سوال 7289
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
شیخ محترم قسطوں پر جانور خریدنے کے بارے میں رہنمائی فرما دیں شکریہ بارک اللہ فیکم
جواب
وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته ادھار پر جانور کی خرید و فروخت جائز ہے۔
حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے جوان اونٹ قرض لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صدقہ کے اونٹ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ اس آدمی کو اس کے (جوان اونٹ کے عوض) جوان اونٹ دے دو، تو حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ نے واپس آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ مجھے ان اونٹوں میں اس سے بہتر ساتویں سال کا اونٹ ہی ملتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے وہی دے دو، کیونکہ بہترین لوگ وہی ہیں، جو قرض بہتر انداز میں ادا کرتے ہیں۔“
[صحيح مسلم حدیث نمبر : 4108]
جہاں تک قسط کا تعلق ہے، تو اگر قسط کی وجہ سے ریٹ بڑھایا جائے، جانور ایک لاکھ کا نقد پر ہے، جبکہ قسط کی وجہ سے ایک لاکھ دس ہزار کا ہے، تو یہ جائز نہیں۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ایک سودے میں دو سودے کیے تو اس کے لیے ان میں سے یا تو کم قیمت ہے یا سود ہے۔“
[سنن ابي داود حدیث نمبر : 3461]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بیع میں دو بیع کرنے سے منع فرمایا ہے
[سنن نسائی حدیث نمبر : 4636]
[یہی روایت السنن الكبرى للبيهقي : 10878 پر بھی موجود ہے]
لیکن اس میں کچھ اضافہ ہے، راوی حدیث عبدالوہاب بن عطا کہتے ہیں :
يعني يقول: هو لك بنقد بعشرة، وبنسيئة بعشرين
یہ چیز نقد 10 کی ہے، اور ادھار پر 20 کی ہے۔
[السنن الكبرى للبيهقي : 10878]
مزید دلائل بھی موجود ہیں
فضیلۃ العالم حافظ محمد عبداللہ حفظہ اللہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
جانور ہو یا کوئی بھی چیز ہو۔ اگر ہر چیز پہلے سے طے ہو جائے جو اضافے کے ساتھ قیمت ہے قسطوں کی وجہ سے وہ فائنل ہو جائے۔ جانور اس کی قسم، اس کا رنگ یا جو جو چیزیں مطلوب ہیں اور پیمنٹ کا شیڈول سب کچھ طے ہو جائے اور اس پر اضافہ نہ کیا جائے لیٹ فیس کے نام سے تو پھر یہ جائز ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ



