ٹوٹے ہوئے دلوں والے
شیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”منکسرین (ٹوٹے ہوئے لوگوں) کے ساتھ بھی نرمی اور ہمدردی کا معاملہ کرنا چاہیے۔ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنہیں کوئی دکھ پہنچا ہو اور وہ اندر سے ٹوٹ چکے ہوں۔ یہ ہڈیوں کا ٹوٹنا نہیں، بلکہ دل کا ٹوٹنا ہے۔ مثلاً کسی شخص پر کوئی مصیبت آجائے، وہ دیوالیہ ہوجائے، یا اس کا کوئی قریبی عزیز یا دوست وفات پا جائے اور اس کا دل بکھر جائے۔ بہرحال، ایسے لوگوں کے ساتھ ہمدردی اور نرمی ضروری ہے، اسی لیے شریعت نے تعزیت کا تصور دیا ہے“۔
[شرح رياض الصالحين:80/3]




