سوال 7547

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
شیخ محترم سوال تھا کہ نقصان پہنچانے والی بلی کو کیا مار سکتے ہیں؟

جواب

وعلیکم السلام و رحمة اللہ وبرکاتہ
اگر کوئی بلی خون خوار ہے اور گھر کا نقصان کرتی ہے تو اسے مارنے کے بجائے پکڑ کر کسی دور دراز علاقہ میں چھوڑ دیا جائے تاکہ وہ اپنا ٹھکانہ بدل لے لیکن اسے قتل کرنے سے گریز کیا جائے۔

فضیلۃ الباحث کامران الہی ظہیر حفظہ اللہ

سائل: جی کئی مرتبہ اسے دور دراز علاقوں میں چھوڑ کر آئے ہیں پھر واپس آجاتی ہے اور مرغیاں کھا جاتی ہے؟
جواب: وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
ہمارے دانست میں اگر ایسی بلی ہو جو موذی بن گئی ہو اور مسلسل ایذاء کا سخت سبب بن رہی ہو تو ایسی صورت میں اس سے نجات حاصل کرنے کی گنجائش ہے۔ البتہ اس معاملے میں مناسب اور مؤثر طریقہ اختیار کیا جائے، اور اگر کوئی ایسا طریقہ کھانے میں دوائی ڈال کر ہو، جس سے وہ تلف ہو جائے تو وہ اختیار کیا جا سکتا ہے، جیسے کتوں کے بہت زیادہ موذی یا نقصان دہ ہو جانے کی صورت میں انہیں زہر دیے جانے کی مثال دی جاتی ہے۔
لیکن اس طرح کے معاملات کو زیادہ اچھالنا نہیں چاہیے، کیونکہ لوگ سارے ہی مفتی ہوتے ہیں، پھر وہ اپنے اپنے حساب سے آپ پر فتوے بازی شروع کر دیں گے۔
واللہ اعلم

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته
نقصان تو پھر انسان بھی پہنچاتے رہتے ہیں تو کیا پھر انہیں قتل کر دیا جائے گا ۔
بلی کے متعلق حکمت بھرا رویہ اختیار کیا جائے گا
کہ اسے پکڑ کر کسی ویران جگہ یا جنگل میں چھوڑ آئیں یہی معاملہ آوارہ کتوں کا ہے۔
ہاں کتا بوولا ہو گیا ہے تو اسے مار سکتے ہیں کہ اس کے کاٹنے سے انسان پاگل ہو سکتا ہے یا خطرناک وائرس کا شکار ہو سکتا ہے جیسا کہ مشاہدہ میں ایسے واقعات آ چکے ہیں ۔

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ

السلام علیکم!
میں اس میں اضافہ کروں گا کہ بلی کو پکڑ کر اس کی آنکھوں پر پٹی باندھ دیں۔ جب آپ اسے کھلے عام لے کر جائیں گے تو واپسی کے راستے دیکھ لے گی۔ وہ شاید آپ نے لطیفہ نہیں سنا کہ ایک سردار جی بلی کو بار بار دور چھوڑ کر آتے تو وہ پھر واپس آ جاتی، پھر چھوڑ کر آتے پھر واپس آ جاتی۔ آخر ایک دن بہت دور چھوڑ کر آئے۔ تو گھر فون کیا آتے ہوئے، تو بیگم نے کہا وہ تو پہنچ چکی ہے۔ تو سردار جی کہنے لگے اب اس کو بھیجو میں راستہ بھول گیا ہوں۔ یہ ذاتی تجربے کی روشنی میں میں آپ کو بتا رہا ہوں کہ جب آپ بلی کو کسی ہوا والے ڈبے وغیرہ میں بند کر دیں گے یا کسی بوری میں بند کر دیں گے جہاں سے وہ باہر نہ دیکھ سکے تو اس کے بعد آپ اس کو دو چار کلومیٹر دور جہاں راستے میں کئی موڑ آتے ہوں، چھوڑ دیں گے تو وہ واپس نہیں آ سکے گی، ان شاء اللہ

فضیلۃ الشیخ عبد الرزاق زاہد حفظہ اللہ

اگر بلی کو پیدل چل کر کہیں چھوڑیں گے تو وہ آپ کے قدموں کی بو سونگھ کر واپس ا جائے گی لیکن اگر گاڑی وغیرہ پر لے جا کر کہیں چھوڑیں۔ گے تو واپس نہیں آئے گی۔

فضیلۃ العالم احسان الحق حفظہ اللہ

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
بلی کا معاملہ تاحال حل نہیں ہوا ہے۔ بلی کو چھوڑ کر بھی دیکھ لیا، آنکھ بند کرکے چھوڑنے کی بات بھی شیخِ محترم نے فرما دی تھی، اور پیدل چل کر قدموں کی بو سونگھ کر واپس آنے کی بات بھی ہوگئی۔
تو اب ایک ہی پہلو رہ جاتا ہے کہ بلی آزمائش بن گئی ہے، باعثِ فتنہ بن گئی ہے، تو اسے تلف کیا جا سکتا ہے، اسے ختم کیا جا سکتا ہے۔
اگرچہ انسان اور جانور کے احکامات میں فرق ہے، لیکن انسان بھی اگر آزمائش کا باعث بن جائے اور فتنے میں پڑ جائے، بلکہ «الفتنة أشد من القتل»، تو پھر اہلِ علم جانتے ہیں کہ فتنہ پرور انسان بھی واجب القتل ہو جاتا ہے۔
تو جانور اور انسان کے احکامات میں ویسے بھی فرق ہے۔ کوئی صورت نہ رہے تو بلی کو تلف کیا جا سکتا ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