سوال 7426
السلام علیکم و رحمۃ الله و برکاته
محترم شیخ ایک بھائی کا سوال ہے کہ اس پر 3 ؛4 لاکھ روپے قرض ہے اور وہ 70 ھزار روپے ماہانہ تنخواہ بھی لیتا ہے لیکن وہ گھر پر خرچ کرتا ہے اور کچھ قرض میں دے دیتا ہے.
تو ابھی اس کا بھنڈی کا فصل ہے تو کیا اس پر اس فصل میں عشر ادا کرنا لازم ہوگا؟
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
سبزی کے عشر میں اختلاف ہے۔ بعض علماء کا یہ کہنا ہے کہ جو سبزیاں سٹاک کی جا سکتی ہیں ان پر زکوٰۃ ہوتی ہے اور بعض کہتے ہیں عموم پر ہے: “مما أخرجنا لکم من الأرض”
اگر عموم کو لیا جائے یا سٹاک کو لیا جائے لیکن پیداوار کا نصاب ضروری ہے۔ وہ 19 یا 20 من ہے پکا۔ اتنی پیداوار ہو تو عشر یا نصف العشر پڑ جاتا ہے۔ موقف جونسا بھی اختیار کر لیں۔ بھنڈی سٹاک نہیں کی جا سکتی زیادہ میرا خیال ہے۔ تو اگر مطلقاً لیں تو پھر عشر دینا چاہیے یا نصف العشر فصل پہ۔ اور اگر ان سبزیوں میں ڈالا جائے جو سٹاک نہیں ہو سکتی وہ نہ دیا جائے۔ رائے تو موجود ہے البتہ اس میں یہ جو تین چار لاکھ کی بحث ہے 70 ہزار آمدن کی بحث ہے اس کا اس سے کوئی معاملہ نہیں ہے۔ ہاں یہ ہے کہ اس کی آمدن دینے کے بعد بھی وہ مقروض رہے تو پہلے قرضہ اترے گا زکوٰۃ بعد میں ہوگی اگر نصاب کو معاملہ پہنچے گا تو۔ قرضہ مقدم ہے زکوٰۃ پر عشر پر۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

