سوال 7368
عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جُعِلَ فِي قَبْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطِيفَةٌ حَمْرَ
حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ایم کی قبر مبارک پر سرخ چادر ڈالی گئی تھی۔
[اخرجه المسلم، عربی، کتاب الجنائز، حدیث نمبر : 2241]
اس حدیث شریف سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مزارات پر چادر چڑھانا بدعت یا کوئی غیر شرعی عمل نہیں ہیں بلکہ یہ صحابہ کرام کا طریقہ ہے۔ اس روایت کی حقیقت بتادیں۔
جواب
سیدنا ابن عباس رضی الله عنہ سے مروی روایت کا ترجمہ جو کیا گیا ہے غلط ہے
یہ ترجمہ کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی قبر مبارک پر سرخ چادر ڈالی گئی تھی سراسر معنوی تحریف ہے اور اوپر سے مسئلہ غلط کشید کیا جا رہا ہے ۔
الله تعالی ان اہل بدعت کو ہدایت عطا فرمائیں
پہلے حدیث پھر اس کا صحیح معنی و توضیح ملاحظہ کریں
ﻋﻦ اﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ، ﻗﺎﻝ: ﺟﻌﻞ ﻓﻲ ﻗﺒﺮ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻗﻄﻴﻔﺔ ﺣﻤﺮاء
سیدنا ابن عباس رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں:
رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی قبر مبارک میں سرخ چادر رکھی۔
صحیح مسلم :(967)
ﺃﺧﺒﺮﻧﺎ ﻋﺎﺭﻡ ﺑﻦ اﻟﻔﻀﻞ ﻭﺧﺎﻟﺪ ﺑﻦ ﺧﺪاﺵ ﻗﺎﻻ: ﺃﺧﺒﺮﻧﺎ ﺣﻤﺎﺩ ﺑﻦ ﺯﻳﺪ ﻋﻦ ﻳﺰﻳﺪ ﺑﻦ ﺣﺎﺯﻡ ﻋﻦ ﺳﻠﻴﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﻳﺴﺎﺭ: ﺃﻥ ﻏﻼﻣﺎ ﻛﺎﻥ ﻳﺨﺪﻡ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻓﻠﻤﺎ ﺩﻓﻦ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﺭﺃﻯ ﻗﻄﻴﻔﺔ ﻛﺎﻥ ﻳﻠﺒﺴﻬﺎ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻋﻠﻰ ﻧﺎﺣﻴﺔ اﻟﻘﺒﺮ ﻓﺄﻟﻘﺎﻫﺎ ﻓﻲ اﻟﻘﺒﺮ ﻭﻗﺎﻝ: ﻻ ﻳﻠﺒﺴﻬﺎ ﺃﺣﺪ ﺑﻌﺪﻙ ﺃﺑﺪ۔
[الطبقات الكبرى لابن سعد :2/ 229 صحیح]
فائدہ:
رہی سنن ترمذی:(1047) کی روایت
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ الطَّائِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ فَرْقَدٍ، قَال: سَمِعْتُ جَعْفَرَ بْنَ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: ” الَّذِي أَلْحَدَ قَبْرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبُو طَلْحَةَ، وَالَّذِي أَلْقَى الْقَطِيفَةَ تَحْتَهُ شُقْرَانُ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ “. قَالَ جَعْفَرٌ: وَأَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي رَافِعٍ، قَال: سَمِعْتُ شُقْرَانَ، يَقُولُ: أَنَا وَاللَّهِ طَرَحْتُ الْقَطِيفَةَ تَحْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقَبْرِ، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ
تو اسے امام العلل أبو حاتم الرازی نے منکر کہا ہے
