عظیم محقق و ماہرِ مخطوطات شیخ محمد عزیر شمس رحمہ اللہ کا مختصر تعارف

علمی دنیا میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کی عظمت کا اندازہ ان کی شہرت سے نہیں بلکہ ان کے علمی آثار تحقیقی خدمات اور علمی امانت سے ہوتا ہے۔ وہ اپنی زندگی کا بڑا حصہ کتابوں مخطوطات قدیم مصادر اور علمی ذخائر کے درمیان خاموشی سے گزار دیتی ہیں مگر ان کی یہ خاموش محنت آنے والی نسلوں کے لیے ایسا علمی سرمایہ چھوڑ جاتی ہے جس سے مدتوں اہلِ علم استفادہ کرتے رہتے ہیں۔ شیخ محمد عزیر شمس رحمہ اللہ بھی انہی نابغہ روزگار اہلِ علم میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ عالمِ دین، محقق، مصنف، مترجم، مؤرخ اور ادیب ہونے کے ساتھ بالخصوص مخطوطات کی تلاش شناخت تحقیق و تدوین اور تراثِ اسلامی کی بازیافت میں نمایاں مقام رکھتے تھے۔ آپ کی علمی زندگی کا ایک بڑا حصہ امام ابن تیمیہ امام ابن قیم الجوزیہ اور علامہ عبد الرحمن المعلمی یمانی رحمہم اللہ کے علمی ذخائر کو تحقیق و تدوین کے اعلیٰ معیار کے ساتھ اہلِ علم تک پہنچانے میں صرف ہوا۔ آپ کی خصوصیت یہ تھی کہ کسی قدیم کتاب کی محض اشاعت پر اکتفا نہیں کرتے تھے بلکہ مختلف قلمی و مطبوعہ نسخوں مصادر حوالہ جات اقتباسات اور تاریخی پس منظر کا باریک بینی سے جائزہ لے کر متن کو حتی الامکان مستند اور قابلِ اعتماد صورت میں پیش کرتے تھے۔

نام، نسب اور ولادت:
آپ کا نام محمد عزیر بن شمس الحق بن رضا اللہ تھا۔ آپ کا آبائی تعلق ضلع مدھوبنی بہار کے معروف گاؤں بلکٹوا سے تھا اور آپ ایک علمی و دینی خانوادے میں پروان چڑھے جہاں علم تدریس دعوت اور اصلاح کی روایت نسل در نسل منتقل ہوتی رہی۔ آپ کے والد محترم مولانا شمس الحق سلفی رحمہ اللہ (وفات: 1986ء) اپنے عہد کے جلیل القدر عالم اور مدرس تھے جبکہ آپ کے چچا مولانا عین الحق سلفی رحمہ اللہ (وفات: 1982ء) بھی علم و فضل کے حامل تھے۔ آپ کے نانا مولانا عبد الرحیم بیر بھومی رحمہ اللہ (وفات: 1960ء) اپنے زمانے کے معروف عالم اور محدث تھے اور انہوں نے سید نذیر حسین محدث دہلوی رحمہ اللہ سے استفادہ کیا تھا۔شیخ محمد عزیر شمس رحمہ اللہ کی ولادت 11 جمادی الاولیٰ 1376ھ مطابق 15 دسمبر 1956ء کو مغربی بنگال کے ضلع مرشد آباد کے علاقے صالح ڈانگہ میں ہوئی جہاں اُس وقت آپ کے والد تدریسی خدمات انجام دے رہے تھے۔

تعلیم و تربیت:
شیخ عزیر شمس رحمہ اللہ نے ابتدائی تعلیم 1966ء میں مدرسہ فیض عام مئو سے شروع کی۔ بعد ازاں مختلف علمی مراکز سے استفادہ کیا جن میں:
– دار العلوم احمدیہ سلفیہ دربھنگہ
– مدرسہ دار الحدیث مرشد آباد
– جامعہ رحمانیہ بنارس
– جامعہ سلفیہ بنارس
-جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ
-جامعہ ام القریٰ مکہ مکرمہ

1976ء میں جامعہ سلفیہ بنارس سے فراغت کے بعد آپ کا علمی سفر حرمین شریفین تک پہنچا۔ فروری 1978ء میں جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کے کلیۃ اللغۃ العربیۃ میں داخلہ لیا اور 1981ء میں بی اے کی ڈگری حاصل کی۔
اس کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے جامعہ ام القریٰ مکہ مکرمہ تشریف لے گئے اور 1985ء میں ماجستیر کی سند حاصل کی۔ آپ کا تحقیقی مقالہ:
«التأثير العربي في شعر حالي ونقده»
کے عنوان سے تھا جس میں الطاف حسین حالی کی مشہور مسدس کا عربی ترجمہ بھی شامل تھا۔بعد ازاں آپ نے پی ایچ ڈی کے لیے:
«الشعر العربي في الهند: دراسة نقدية»
کے عنوان سے تحقیقی کام کیا۔ تاہم بعض علمی و انتظامی اختلافات کے باعث اس مقالے کا مناقشہ نہ ہو سکا اور رسمی ڈاکٹریٹ کی سند حاصل نہ ہوسکی۔ اگرچہ یہ مقالہ رسمی طور پر پی ایچ ڈی کی سند کا ذریعہ نہ بن سکا تاہم علمی و تحقیقی اعتبار سے یہ کام آپ کے عربی ادب اور ہندوستانی عربی شاعری سے گہرے شغف کی عکاسی کرتا ہے۔ آپ نے اپنی زندگی میں رسمی اسناد سے بڑھ کر علم تحقیق اور علمی خدمت کو اہمیت دی۔

ہندوستان میں اساتذہ کرام:
شیخ محمد عزیر شمس رحمہ اللہ نے ہندوستان کے متعدد جلیل القدر اہلِ علم سے استفادہ کیا۔ ان میں:
– مولانا شمس الحق سلفی رحمہ اللہ
– مولانا عین الحق سلفی رحمہ اللہ
– مولانا نور عظیم ندوی رحمہ اللہ
– مولانا محمد رئیس ندوی رحمہ اللہ
– مولانا محمد ادریس آزاد رحمانی رحمہ اللہ
– مولانا عابد حسن رحمانی رحمہ اللہ
– مولانا عبد المعید بنارسی رحمہ اللہ
– مولانا عبد الوحید رحمانی رحمہ اللہ
– مولانا عبد السلام رحمانی رحمہ اللہ
– مولانا صفی الرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ
– مولانا انیس الرحمن اعظمی رحمہ اللہ
– مولانا عبد الحنان بستوی رحمہ اللہ
ان اساتذہ کی علمی صحبت اور استفادے نے آپ کے اندر مطالعہ تحقیق عربی زبان حدیث تاریخ اور تراثِ اسلامی سے گہری وابستگی پیدا کی۔

جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کے اساتذہ کرام:
شیخ محمد عزیر شمس رحمہ اللہ نے جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کلیۃ اللغۃ العربیۃ میں تعلیم حاصل کی اور وہاں متعدد اہلِ علم سے استفادہ کیا۔ آپ کے اساتذہ میں:
– شیخ طہ ابو کریشہ رحمہ اللہ
– ڈاکٹر عبد العظیم علی الشناوی رحمہ اللہ
– عز الدین علی السید رحمہ اللہ
– ڈاکٹر احمد السید غالی رحمہ اللہ
– ڈاکٹر محمد قناوی عبد اللہ رحمہ اللہ
– شیخ محفوظ ابراہیم فرج رحمہ اللہ
– عبد العزیز محمد فاخر رحمہ اللہ
– شیخ ابراہیم محمد عبد الحمید ابو ساکن رحمہ اللہ
– محمد احمد العزب رحمہ اللہ
– ڈاکٹر احمد جمال العمری رحمہ اللہ
– شیخ صالح احمد بيلو رحمہ اللہ
– شیخ محمد بلو احمد ابو بکر رحمہ اللہ
– ڈاکٹر عباس محجوب رحمہ اللہ
– عبد الباسط بدر رحمہ اللہ
– شیخ علی ناصر الفقیہی رحمہ اللہ
مدینہ منورہ کا یہ علمی ماحول آپ کی علمی شخصیت کی تشکیل میں نہایت اہم ثابت ہوا۔ عربی زبان و ادب کے ساتھ براہِ راست مصادر سے استفادہ اور اہلِ علم کی صحبت نے آپ کے تحقیقی مزاج کو مزید پختہ کیا۔

جامعہ ام القریٰ مکہ مکرمہ کے اساتذہ کرام:
شیخ محمد عزیر شمس رحمہ اللہ نے جامعہ ام القریٰ مکہ مکرمہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ یہاں بھی متعدد اہلِ علم سے استفادہ کیا جن میں:
– ڈاکٹر حسن محمد باجودہ رحمہ اللہ
– محمود حسن زینی رحمہ اللہ
– ڈاکٹر احمد مکی الانصاری رحمہ اللہ
– علی محمد العماری رحمہ اللہ
– عبد العزیز الکفراوی رحمہ اللہ
– لطفی عبد البدیع رحمہ اللہ
– عبد السلام فہمی رحمہ اللہ
– نعمان امین طہ رحمہ اللہ
– عبد العزیز کشک رحمہ اللہ
جامعہ ام القریٰ میں عربی زبان و ادب تنقید اور ہندوستانی عربی ادب سے متعلق آپ کی علمی دلچسپی کو مزید وسعت ملی جس کا اثر بعد کی تحقیقی و تصنیفی زندگی میں نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔

قلمی سفر اور تحقیق کا آغاز:
شیخ محمد عزیر شمس رحمہ اللہ نے کم عمری ہی میں تحریر و تحقیق کا آغاز کردیا تھا۔ 1975ء میں جب آپ کی عمر صرف انیس برس تھی آپ کا تحقیقی مضمون “مولانا شمس الحق عظیم آبادی” دار المصنفین اعظم گڑھ کے معروف علمی مجلے معارف میں شائع ہوا۔
بعد ازاں یہی موضوع آپ کی مستقل اردو و عربی تصانیف اور تحقیقات کا حصہ بنا۔ 1976ء میں آپ نے علامہ شمس الحق عظیم آبادی رحمہ اللہ کی عربی کتاب «رفع الالتباس عن بعض الناس» کی تحقیق و تدوین کی اور اس پر علمی تعلیقات بھی تحریر کیں۔یہی وہ دور تھا جس میں مخطوطات کی تحقیق و تدوین آپ کی علمی زندگی کا مستقل میدان بنتی چلی گئی۔

مخطوطات سے غیر معمولی شغف:
شیخ محمد عزیر شمس رحمہ اللہ کی علمی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو مخطوطات سے ان کا غیر معمولی تعلق تھا۔ آپ صرف مطبوعہ کتابوں کے قاری نہیں تھے بلکہ مختلف ممالک کے علمی مراکز اور کتب خانوں میں محفوظ قلمی ذخائر کی تلاش اور ان سے استفادہ میں بھی خاص دلچسپی رکھتے تھے۔آپ کی خاص جستجو یہ ہوتی تھی کہ کسی کتاب کا قدیم ترین نسخہ کہاں موجود ہے مؤلف کے اپنے ہاتھ سے لکھے ہوئے نسخے کی حیثیت کیا ہے مختلف نسخوں میں کیا اختلاف ہے اور متن کی زیادہ مستند صورت تک کس طرح پہنچا جاسکتا ہے۔ آپ نے خدا بخش لائبریری پٹنہ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ اور جامعہ ام القریٰ مکہ مکرمہ کے قلمی ذخائر سے استفادہ کیا۔ اس کے علاوہ پاکستان، مصر، اردن، شام، ترکی، فرانس، برطانیہ، مراکش، ترکمانستان، کویت، بحرین اور متحدہ عرب امارات کے متعدد علمی مراکز اور کتب خانوں سے بھی استفادہ کیا اور نایاب علمی نسخوں کی تلاش میں سرگرم رہے۔اگرچہ آپ کا بنیادی اختصاص عربی زبان و ادب، تاریخ اور علم الرجال تھا تاہم حدیث، اصولِ حدیث، تفسیر، فقہ، اصولِ فقہ، عقیدہ، سیرت، فلسفہ، منطق اور علمِ عروض جیسے علوم پر بھی آپ کی گہری نظر تھی۔

فہرست سازیِ مخطوطات: ایک اہم علمی خدمت:
شیخ محمد عزیر شمس رحمہ اللہ کی تحقیقی زندگی میں مخطوطات کی فہرست سازی بھی ایک اہم علمی خدمت تھی۔ مختلف کتب خانوں میں محفوظ قلمی ذخائر کی شناخت ان کے کوائف کا مطالعہ اور علمی مواد تک رسائی نے آپ کے تحقیقی مزاج کو مزید مضبوط کیا۔
خدا بخش لائبریری پٹنہ اور جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کی لائبریری میں مخطوطات سے متعلق کام کے دوران آپ کو نادر قلمی ذخائر کے مطالعے ان کے تعارف اور باہمی تقابل کا وسیع تجربہ حاصل ہوا۔ یہی تجربہ بعد میں آپ کی تحقیقی اور تدوینی خدمات میں نمایاں طور پر نظر آیا۔

