سوال 7471
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
پل صراط تلوار سے زیادہ تیز اور بال سے زیادہ باریک ہے؟ کیا یہ روایت سندا صحیح ہے؟
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
[صحیح بخاری: 7439 اور مسلم: 183]
میں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے ایک لمبی حدیث میں مروی ہے کہ : (پھر پل صراط لایا جائے گا اور جہنم کی پشت پر لا کر رکھ دیا جائے گا) ہم نے کہا: اللہ کے رسول! پل صراط کیا ہے، آپ نے فرمایا پھسلنے اور گرنے کی جگہ ہے اس پر کانٹے اور آنکڑے ہیں اور چوڑے گوکھرد (کا نٹے) ہیں اور ایسے ٹیڑھے کانٹے ہیں جو نجد میں ہوتے ہیں انہیں سعدان کہا جاتا ہے، مومن اس پر سے چشم زدن ،بجلی کی طرح ،ہوا کی طرح ،تیز رفتار گھوڑوں اور سواریوں کی رفتار سے گزر جائیں گے، ان میں سے بعض تو صحیح سلا مت بچ کر نکل جائیں گے اور بعض اس حال میں نجات پائیں گے کہ انہیں خراشیں لگ چکی ہوں گی ، یا ان کے اعضا جہنم کی آگ سے جھلسے ہوئے ہوں گے، یہاں تک کہ ان کا آخری شخص گھسٹ کر نکلا جائے گا) صحیح مسلم میں یہ بھی الفاظ ہیں کہ: ابو سعید خدری کہتے ہیں: “مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ پل صراط بال سے زیادہ باریک اور تلوار سے زیادہ تیز ہے”
سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت والے دن ( اتنا بڑا ) ترازو رکھا جائے گا کہ اس میں زمین و آسمان کا وزن بھی کیا جا سکے گا ۔ فرشتے پوچھیں گے : یہ ترازو کس کے لیے وزن کرے گا ؟ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : میں اپنی مخلوق میں سے جس کے لیے چاہوں گا ۔ فرشتے کہیں گے : ( اے اللہ ! ) تو پاک ہے ، ہم تیری عبادت کا حق ادا نہ کر سکے ۔ پھر پل صراط نصب کیا جائے گا ، جو استرے کی دھار کی طرح ہو گا ۔ فرشتے پوچھیں گے : ( اے اللہ ) تو کس کو یہ عبور کروائے گا ؟ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : میں اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہوں گا ۔ وہ کہیں گے : تو پاک ہے ، ہم کماحقہ تیری عبادت نہ کر سکے ۔“ [سلسله احاديث صحيحه · No. 3762]