اس روایت کے متعلق جب آپ سے پوچھا گیا تو کہا:
ﻫﺬا ﺣﺪﻳﺚ ﻣﻨﻜﺮ
علل الحديث لابن أبي حاتم الرازى :3/ 523 ،524 ،الجرح والتعديل :6/ 164 ترجمہ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﻓﺮﻗﺪ ﺃﺑﻮ ﻣﻌﺎﺫ
اس معنی کی دیگر روایات مرسل و ضعیف ہیں
اس روایت کے مختلف جواب دئیے گئے ہیں
میں جو مناسب توجیہ وتوضیح بنتی ہے اسے بیان کیے دیتا ہوں
(1) یہ عمل کسی شرعی حکم و دلیل کی بنیاد پر وقوع پذیر نہیں ہوا ہے ۔
یعنی رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ایسا کرنے کی وصیت فرمائی ہو محتاج دلیل ہے۔
(2) اہل بیت خلفاء راشدین میں سے کسی نے ایسا کرنے کا فیصلہ کیا ہو یہ بھی محتاج دلیل ہے۔
(3) یہ ایک خادم سے عمل سرزد ہوا جو شدت غم اور شدید عقیدت و محبت میں ہوا کہ جس چادر کو رسول الله صلی الله علیہ وسلم زیب تن فرماتے تھے اب وہ اور کوئی نہیں پہنے گا گویا یہ اس خادم کا اپنا اجتہاد تھا
ورنہ اس خادم سے پہلے کبار صحابہ ،اہل بیت سے موجود افراد ایسا عمل کرتے ۔
لہذا ایک خادم کا ذاتی اجتہاد دلیل نہیں بن سکتا کیونکہ اس کے اوپر دلیل شرعی موجود نہیں ہے۔
(4) اگر یہ عمل شرعی حکم رکھتا تو خلفاء راشدین کے دفن کیے جانے پر بالخصوص اور دیگر صحابہ کرام واہل بیت کے دفن کئے جانے پر بالعموم اس پر عمل کیا جاتا جبکہ ایسا قطعا ثابت نہیں ہے ۔
بلکہ اس کے برعکس کراہت ملتی ہے ۔
(5) بعض نے کہا یہ وہ چادر نکال لی گئ تھی
فی الحال مجھے اس کا معتبر حوالہ نہیں مل سکا ۔
(6) امام وکیع بن جراح رحمة الله عليه نے سیدنا ابن عباس رضی الله عنہ کی روایت کے متعلق کہا:
ﻫﺬا ﻟﻠﻨﺒﻲ – ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﺧﺎﺻﺔ
الطبقات الكبرى لابن سعد :2/ 238 ،الجعديات :(1286)صحیح
امام وکیع بن جراح کی بات میں وزن ہے کیونکہ خلفاء راشدین،امہات المؤمنین،اہل بیت،صحابہ کرام رضوان الله تعالی علیھم اجمعین اور سلف صالحین سے ایسا عمل قطعا ثابت نہیں ہے بلکہ جمہور علماء کرام سے اس کی کراہت ملتی ہے دیکھیے شرح النووی علی مسلم وغیرہ ۔
اگر یہ عمل شرعی درست ہوتا تو صحابہ کرام،امہات المؤمنین اسلاف امت اس پر عمل پیرا ہوتا جنہوں نے رب العالمین کے دین و تعلیمات پر صحیح معنوں میں کامل طور پر عمل کیا تھا۔
مزید سیدنا ابن عباس رضی الله عنہ سے اسکی کراہت ملتی ہے اور اہل بیت کے عظیم فرزند اور عالم صحابی ایک ثابت شدہ عمل کو کیونکر مکروہ خیال کریں گے ؟؟
اس لئے ان ہستیوں کا قبر میں کپڑا ڈالنے کا عمل ثابت ناں ہونا بتاتا ہے کہ وہ ہر کپڑے کو رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے کپڑے جیسا نہیں سمجھتے تھے کیونکہ جس طرح رسول الله صلی الله علیہ کی ذات پاک کمال رکھتی ہے ایسے ہی آپ کی اشیاء بھی فضیلت و خصوصیت رکھتی ہیں ورنہ تو اس سے برابری لازم آتی ہے ۔
