوری صف ایسے گزرنا شروع ہو جاتی ہے، بے خوف ہو کر نمازیوں کے آگے سے۔
تو بہرحال اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔
بارک اللہ فیکم
فضیلۃ الشیخ عبد الحنان سامرودی حفظہ اللہ
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
سجدے والی جگہ پر نگاہ ہونی چاہیے، چاہے آدمی کھڑا ہو یا رکوع میں ہو۔ چونکہ سجدے کی جگہ پر نگاہ ہوگی، تو ایک قدرتی اور طبعی جو نگاہ کا ہالہ ہے، وہ دو صف بھی بن سکتی ہیں، تین بھی بن سکتی ہیں۔
جہاں تک اس کی طبعی نگاہ کا سرکل ہے، وہاں تک وہ مکلف ہے۔ اس سے آگے کوئی گزرے تو کوئی حرج نہیں۔ یہی بنتا ہے کہ تقریباً ایک صف یا دو صف آگے تک جہاں تک اس کی طبعی نگاہ پہنچتی ہے، وہیں تک وہ مکلف ہے۔
کیونکہ سامنے دیکھنا نہیں ہے، وہ تو التفات میں آ جائے گا۔ البتہ طبعی نگاہ جہاں تک پہنچتی ہے، وہاں تک وہ مکلف ہے۔ اور جہاں تک طبعی نگاہ نہیں پہنچتی، وہاں بھی سجدے کی جگہ پر نگاہ رکھنی ہے، اور اس کا ہالہ جہاں تک محسوس ہوتا ہے، وہاں تک یہ مکلف ہے۔
اس سے آگے کوئی گزرے گا تو یہ مکلف ہی نہیں ہے، کیونکہ اس کی نگاہ تو سجدے والی جگہ پر ہے۔
بارک اللہ فیکم
فضیلۃ الشیخ محمد ادریس اثری حفظہ اللہ
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
شیخ محترم! سجدے کی جگہ دیکھنے والی بات کے حوالے سے کچھ احادیث ایسی بھی ملتی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں نگاہ سامنے کی طرف بھی ہو سکتی ہے۔
مثلاً نبی کریم ﷺ نے منبر پر کھڑے ہو کر نماز پڑھائی اور فرمایا کہ پہلی صف والے مجھے دیکھیں اور دوسری صف والے پہلی صف والوں کو دیکھیں۔ تو گویا نگاہ سامنے کی طرف، دیوار کی طرف پڑ سکتی ہے۔ بلکہ دیکھنا نبی کریم ﷺ سے احادیث میں بھی ثابت ہے۔
جیسے صلاۃُ الکسوف کے موقع پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ قبلے کی طرف دیکھتے ہوئے میں نے جنت اور جہنم کو دیکھا۔ اگر سجدے کی جگہ ہی پر نگاہ ہوتی تو آپ ﷺ فرماتے کہ میں نے اپنے مصلے پر دیکھا۔ اسی طرح اس طرح کے اور بھی آثار ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں نگاہ سامنے کی طرف ہوتی ہے۔
اسی طرح نبی کریم ﷺ گھر میں نماز پڑھ رہے تھے اور ایک پردہ ہل رہا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ پردہ بار بار مجھے نماز میں متوجہ کر رہا ہے، اسے بھی ہٹاؤ۔ تو ان احادیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں سامنے کی طرف دیکھنے کی گنجائش ہے۔
لہٰذا اگر سجدے کی جگہ پر ہی نگاہ رکھنا مراد یہ ہو کہ انسان اپنے آگے بالکل نہ دیکھے، تو پھر یہ بات ان احادیث سے مطابقت نہیں رکھتی۔ نبی کریم ﷺ نے منبر پر کھڑے ہو کر نماز پڑھائی، پہلی صف والوں کو آپ ﷺ کو دیکھنے کا فرمایا، اور خود بھی نماز میں سامنے کی طرف دیکھنے کی مثالیں موجود ہیں۔
بہرحال دیکھنے کی بات تو اپنی جگہ، لیکن نمازی کے آگے سے گزرنے کے حوالے سے اگر اس کا تعلق اس بات سے ہے کہ انسان کی نگاہ کہاں تک جاتی ہے، تو پھر بہتر یہی ہے کہ آگے دیوار ہو۔
اور ہمارے ہاں ایک رجحان یہ بھی ہے کہ فرائض کے ساتھ ساتھ سنتیں بھی مسجد میں ہی ادا کی جاتی ہیں، بلکہ وضو بھی لوگ مسجد میں کرتے ہیں۔ حالانکہ اس فضیلت سے اکثر لوگ یا تو کاہلی کرتے ہیں یا اس طرف توجہ نہیں کرتے کہ گھر سے وضو کرکے چلیں؛ ایک قدم پر کتنا اجر و ثواب ہے۔
سنتیں بھی گھر سے پڑھ کر جائیں اور بعد والی سنتیں بھی گھر پر آ کر ادا کریں۔ کچھ نمازوں کا گھر پر بھی اہتمام کرنا چاہیے، تاکہ مساجد میں سترے کا یہ مسئلہ کافی حد تک کم ہو سکے۔
ظاہر ہے، اگر دیوار ایک صف کے آگے ہو تو درمیان میں بہت سے نمازی ہوتے ہیں، ستون بھی بہت کم ہوتے ہیں اور جو سترے رکھے ہوئے ہوتے ہیں وہ بھی اتنی مقدار میں نہیں ہوتے۔
لہٰذا اگر سب لوگ اپنے گھروں کو لوٹ کر سنتیں پڑھیں تو نمازی کے آگے سے گزرنے کا مسئلہ کافی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔
جزاکم اللہ خیراً
فضیلۃ الشیخ عبد الحنان سامرودی حفظہ اللہ




