سوال

قبرستان میں دیکھ کر یا زبانی قرآن پڑھناجائز ہے یا نہیں؟ اکثر لوگ کم از کم  سورۃ فاتحہ یا تین مرتبہ سورۃ اخلاص پڑھ کےقبرستان میں تمام مسلمانوں کو ایصال ثواب کر دیتے ہیں!

جواب

الحمدلله وحده، والصلاة والسلام على من لا نبي بعده!

قبرستان میں  جاکر سلام اور مسنون دعا کرنا ثابت ہے، جیسا کہ حضر ت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے استفسار کیا تو آپ نے انہیں رہنمائی فرمائی تھی کہ یہ دعا پڑھا کریں:

“السَّلَامُ عَلٰى أَهلِ الدِّيارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ، وَيرْحَمُ اﷲُ الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنَّا وَالْمُسْتَأْخِرِينَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اﷲُ بِکُمْ لَلَاحِقُوْنَ”.[مسلم:2256]

’اے مومنو اور مسلمانوں کے گھر والو! تم پر سلامتی ہو، اﷲ تعالیٰ ہمارے اگلے اور پچھلے لوگوں پر رحم فرمائے اور اگر اﷲ تعالیٰ نے چاہا تو ہم بھی تمہیں ملنے والے ہیں‘۔

یہ دعا ملتے جلتے الفاظ کے ساتھ مختلف روایات سے ثابت ہے، جس کا مقصد قبرستانوں والوں کے لیے سلامتی، رحمت اور مغفرت کی دعا کرنا ہے۔

اسکے علاوہ  قبرستان میں جا کر یا قبروں کے ارد گرد بیٹھ کر فاتحہ، اخلاص، یسین،  قرآن پڑھنا يہ عمل قرآن و سنت سے ثابت نہیں ہے اور خير و بھلائى قرآن وسنت كى اتباع و پيروى میں ہے۔

رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

“مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ”. [صحيح البخاری:1718]

’جس نے ہمارے اس امر (دین) میں کوئی ایسی نئی بات شروع کی جو اس میں نہیں تو وہ مردود ہے‘۔

ايك اور حديث ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

“من عمل عملا ليس عليه أمرنا فهو رد”. [ صحيح مسلم:4493]

” جس نے بھى كوئى ايسا عمل كيا جس پر ہمارا حكم نہيں ہے تو وہ عمل مردود ہے”۔

نہ تو یہ  نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا طريقہ تھا اور نہ ہى آپ كے خلفائے راشدين كا طريقہ تھا كہ قبروں پر قرآن مجيد كى تلاوت كى جائے، يا پھر فوت شدگان كے ليے محفلیں اور جشن منائےجائيں اور ان كى برسياں منائى جائيں۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

“عَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الْمَهْدِيِّينَ الرَّاشِدِينَ تَمَسَّكُوا بِهَا وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ”. [سنن ابوداؤد: 4607]

’’تم میری سُنت اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو اپنائے رکھنا، اور اسکو خوب مضبوطی سے تھامنا، بلکہ ڈاڑھوں سے پکڑے رکھنا، اور نئی نئی بدعات و اختراعات سے اپنے آپ کو بچائے رکھنا، بلاشبہ ہر نئی بات بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے‘‘ـ

اسی طرج  رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے صحيح طور پر ثابت ہے كہ  آپ خطبہ جمعہ ميں فرمايا كرتے تھے:

“إِنَّ خَيْرَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ ، وَخَيْرُ الْهُدَى هُدَى مُحَمَّدٍ ، وَشَرُّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا ، وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ “. [ صحيح مسلم:2005]

’يقينا سب سے بہتر بات اللہ تعالى كى كتاب ہے، اور سب سے بہتر طريقہ محمد صلى اللہ عليہ وسلم كا ہے، اور سب سے برا كام  ایجاد کردہ  بدعات ہیں ، اور ہر بدعت گمراہى ہے‘۔

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے صحيح احاديث ميں مسلمان كو فوت ہونے كے بعد فائدہ دينے والى اشيا بيان كرتے ہوئے فرمايا:

” إِذَا مَاتَ ابنُ آدم انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثٍ: صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ، أو عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ”. [صحيح مسلم: 4223]

” جب انسان فوت ہو جاتا ہے، تو اس كے سارے عمل منقطع ہو جاتے ہيں،  سوائے تين  چیزوں کے: صدقہ جاريہ، يا نفع مند علم، يا نيك اور صالح اولاد جو اس كے ليے دعا كرتى رہے”۔

ابواسید مالک بن ربیعہ ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران بنو سلمہ کا ایک شخص آپ کے پاس آیا اور عرض کیا:

” يا رسول الله، هل بقي من بر أبوي شيء أبرُّهما به بعد موتهما؟”

اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ  کی وفات کے بعد ان کے ساتھ حسن سلوک کی کوئی صورت ہے؟

آپ نے فرمایا:

“نعم، الصلاة عليهما، والاستغفار لهما، وإنفاذ عهدهما من بعدهما، وصلة الرحم التي لا توصل إلا بهما، وإكرام صديقهما”.

’ہاں ہے، ان کے لیے دعا اور استغفار کرنا، ان کے بعد ان کی وصیت کو نافذ کرنا، جو رشتے ان کی وجہ سے معرض وجود میں آئے، انہیں برقرار رکھنا، ان کے دوستوں کی خاطر مدارات کرنا‘۔ [سنن أبي داود:5142، سنن ابن ماجة:3664]

ایصالِ ثواب کا مسنون طریقہ یہی ہے ۔ اس کے علاوہ جتنے طریقے ہمارے ہاں رائج ہو گئے ہیں،  قرآن وسنت میں، یا عہدِ نبوی اور عہدِ صحابہ میں ایسی کسی سرگرمی کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ میں کئی ایک صحابہ کرام اور صحابیات دنیا سے رخصت ہوئیں، آپ نے ان کے لیے کفن ، دفن، نمازِ جنازہ اور دعا کا اہتمام کیا، جس کی تفصیلات کتبِ احادیث میں موجود ہیں۔ وہاں کہیں بھی قبرستان یا میت کے گھر یا اس سے ہٹ کر کسی جگہ ایسی کوئی محفل و مجلس منعقد کرنے  کا ذکر نہیں، جس قسم کی سرگرمیاں آج ہمارے ہاں ایصالِ ثواب وغیرہ  کے نام پر منعقد کی جاتی ہیں۔

بلکہ اس قسم کی رسوم و رواج ہندو مذہب سے دیکھا دیکھی مسلمانوں میں سرایت کر گئی ہیں، جیسا کہ ہندو سے مسلمان ہونے والے بزرگ مولانا عبید اللہ مالیرکوٹلوی نے اپنی کتاب ( تحفۃ الہند، ص:188 ) میں لکھا ہے۔

وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين

مفتیانِ کرام

فضیلۃ الشیخ  ابو محمد عبد الستار حماد حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ  عبد الحلیم بلال حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ جاوید اقبال سیالکوٹی حفظہ اللہ

فضیلۃ الدکتور عبد الرحمن یوسف مدنی حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ  سعید مجتبیٰ سعیدی حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ ابو عدنان محمد منیر قمر حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ  محمد إدریس اثری حفظہ اللہ