اور اگر یہ عمل مشروع و جائز ہوتا تو صحابہ کرام اسے ضرور اختیار کرتے اور ان کے بعد تابعین عظام ائمہ محدثین اختیار کرتے۔
ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻋﻠﻲ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﻌﺰﻳﺰ، ﻗﺎﻝ: ﺛﻨﺎ ﺃﺑﻮ ﻧﻌﻴﻢ، ﻗﺎﻝ: ﺛﻨﺎ ﺳﻔﻴﺎﻥ، ﻋﻦ اﺑﻦ ﺃﺧﻲ ﻳﺰﻳﺪ ﺑﻦ اﻷﺻﻢ، ﺃﻥ اﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ، ﻛﺮﻩ ﺃﻥ ﻳﺠﻌﻞ، ﺗﺤﺘﻪ ﺛﻮﺏ، ﻳﻌﻨﻲ ﻓﻲ اﻟﻘﺒﺮ،
الأوسط لابن المنذر :(3208)
عبد الرزاق ﻋﻦ اﺑﻦ ﻋﻴﻴﻨﺔ، ﻋﻦ ﻋﺒﻴﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ اﺑﻦ ﺃﺧﻲ ﻳﺰﻳﺪ ﺑﻦ اﻷﺻﻢ، ﻋﻦ ﻋﻤﻪ ﻗﺎﻝ: ﻣﺎﺗﺖ ﻣﻴﻤﻮﻧﺔ ﺯﻭﺝ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﺑﺴﺮﻑ ﻓﺄﺧﺬﺕ ﺭﺩاﺋﻲ ﻓﺒﺴﻄﺘﻪ ﺗﺤﺘﻬﺎ ﻓﺄﺧﺬﻩ اﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ ﻓﺮﻣﻰ ﺑﻪ
مصنف عبد الرزاق :(6390)
ﻋﺒﻴﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ اﻷﺻﻢ راوی علی الاقل صدوق ہیں ان سے امام مسلم،امام ابو عوانہ،امام ابن خزیمہ وغیرہ نے اپنی صحاح میں روایت لی ہے یوں یہ اثر قوی ثابت ہے
ﺃﺧﺒﺮﻧﺎ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﺤﻜﻢ، ﻗﺎﻝ: ﺃﺧﺒﺮﻧﺎ اﺑﻦ ﻭﻫﺐ، ﻗﺎﻝ: ﺃﺧﺒﺮﻧﻲ اﺑﻦ ﻟﻬﻴﻌﺔ، ﻭﻋﻤﺮﻭ ﺑﻦ اﻟﺤﺎﺭﺙ، ﻋﻦ ﻳﺰﻳﺪ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﺣﺒﻴﺐ، ﻋﻦ ﻗﻴﺲ ﺑﻦ ﺭاﻓﻊ، ﺃﻥ ﺃﺑﺎ ﻫﺮﻳﺮﺓ، ﺃﻭﺻﻰ ﺃﻫﻠﻪ ﺣﻴﻦ ﺗﻮﻓﻲ ﺃﻥ ﻻ ﻳﻈﻬﺮﻭا ﻋﻠﻴﻪ اﻟﻄﻴﺐ، ﻭﻻ ﻳﺠﻌﻠﻮﻩ ﻓﻲ ﻗﻄﻴﻔﺔ ﺣﻤﺮاء
الأوسط لابن المنذر:(3209)
قیس بن رافع الأسجعي سے بعض ثقات نے روایت کیا ہے یوں یہ اثر لا بأس به ہے
جب صحابی اپنے جسم پر سرخ چادر کو نہ ڈالنے کی وصیت کر رہے ہیں تو تو قبر میں چادر ڈالنا تو بالاولی ان کے نزدیک درست عمل نہیں تھا ورنہ وہ مزید بھی کچھ ارشاد فرماتے ۔
میرے علم وتحقیق کے مطابق یہ تفسیر و توضیح اوپر کی تصریحات کے مطابق بہتر و مناسب ہے۔
الحاصل:
قبر میں میت کے نیچے چادر بچھانا قرآن کریم اور احادیث صحیحہ سے ثابت نہیں ہے
یہی وجہ ہے کہ خلفاء راشدین، امہات المؤمنین،اہل بیت ،صحابہ کرام رضوان الله تعالی علیھم اجمعین اور سلف صالحین سے یہ عمل ثابت نہیں ہے۔
اس لئے قبر کے اوپر چادر ڈالنے کی دلیل حدیث ابن عباس رضی الله عنہ کو بنانا
دیانت علمی کے خلاف اور محض سینہ زوری ہے ۔اور یہ ایک ایسی جسارت ہے جس کی تائید نہ قرآن وحدیث سے ہوتی ہے اور ماں ہی تعامل صحابہ،سلف صالحین سے۔
ہمیں اپنے عقائد ونظریات اور اعمال صحابہ کرام رضوان الله تعالی علیھم اجمعین،سلف صالحین،ائمہ محدثین سے لینے چاہیے ہیں کہ وہی لوگ دین و شریعت کے اولین مخاطب تھے اور انہوں نے ہی صحیح معنوں میں دین و شریعت،احکامات و ارشادات نبویہ کو سمجھا ہے اور عمل کیا ہے ان سے تجاوز کرنا ہلاکت وگمراہی ہے اور ان کی پیروی کرنا ہدایت و نجات حاصل کرنا ہے۔
هذا ما عندي والله أعلم بالصواب
فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ


