سوال 7421
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
شیخ محترم اگر دین نے سہولت اور آسانی دی ہے تو کیا اگر جان بوجھ کر وہ آسانی نہ لی جائے تو ہم پر گناہ ہے۔
جیسے سفر میں نماز قصر کر سکتے ہیں لیکن یہ جانتے ہوئے بھی احباب پوری نماز پڑھیں کہ ہمیں زیادہ ثواب ملے گا قصر کریں ہی نہ۔
تو کیا یہ درست ہے رہنمائی فرمادیں شکریہ
جواب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اگر ہمیشگی اور دوام اور استقلال کے ساتھ رخصت کو ترک نہ کرے۔ پھر تو ان شاء اللہ گناہ نہیں خیر ہی ہے لیکن رخصت پر عمل کرنا اولی ہے افضل ہے۔ افضل کو اختیار کرنا چاہیے۔ البتہ کبھی کبھار جو ہے وہ ترک کی جا سکتی ہے جیسے کہ بعض صحابہ نماز پوری پڑھ لیا کرتے تھے۔ تو یہ جواز ہے اولی یہی ہے کہ آپ قصر کو رخصت کو اختیار کریں۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
سفر میں قصر نماز پڑھنا اللہ رب العالمین کی طرف سے رخصت ہے اور بہتر ہے کہ اس ہی کو اختیار کیا جائے:
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ أَنْ تُؤْتَى رُخَصُهُ، كَمَا يَكْرَهُ أَنْ تُؤْتَى مَعْصِيَتُهُ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ اپنی رخصتوں پر عمل کرنے کو اسی طرح پسند کرتا ہے جیسے اپنی نافرمانی کو ناپسند کرتا ہے
[مسند احمد حدیث نمبر : 5866]
لیکن اگر کوئی شخص سفر میں مکمل نماز بھی پڑھ لیتا ہے تو کوئی حرج نہیں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مکمل نماز پڑھنا بھی ثابت ہے
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سفر کے دوران
كَانَ يَقْصُرُ فِي السَّفَرِ وَيُتِمُّ، وَيُفْطِرُ وَيَصُومُ
قصر نماز بھی پڑھ لیا کرتے تھے اور مکمل نماز بھی پڑھ لیا کرتے تھے، آپ روزہ چھوڑ بھی دیتے تھے اور رکھ بھی لیا کرتے تھے۔ شیخ (امام دارقطنی) بیان کرتے ہیں: اس کی سند صحیح ہے
[سنن دارقطنی حدیث نمبر : 2298]
نیز صحابہ سے بھی اس ہی طرح کے آثار مروی ہے، البتہ سفر میں قصر کرنا افضل ہے۔
فضیلۃ العالم حافظ محمد عبداللہ حفظہ اللہ


