سوال 7330
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ صَلَّى عَلَيَّ عِنْدَ قَبْرِي سَمِعْتُهُ، وَمَنْ صَلَّى عَلَيَّ نَائِيَا أَبْلِغْتُهُ.
[شعب الايمان للبيهقي : 1481 ، تعظيم النبي الله و اجلاله و توقيره]
کیا یہ حدیث صحیح ہے اور اس کا مطلب بھی بتادیں۔ شکریہ
جواب
روایت ثابت نہیں، امام بيهقي اس روایت کو اس سند سے نقل کرتے ہیں :
حدثنا عيسى بن عبد الله الطيالسي، حدثنا “العلاء بن عمرو الحنفي”، حدثنا “أبو عبد الرحمن” عن “الأعمش، عن” أبي صالح، عن أبي هريرة
[شعب الإيمان :1481]
سند میں ابو عبدالرحمن سے مراد محمد بن مروان السدي ہے
[حياة الأنبياء : 46]
نیز اس بات کی تائید مزید امام عقیلی کی سند ہے،
ومن حديثه ما حدثناه إسماعيل بن نميل الخلال البغدادي، حدثنا “العلاء بن عمرو” ، حدثنا ” محمد بن مروان ،” عن “الأعمش، عن” أبي صالح، عن أبي هريرة قال
[كتاب الضعفاء الكبير للعقيلي : 136/4]
یہ روایت موضوع، من گھڑت ہے۔
1 : سند میں العلاء بن عمرو الحنفي ضعیف ہے۔
امام ذہبی نے اسکو کمزور قرار دیا ہے
[كتاب ميزان الاعتدال : 365/4]
ایک جگہ متروک قرار دیا ہے، نیز امام ابن حبان نے اس کو ناقابل حجت قرار دیا ہے
[كتاب ميزان الاعتدال : 103/3]
2 : سند میں ابو عبدالرحمن محمد بن مروان السدي کذاب، حدیثیں گھڑنے والا ہے
جریر بن عبدالحمید اور صالح بن محمد البغدادي نے اسے کذاب اور حدیثیں گھڑنے والا قرار دیا ہے
[تهذيب الكمال في أسماء الرجال : 393/26]
دیگر کبار ائمہ نے بھی اس راوی پر سخت جرح کی ہے
3 : سليمان الأعمش (مدلس) کا عنعنة ہے
روایت پر محدثین کی آراء :
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ نے اس روایت پر جرح کی ہے
[التوسل والوسيلة : 144]
امام ذہبی نے اس روایت پر سخت جرح کرتے ہوئے اسکو موضوعات (من گھڑت) احادیث میں نقل کیا ہے
[ترتیب موضوعات للذھبي : ص 80، رقم 206]
امام سیوطی نے اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے
[الجامع الصغير : 8793]
زيلعي نے بھی اس روایت پر جرح کی ہے
[تخريج الكشاف : 135/3]
امام عقیلي لکھتے ہیں :
لا أصل له من حديث الأعمش وليس بمحفوظ
یہ روایت اعمش سے ثابت نہیں، اس کی کوئی اصل نہیں، اور یہ محفوظ (یعنی معتبر و صحیح طور پر منقول) بھی نہیں ہے
[كتاب الضعفاء الكبير للعقيلي : 136/4]
محمد ابن عبد الهادي نے اس روایت کو موضوع (منگھڑت) قرار دیا ہے
[الصارم المنكي : 351]
علامہ البانی نے اس روایت کو موضوع قرار دیا ہے
[الآيات البينات : 44]
شیخ زبیر علی نے اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے
[تخریج المشکوۃ لعلیزئي : 934]
المقصود یہ روایت موضوع من گھڑت ہے، ثابت نہیں
ھذا ما عندي والله اعلم بالصواب
فضیلۃ العالم حافظ محمد عبداللہ حفظہ اللہ



