سوال 7425
السلام علیکم و رحمۃ اللہِ وبرکاتہ
حدیث ہے رات کو زمین سکڑ جاتی ہے۔ اسبکا کیا مطلب ہے کیسے سکڑ جاتی ہے؟ رات کو سفر جلدی طے ہوتا ہے؟
اگر اسکے پیچھے کوئی اگر تھیوری وغیرہ اگر پتا ہو تو.
جزاکم اللہ خیر واحسن الجزاء فی الدنیا والاخرہ
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
کچھ چیزوں کا تعلق جو ہے وہ ایمان بالغیب کے ساتھ ہے، دراصل ایمان وہی ہے جو (یؤمنون بالغیب) بسا اوقات چیزیں انسان کی عقل سے ماورا ہو جاتی ہیں تجربات و مشاہدات بسا اوقات ساتھ دیتے ہیں بسا اوقات نہیں دیتے ہیں، لیکن (آمنا بہ کل من عند ربنا سمعنا و اطعنا) یا پھر متشابہات کا علم اللہ کی طرف لوٹا دینا یہ سلفی منہج کتاب و سنت کی یہ منشا ہے مقصود ہے مطلوب ہے اس میں بہت ساری چیزیں ہیں اس میں سے ایک یہ چیز بھی ہے اگر کسی نے کوئی خاص توجیہ کی ہے تو اس کو دیکھا جاسکتا ہے لیکن اصل بات تو یہی ہے کہ بس فرما دیا عمل کر لیا اور دیکھنے میں بھی آتا ہے کہ واقعی ایسا ہے رات کو بندہ اگر چل پڑتا ہے تو وہ لگتا ہے کہ وہ منزل پہ جلد پہنچ جاتا ہے اور یہی ظاہری الفاظ کا تقاضا بھی ہے کہ زمین کو سمیٹ دیا جاتا ہے کیفیت کیا ہے اللہ ہی جانتا ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