تحقیق و تدوین کا منہج:
شیخ عزیر شمس رحمہ اللہ کے نزدیک تحقیق محض معلومات جمع کرنے کا نام نہیں تھا بلکہ بنیادی مصادر تک رسائی مواد کی تنقیدی جانچ اور صحیح نتائج کے استنباط کا نام تھا۔ آپ متاخرین کے اقتباسات پر اکتفا کرنے کے بجائے اولین مآخذ تک پہنچنے روایات و اقوال کی حیثیت پرکھنے اور تاریخی و علمی سیاق کو سامنے رکھتے ہوئے نتائج اخذ کرنے کی کوشش کرتے تھے۔تدوینِ متن میں مؤلف کی مطبوعہ و قلمی تحریروں کا جائزہ لینا مؤلف کے اپنے ہاتھ سے لکھے ہوئے نسخے کو ترجیح دینا مختلف نسخوں کا باہمی تقابل کرنا اختلافِ نسخ کو حواشی میں درج کرنا احادیث و اقتباسات کی تخریج کرنا اور جامع فہارس تیار کرنا آپ کے تحقیقی منہج کا حصہ تھا۔آپ کی دقیق النظری کا اندازہ اس امر سے بھی کیا جاسکتا ہے کہ آپ نے لفظ “غزالی” کے تلفظ یعنی غَزالی یا غَزّالی کے مسئلے پر دو اقساط میں مفصل تحقیقی مضمون تحریر کیا جو 1976ء میں دہلی کے مجلے ترجمان میں شائع ہوا۔ اسی طرح “خلیفۃ اللہ” کی اصطلاح کے لغوی و شرعی مفہوم پر بھی آپ کی تحریر آپ کی گہری علمی بصیرت کی عکاس ہے۔

شیخ البانی رحمہ اللہ سے ایک یادگار ملاقات:
شیخ محمد عزیر شمس رحمہ اللہ نے جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کی لائبریری میں مخطوطات کی فہرست سازی کے دوران شیخ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ سے بھی ملاقات کی۔
شیخ البانی رحمہ اللہ مخطوطات سے نقل کرنے کے لیے لائبریری تشریف لاتے تھے۔ لوگ ان سے ملاقات اور گفتگو کے لیے گرد جمع ہوجاتے لیکن وہ اپنے علمی کام میں اس قدر منہمک رہتے کہ لوگ سلام کرتے تو جواب دیتے اور پھر فوراً مخطوطے کی نقل میں مشغول ہوجاتے۔شیخ محمد عزیر شمس رحمہ اللہ کو شیخ البانی رحمہ اللہ کے مخطوطات سے استفادہ اور نقل کرنے کے اس غیر معمولی شوق پر تعجب ہوا۔

حرمین شریفین میں علمی خدمات:
فروری 1999ء میں شیخ محمد عزیر شمس رحمہ اللہ مستقل طور پر مکہ مکرمہ منتقل ہوگئے۔ وہاں مختلف علمی و تحقیقی اداروں کے ساتھ وابستہ رہے جن میں جامعہ ام القریٰ مجمع الملک فہد مدینہ منورہ اسلامی فقہ اکیڈمی جدہ اور بالخصوص دار عالم الفوائد مکہ مکرمہ قابلِ ذکر ہیں۔ دار عالم الفوائد میں آپ نے ایک طویل عرصے تک امام ابن تیمیہ امام ابن قیم اور علامہ عبد الرحمن المعلمی یمانی رحمہم اللہ کے علمی آثار کی تحقیق و اشاعت میں نمایاں کردار ادا کیا۔

