سوال 7252
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
شیخ محترم قرآن پاک کے اوپر ترجمہ والا قرآن اور حدیث کی کتاب بھی نہیں رکھنی چاہیے ان کے اوپر سب سے اوپر قرآن پاک رکھنا ہے بغیر ترجمہ والا اور جو قرآن پاک اٹک کر پڑھتا ہے اس کو دوہرا اجر ہے۔ حدیث ہے کہ ایک اجر قرآن پڑھنے کا ہے اور دوسرا قرآن اٹک کر پڑھنے کا۔
رہنمائی فرمادیں شکریہ
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
1 ایسی کوئی خاص پابندی نہیں ہے۔ بطور ادب ایسا کرلیا جائے تو بہتر عمل ہے۔ لیکن اگر عربی مصحف کے اوپر ترجمہ والا قرآن رکھ دیتے ہیں تو اس میں کوئی بے ادب بھی نہیں۔
2 جو قرآن اچھے انداز سے پڑھنے سیکھنے کی کوشش کرتا ہے لیکن پھر بھی اٹکتا ہے اسے دوہرا اجر ملتا ہے۔ یہ ثابت ہے
صحیح مسلم#1862
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَاهِرُ بِالْقُرْآنِ مَعَ السَّفَرَةِ الْکِرَامِ الْبَرَرَةِ وَالَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَيَتَتَعْتَعُ فِيهِ وَهُوَ عَلَيْهِ شَاقٌّ لَهُ أَجْرَانِ
ترجمہ:
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو آدمی قرآن مجید میں ماہر ہو وہ ان فرشتوں کے ساتھ ہے جو معزز اور بزرگی والے ہیں اور جو قرآن مجید اٹک اٹک کر پڑھتا ہے اور اسے پڑھنے میں دشواری پیش آتی ہے تو اس کے لئے دوہرا اجر ہے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم باالصواب
فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ




