تنگی و آزمائش کے وقت بہ کثرت ذکر کرنا

⇚ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا لَقِیۡتُمۡ فِئَۃً فَاثۡبُتُوۡا وَ اذۡکُرُوا اللّٰہَ کَثِیۡرًا لَّعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ﴾.

’’اے ایمان والو! جب تم کسی گروہ سے میدان جنگ میں ٹکراؤ تو ثابت قدم رہو اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرو تاکہ تم کامیاب ہو سکو۔‘‘ [سورة الأنفال ٤٥]

شیخ محمد امین شنقیطی رحمہ اللہ (١٣٩٤هـ) فرماتے ہیں:
’’سب سے تنگ وقت یعنی جنگ کے عین درمیان اللہ کے ذکر کی کثرت کا حکم دینا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ مسلمان کو ہر حال میں، خصوصاً تنگی اور مصیبت کے وقت، اللہ کا ذکر کثرت سے کرنا چاہیے۔ اور جو اپنے محبوب سے سچا محبت کرنے والا ہو، وہ مصائب کے نزول کے وقت اپنے محبوب کو نہیں بھولتا۔‘‘
(أضواء البیان : ٢/ ١٠٢)

🖋 ۔۔۔۔ حافظ محمد طاہر حفظہ اللہ