تصنیفات و تحقیقی خدمات:
شیخ محمد عزیر شمس رحمہ اللہ کا علمی سرمایہ صرف چند تصانیف تک محدود نہیں بلکہ آپ کی اصل علمی شناخت تحقیق، تدوین، تصحیحِ متون، مخطوطات کی بازیافت اور علمی مقالات سے قائم ہوئی۔ آپ کی نمایاں تصانیف و تحقیقی خدمات میں:
شیخ شمس الحق عظیم آبادی رحمہ اللہ سے متعلق کام:
1۔ رفع الالتباس عن بعض الناس — تحقیق و تعلیق
2۔ حياة المحدث شمس الحق وأعماله
3۔ مولانا شمس الحق عظیم آبادی: حیات اور خدمات
4۔ فتاویٰ مولانا شمس الحق عظیم آبادی — تدوین و ترتیب
📚 حدیث رجال اور تراث سے متعلق تحقیقی کام:
5۔ رد الإشراك — شاہ اسماعیل دہلوی رحمہ اللہ، تحقیق
6۔ تاريخ وفاة الشيوخ — ابو القاسم البغوی رحمہ اللہ تحقیق
7۔ غاية المقصود شرح سنن أبي داود — تحقیق و تدوین میں شرکت
8۔ إتحاف النبيه بما يحتاج إليه المحدث والفقيه — شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ، تحقیق
9۔ استدراك أم المؤمنين عائشة على الصحابة
10۔ روائع التراث
11۔ بحوث وتحقيقات للعلامة عبد العزيز الميمني
12۔ مقالات محمد عزیر شمس
🔹امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے آثار کی تحقیق
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے علمی ذخیرے سے شیخ عزیر شمس رحمہ اللہ کی گہری وابستگی تھی۔ آپ نے ان کے متعدد منتشر علمی آثار کی تحقیق و تدوین میں خدمات انجام دیں، جن میں:
13۔ جامع المسائل
14۔ قاعدة في الاستحسان
15۔ تنبيه الرجل العاقل
16۔ شرح العمدة
17۔ شرح حديث إنما الأعمال بالنيات
18۔ جواب الاعتراضات المصرية
19۔ الجامع لسيرة شيخ الإسلام
🔹امام ابن قیم رحمہ اللہ کے آثار
امام ابن قیم الجوزیہ رحمہ اللہ کے علمی ذخیرے کو مرتب اور تحقیق کے ساتھ پیش کرنے میں بھی آپ کا اہم کردار رہا۔ اس سلسلے میں:
20۔ الرسالة التبوكية
21۔ الفوائد
22۔ روضة المحبين
23۔ إغاثة اللهفان
24۔ الكلام على مسألة السماع
25۔ أعلام الموقعين
26۔ زاد المعاد
27۔ مدارج السالكين
28۔ أحكام أهل الذمة
29۔ مؤلفات الإمام ابن القيم
30۔ الفهارس العلمية لآثار ابن القيم
🔹علامہ عبد الرحمن المعلمی یمانی رحمہ اللہ کے آثار
علامہ عبد الرحمن المعلمی الیمانی رحمہ اللہ کے علمی ذخیرے کی تحقیق و تدوین میں بھی شیخ محمد عزیر شمس رحمہ اللہ کی خدمات نمایاں ہیں۔ اس سلسلے میں:
31۔ مجموع رسائل الفقه
32۔ مجموع رسائل أصول الفقه
33۔ التنكيل بما في تأنيب الكوثري من الأباطيل
34۔ تحقيق الكلام في المسائل الثلاث
35۔ معجم الشواهد الشعرية

علمی مقالات:
شیخ محمد عزیر شمس رحمہ اللہ کے درجنوں تحقیقی مقالات ہندوستان، پاکستان اور عرب دنیا کے معتبر علمی جرائد میں شائع ہوتے رہے۔ ان میں:معارف برہان ترجمان تحقیقاتِ اسلامی
مجلة مجمع اللغة العربية بدمشق
جیسے علمی رسائل شامل ہیں۔آپ کے مقالات میں عربی زبان و ادب تاریخ رجال حدیث مخطوطات برصغیر کے علمی ورثے اور متعدد تحقیقی و تنقیدی موضوعات زیرِ بحث آئے۔ آپ کے اردو تحقیقی مقالات کا مجموعہ «مقالات محمد عزیر شمس» کے نام سے بھی معروف ہے۔

آخری علمی منصوبے:
شیخ محمد عزیر شمس رحمہ اللہ اپنی زندگی کے آخری ایام تک تحقیق و تصنیف میں مصروف رہے۔ وفات کے وقت بھی متعدد علمی منصوبے تکمیل کے مراحل میں تھے۔ ان میں نمایاں طور پر درج ذیل علمی کام شامل تھے:
1۔ معیار الحق — شاہ نذیر حسین دہلوی رحمہ اللہ، عربی تعلیق و تحقیق۔
2۔ مجموعہ رسائل علامہ محمد حیات سندھی رحمہ اللہ — جمع و تحقیق۔
3۔ مجموعہ رسائل شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ — جمع و تحقیق۔
4۔ مجموعہ رسائل شیخ شمس الحق عظیم آبادی رحمہ اللہ — جمع و تحقیق۔
5۔ المواعظ — امام ابو عبید القاسم بن سلام رحمہ اللہ، تدوین و تحقیق۔
6۔ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے متعدد منتشر مخطوطات — ترتیب و تحقیق۔

سادگی اخلاص اور علمی میراث:
اتنے وسیع علمی مقام کے باوجود شیخ محمد عزیر شمس رحمہ اللہ کی زندگی سادگی انکسار اور بے تکلفی سے عبارت تھی۔ ظاہری نمود و نمائش شہرت اور دنیوی مناصب کے بجائے آپ نے اپنی زندگی کتابوں، مخطوطات، علمی مباحث اور تحقیق کے لیے وقف کیے رکھی۔آپ کی علمی شخصیت کا نمایاں پہلو یہ تھا کہ آپ نے علم کو محض پڑھنے یا بیان کرنے تک محدود نہیں رکھا بلکہ بکھرے ہوئے علمی ورثے کو تلاش کیا نادر مخطوطات تک رسائی حاصل کی قدیم نصوص کو جانچا مختلف نسخوں کا تقابل کیا اور انہیں تحقیق کے ساتھ آئندہ نسلوں تک منتقل کیا۔شیخ محمد عزیر شمس رحمہ اللہ کی زندگی اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ علمی خدمت ہمیشہ شور شہرت اور ظاہری نمود کی محتاج نہیں ہوتی۔ بعض اوقات ایک محقق کتابوں کے درمیان خاموش بیٹھا رہتا ہے مگر اس کی خاموش محنت آنے والی نسلوں کے علمی سفر کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔
آپ کا چھوڑا ہوا علمی سرمایہ محض کتابوں کا مجموعہ نہیں بلکہ تحقیق، دیانت، وسعتِ مطالعہ مصادر سے وابستگی اور علمی امانت کا ایک ایسا منہج ہے جس سے اہلِ علم اور آنے والے محققین طویل عرصے تک رہنمائی حاصل کرتے رہیں گے۔

وفات:
شیخ محمد عزیر شمس رحمہ اللہ نے اپنی پوری زندگی علم تحقیق، تصنیف اور مخطوطات کی خدمت میں گزاری۔
شیخ محمد عزیر شمس رحمہ اللہ کا انتقال 16 اکتوبر 2022ء (بروز ہفتہ) کو نمازِ عشاء کی اذان کے وقت مکہ مکرمہ میں اچانک حرکتِ قلب بند ہوجانے (دل کا دورہ پڑنے) کی وجہ سے ہوا
آپ کی وفات علمی دنیا کے لیے ایک بڑا صدمہ تھی۔ آپ اپنے پیچھے قیمتی علمی سرمایہ چھوڑ گئے جس میں تحقیقی کتابیں، مقالات، نادر مخطوطات کی تحقیقات اور اکابر اہلِ علم کی تصانیف کی تدوین شامل ہے۔

شیخ ابن تیمیہ رحمہ اللہ سے ایک معنوی مناسبت:
یہ بھی ایک خوب صورت علمی مناسبت ہے کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے 67 سال کی عمر پائی اور عظیم محقق شیخ محمد عزیر شمس رحمہ اللہ نے بھی تقریباً 67 قمری سال عمر پائی۔شیخ عزیر شمس رحمہ اللہ نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے علمی تراث کی تحقیق و تدوین میں صرف کیا۔ جس امامِ علم کے آثار سے انہیں گہری محبت تھی عمر کے اعتبار سے بھی ان سے ایک عجیب مناسبت قائم ہوگئی۔اللہ تعالیٰ دونوں بزرگوں کو اعلیٰ علیین میں جگہ عطا فرمائے۔

دعا: اللہ تعالیٰ شیخ محمد عزیر شمس رحمہ اللہ کی علمی، تحقیقی اور دعوتی خدمات کو شرفِ قبول عطا فرمائے، ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے اور ان کے علمی آثار کو امتِ مسلمہ کے لیے نافع اور ان کے لیے صدقہ جاریہ بنائے۔
آمین یا رب العالمین۔

ناشر: حافظ امجد ربانی