سوال 7422

السلام علیکم!
ہمارے معاشرے میں یہ بات رائج ہے کہ اگر کوئی بندہ کوئی سودا کرتا ہے اور اس میں بیعانہ دیتا ہے اور اگر وہ سودا طے نہیں پاتا تو بیعانہ واپسی نہیں کیا جاتا کیا ایسا کرنا شرعا جائز ہے؟

جواب

وعلیکم السلام و رحمة الله و برکاته
اگر آپکا کوئی نقصان ہوا ہے، مثلاً وہ چیز گاہک نے آپ سے خریدی بھی نہیں، اور اب اس کا ریٹ بھی انتہائی کم ہوگیا ہے، اور دوسرے گاہک ملنے کے باوجود آپ نے فقط بیعانہ کی وجہ سے وہ چیز دوسروں کو فروخت نہیں کی، تو آپ اس سے صرف اپنا وہ نقصان پورا کرسکتے ہیں، باقی وہ انکا مال ہے انکو واپس کریں

وَلَا تَاۡكُلُوۡٓا اَمۡوَالَـكُمۡ بَيۡنَكُمۡ بِالۡبَاطِلِ

اور اپنے مال آپس میں باطل طریقے سے مت کھائو
(سورۃ البقرۃ آیت نمبر : 188)
ھذا ما عندي والله اعلم بالصواب

فضیلۃ العالم حافظ محمد عبداللہ حفظہ اللہ

وعليكم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ہاں یہ ٹوکن منی جسے ایڈوانس بھی کہا جاتا ہے اردو میں بیعانہ بھی کہا جاتا ہے۔ اس میں اصل تو یہی ہے کہ محض عرف کی بنیاد پر یہ کہنا درست نہیں کہ سودا اگر مکمل نہ ہو تو بیعانہ لازما ضبط کر لیا جائے گا۔ یہ درست نہیں ہے یہ چیز۔ اس میں تفصیل ہے کچھ۔ اگر تو یہ ٹوکن منی اس شرط پر دی گئی ہو کہ سودا مکمل نہ ہونے کی صورت میں واپس نہیں ہوگی۔ تو اس مسئلے میں اہل علم یا فقہاء کا اختلاف ہے۔ اکثر فقہاء اس کے جواز کے قائل نہیں ہیں البتہ کچھ اقوال جو ہیں وہ ملتے ہیں۔ لیکن اس میں جو فقہاء اس کے جواز کے قائل ہیں وہ مشروط طور پر جائز کہتے ہیں اس کو۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ شرط باہمی رضامندی سے پہلے طے کر لی جائے تو پھر اگر یہ شرط پہلے سے طے نہیں کی جائے گی تو یہ چیز جو ہے نا بیعانہ ضبط کرنا یا واپس نہ کرنا درست نہیں ہے۔ دوسری کیفیت اس کی یہ آتی ہے کہ اگر یہ بطور ضمانت رقم دی گئی ہو۔ مثال کے طور پر خریدار کہتا ہے کہ میں سودا پکا کرنے کے لیے کچھ اماؤنٹ دے رہا ہوں۔ اگر مکمل نہ ہوا تو یہ رقم واپس کر دی جائے گی۔ تو اس کیفیت میں تو یہ رقم واپس کرنا ہر صورت میں لازم ہے۔ کیونکہ یہ رقم بیچنے والے کی ملکیت نہیں بنی بلکہ اسے بطور امانت یا بطور ضمانت دی گئی تھی۔ اس طرح اگر سودا بیچنے والے کی طرف سے ختم ہو جائے تو خریدار کا بیعانہ روک لینا بھی درست نہیں بلکہ اسے واپس کرنا ہو گا الا یہ کہ اس میں کوئی الگ سے کوئی شرعی طور پر کوئی اور معتبر شرط یا کوئی ایشو سامنے نہ آ جائے۔ اگر سودا مکمل ہو جائے تو بیعانہ عموما قیمت کا حصہ شمار کیا جائے گا۔ یعنی آپ نے کوئی 10 لاکھ کی گاڑی خریدی تو ایک لاکھ بیعانہ دے دیا سودا مکمل ہو گیا تو اب باقی نو لاکھ ادا کیے جائیں گے۔ خلاصہ جو ہمیں سمجھ میں آتا ہے کہ بیعانہ خود حرام نہیں لیکن اس کے ضبط کرنے کا حکم جو ہے وہ اس معاہدے کی نوعیت اور شرط پر منحصر ہے۔ اگر اس معاہدے میں یہ چیز واضح موجود ہو کہ خریدار سودا منسوخ کرے تو بیعانہ فروخت کنندہ کا ہو گا۔ اور اس قول کے مطابق اس کو پھر جائز قرار دیا جا سکتا ہے یہ چند فقہاء جو ہیں ان کا قول یہ ہے۔ لیکن علماء کی اکثریت جو ہے وہ اس کو جائز قرار نہیں دیتی۔ احتیاط اسی میں ہے کہ سودا مکمل نہ ہونے کی صورت میں بیعانہ واپس کیا جائے۔ یا ایسی شرط رکھی جائے جس میں حقیقی نقصان کی کچھ تلافی بھی ہو۔ محض رقم ضبط کرنا مقصد نہ ہو۔ اس لیے کہ نقصان سودا مکمل نہ ہونے کی صورت میں نقصان کبھی تو خریدار کا ہوتا ہے کبھی فروخت کنندہ کا بھی ہو سکتا ہے۔ تو اس کیفیت میں یہ تفصیل طے کرنا ضروری ہے۔
واللہ اعلم

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر فیض الابرار شاہ حفظہ اللہ