تربیتِ اولاد (آثارِ سلف)

✿۔ حماد بن نجیح بیان کرتے ہیں، میں نے امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ کو دیکھا وہ خالی پلاٹ سے گزرے، جہاں بچے جوا لگا کر اخروٹ کھیل رہے تھے، تو انہوں نے فرمایا:

«يَا غِلْمَانُ، لَا تُقَامِرُوا فَإِنَّ الْقِمَارَ مِنَ الْمَيْسِرِ».

’’بچو! جوا نہ لگاؤ، جوا تو میسر (جسے اللہ نے حرام کیا) ہے۔‘‘
(مصنف ابن أبي شيبة : ٥/ ٢٨٨ وسنده حسن)

امام محمد بن حسین آجری رحمہ اللہ (٣٦٠هـ) اس اَثر پر تعلیق لگاتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’بچوں کو یہ بتانا کہ یہ عمل حرام ہے، اور یہ میسر یعنی جوا ہے، تاکہ جب وہ بچے بڑے ہوں تو انہیں معلوم ہو کہ اُن کے بڑوں نے انہیں روکا تھا اور بتا دیا تھا کہ یہ حرام ہے، تاکہ وہ اس سے باز رہیں۔ ورنہ بچے کہیں گے: ’’ہم یہ کھیلتے تھے اور کسی نے ہمیں اس سے نہیں روکا، اگر یہ غلط ہوتا تو ہمیں ضرور روکا جاتا۔‘‘
اسی طرح جب کوئی شخص کسی بچے کو کوئی غلط کام کرتے دیکھے یا کوئی ایسی بات کہتے دیکھے جو جائز نہیں، تو اسے چاہیے کہ اسے بتائے کہ یہ حرام ہے اور یہ کام کرنا یا بات کہنا جائز نہیں ہے۔

(تحريم النرد والشطرنج والملاهي، صـ ١٦٤)

🖋 … حافظ محمد طاهر حفظہ اللہ