تلخ ترین الوداع
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”پیر کا دن تھا، نبی کریم ﷺ نے پردہ اٹھا کر دیکھا کہ لوگ ابو بکر رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں نماز پڑھ رہے ہیں۔ میں نے آپ کے رخ انور کو دیکھا، گویا مصحف کا ورق ہو۔ یہ آخری دیدار تھا۔ دن ڈھلنے کے ساتھ آپ چل بسے“۔
[صحيح البخاري:680 ، شمائل الترمذي:385]
“اے معاذ! ہو سکتا ہے کہ اگلے سال (جب تم یمن سے لوٹو) تو مجھے مل نہ سکو، اور شاید تم میری مسجد اور میری قبر کے پاس سے گزرو…”
[مسند أحمد: 22054 / صححه الألباني والوادعي]
جب نبی کریم ﷺ دفن کر دیے گئے تو فاطمہ رضی اللہ عنہا نے انس رضی اللہ عنہ سے کہا:”انس! تمہارے دل رسول اللہ ﷺ کے جسم اطہر پر مٹی ڈالنے کے لیے کس طرح آمادہ ہو گئے تھے۔”
[صحيح البخارى، الرقم: 4462]
أبو ذؤيب الهذلي فرماتے ہیں کہ میں مدینہ پہنچا تو ہر طرف آہوں اور سسکیوں کا سماں تھا۔میں نے پوچھا کیا ماجرا ہے؟ لوگ کہنے لگے!”اللہ کے رسول ﷺ رخصت ہو گئے ہیں!”
[معرفة الصحابة لأبي نعيم:6778]
عبدالرحمن الصنابحیؒ فرماتے ہیں کہ ہم یمن سے نکلے تاکہ رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوں۔ جب جحفہ پہنچے تو ایک سوار نے خبر دی کہ ہم پانچ راتیں قبل اللہ کے رسول ﷺ کو دفنا چکے ہیں۔
[سير أعلام النبلاء للذهبي:505/3]