ابوسعید الخدری رضی اللہ عنہ سے لمبی حدیث میں مروی ہے کہ: “مسلم نے مزید کہا: ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نے سنا کہ صراط بال سے زیادہ باریک اور تلوار سے زیادہ تیز ہوگا“۔” [المستدرك على الصحيحين · No. 3464]
مسلم کی روایت اوپر گزر چکی ہے۔
ان دلائل کی روشنی میں، یہ ثابت ہوتا ہے کہ پل صراط کی صفت کہ وہ تلوار کی دھار کی مانند تیز اور بال سے زیادہ باریک ہوگا، کتب احادیث میں معتبر سند کے ساتھ موجود ہے۔ یہ صفت بعض روایات میں براہ راست نبی کریم ﷺ سے منقول ہے (جیسے کہ تلوار یا استرے کی دھار کی طرح تیز اور باریک)، اور بعض میں جلیل القدر صحابی سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے قول سے ثابت ہے جسے امام مسلم نے روایت کیا ہے (بال سے زیادہ باریک اور تلوار سے زیادہ تیز)۔ یہ صحابی کا قول ہونے کے باوجود غیبی امور میں بہت قوی دلیل سمجھا جاتا ہے۔
فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ
بارك الله فيكم وعافاكم
کسی بھی مرفوع و مسند حدیث میں پل صراط کی اس قدر باریکی و تیزی کا ذکر نہیں ہے۔
اور مسند أحمد بن حنبل :(24793) کی روایت میں ابن لھیعہ مدلس و سیئ الحفظ راوی ہیں
اس معنی کی روایات مرسل و معضل ہیں دیکھیے فتح الباری ::11/ 454
امام بیھقی نے کہا:
ﻭﻫﺬا اﻟﻠﻔﻆ ﻣﻦ اﻟﺤﺪﻳﺚ ﻟﻢ ﺃﺟﺪﻩ ﻓﻲ اﻟﺮﻭاﻳﺎﺕ اﻟﺼﺤﻴﺤﺔ
شعب الإيمان للبيهقى :1/ 565
البتہ علامہ حلیمی نے اس کی مراد یوں بیان کی ہے
محدث بیھقی کہتے ہیں:
ﻗﺎﻝ اﻟﺤﻠﻴﻤﻲ ﺭﺣﻤﻪ اﻟﻠﻪ: ” ﻗﻮﻟﻪ ﻓﻲ اﻟﺼﺮاﻁ ﺃﻧﻪ ﺃﺩﻕ ﻣﻦ اﻟﺸﻌﺮﺓ ﻣﻌﻨﺎﻩ، ﺃﻥ ﺃﻣﺮ اﻟﺼﺮاﻁ، ﻭاﻟﺠﻮاﺯ ﻋﻠﻴﻪ ﺃﺩﻕ ﻣﻦ اﻟﺸﻌﺮ ﺃﻱ ﻳﻜﻮﻥ ﻳﺴﺮﻩ ﻭﻋﺴﺮﻩ ﻋﻠﻰ ﻗﺪﺭ اﻟﻄﺎﻋﺎﺕ ﻭاﻟﻤﻌﺎﺻﻲ، ﻭﻻ ﻳﻌﻠﻢ ﺣﺪﻭﺩ ﺫﻟﻚ ﺇﻻ اﻟﻠﻪ ﻋﺰ ﻭﺟﻞ ﻟﺨﻔﺎﺋﻬﺎ ﻭﻏﻤﻮﺿﻬﺎ ﻭﻗﺪ ﺟﺮﺕ اﻟﻌﺎﺩﺓ ﺑﺘﺴﻤﻴﺔ اﻟﺨﺎﻣﺾ اﻟﺨﻔﻲ ﺩﻗﻴﻘﺎ، ﻭﺿﺮﺏ اﻟﻤﺜﻞ ﻟﻪ ﺑﺪﻗﺔ اﻟﺸﻌﺮﺓ، ﻭﻗﻮﻟﻪ: ” ﺇﻧﻪ ﺃﺣﺪ ﻣﻦ اﻟﺴﻴﻒ ” ﻓﻘﺪ ﻳﻜﻮﻥ ﻣﻌﻨﺎﻩ، ﻭاﻟﻠﻪ ﺃﻋﻠﻢ ﺃﻥ اﻷﻣﺮ اﻟﺪﻗﻴﻖ اﻟﺬﻱ ﻳﺼﺪﺭ ﻣﻦ ﻋﻨﺪ اﻟﻠﻪ ﺇﻟﻰ اﻟﻤﻼﺋﻜﺔ ﻓﻲ ﺇﺟﺎﺯﺓ اﻟﻨﺎﺱ ﻋﻠﻰ اﻟﺼﺮاﻁ ﻳﻜﻮﻥ ﻓﻲ ﻧﻔﺎﺫ ﺣﺪ اﻟﺴﻴﻒ ﻭﻣﻀﻴﻪ اﺳﺮاﻋﺎ ﻣﻦﻫﻢ ﺇﻟﻰ ﻃﺎﻋﺘﻪ، ﻭاﻣﺘﺜﺎﻟﻪ ﻭﻻ ﻳﻜﻮﻥ ﻟﻪ ﻣﺮﺩ ﻛﻤﺎ ﺃﻥ اﻟﺴﻴﻒ ﺇﺫا ﻧﻔﺬ ﺑﺤﺪﻩ ﻭﻗﻮﺓ ﺿﺎﺭﺑﻪ ﻓﻲ ﺷﻲء ﻟﻢ ﻳﻜﻦ ﻟﻪ ﺑﻌﺪ ﺫﻟﻚ ﻣﺮﺩ
شعب الإيمان للبيهقى :1/ 565
لہذا اس کی جو کیفیت صحیح احادیث سے ثابت ہے اسے ہی بیان کیا جائے ۔
اور ممکن ہے کوئی موقوفا روایت بھی موجود ہو۔
هذا ما عندي والله أعلم بالصواب
فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ

