سوال 7323

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
ایک ساتھی کا سوال ہے جو قربانی کے بچھڑوں کا کاروبار کرتا ہے صفر یا ربیع الاول میں وہ اپنے جانور خرید لیتا ہے اور قربانی کے مہینے میں انہیں سیل کر دیتا ہے اس طرح جانور پر پورے سال کی مدت نہیں گزرتی۔ اور کچھ مہینے جانوروں کے پیسے کیش کی شکل میں بینک میں رہتے ہیں یعنی کہ پیسوں پر بھی پورا سال نہیں گزرتا اور جانوروں پر بھی۔
اسی طرح جب جانور سیل کرنے کے بعد وہ پیسے وصول کرتا ہے اس پر کچھ قرض بھی ہوتا ہے جسے وہ حاصل شدہ رقم سے ادا کر دیتا ہے۔
سائل کا سوال یہ ہے کہ میرے اس بزنس کی شکل کو دیکھ کر مجھے رہنمائی دی جائے کہ میرے اوپر زکوۃ کے بارے میں کیا لائحہ عمل ہے؟

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
جہاں تک تو جانوروں کا تعلق ہے تو میرے علم کے مطابق ان جانوروں پر زکوٰۃ نہیں اس کی وجہ یہ جانور باندھ کر ان کو چارہ کھلایا جا رہا ہے۔ ان جانوروں پر زکوٰۃ ہوتی ہے جو جنگل میں چرتے ہیں، چراگاہ میں چرتے ہیں۔ جہاں تک تعلق ہے رقم کا تو آج کل بلکہ عرصہ دراز سے بینک سٹیٹمنٹ مل جاتی ہے۔ مثال کے طور پر ابھی جولائی جا رہا ہے۔ آپ یکم اگست کا حساب لگائیں کہ یکم اگست کو میرے اکاؤنٹ میں اتنے پیسے تھے۔ اگلے سال یکم اگست تک پورے سال کی بینک سٹیٹمنٹ نکلوا لیں۔ آپ کو پتہ چل جائے گا کہ پورا سال میرے اکاؤنٹ میں اتنی رقم سے کم رقم رہی نہیں ہے۔ اور صرف اس رقم پر زکوٰۃ ہو گی کیونکہ سال گزرنا ایک شرط ہے مال پر رقم پر اور دوسری شرط ہے کہ مال ساڑھے 52 تولے چاندی کی قیمت کے برابر یا اس سے زیادہ ہو۔ تو زکوٰۃ صرف اس رقم پر ہو گی۔

فضیلۃ الشیخ عبدالرزاق زاہد حفظہ اللہ