سوال 7516
1۔ بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ ربیع الاول میں اجتماعی پروگرام اور کانفرنس کے انعقاد میں نیت کو دیکھا جائے گا کہ 12 تاریخ کو پروگرام/اکٹھ کرنے میں نیت اگر ثواب کی نہ ہو تو یہ جائز ہے اور اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ یعنی ہم اس دن کسی مخصوص ثواب کی نیت سے جلسے نہیں رکھتے اور کہ اس دن کی تعظیم کا ارادہ ہوتا ہے۔
حالانکہ کسی عمل میں صرف نیت پر فیصلہ نہیں ہوتا، بلکہ بندے کا عمل بھی دیکھا جاتا ہے کہ وہ شریعت کے مطابق ہے یا نہیں؟
کیونکہ عمل/طریقہ اگر سنت کے خلاف ہے تو وہ عمل ہی مردود ہے، محض نیت کے مطابق فیصلہ نہیں ہوتا بلکہ نیت اور طریقہ دونوں کو دیکھا جاتا ہے۔ جیسا کہ صحیح مسلم (2524) میں حدیثِ نبوی ہے: وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ وَأَعْمَالِكُمْ ” یعنی اللہ تمھاری نیتیں اور کام دونوں ہو دیکھتا ہے کہ وہ کیسے ہیں۔
جیسے ایک شخص نے بوانہ نامی جگہ پر جانور ذبح کرنے کی نذر مانی ہوئی تھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا وہاں کوئی میلہ اور تہوار منایا جاتا تھا؟ اس نے کہا کہ نہیں تو اپ نے اسے وہاں جانور ذبح کرنے کی اجازت دی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر لوگ کسی جگہ یا وقت پر کوئی ناجائز تہوار منائیں تو اس موقع پر کوئی جائز عمل بھی نہیں کیا جا سکتا جس سے اہل بدعت کی مشابہت ظاہر ہو۔
2۔ اسی طرح بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم اہل بدعت کے منعقد کردہ پروگراموں اور محفلوں میں جا کر درست باتیں کرتے ہیں اور کوئی بات خلافِ شریعت نہیں کرتے۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ جو عمل ہی شریعت کے خلاف ہو اس میں شرکت ہی ناجائز ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ وہاں جانا ہی اہل بدعت کی حوصلہ افزائی اور تائید ہے۔
تیسری بات یہ ہے کہ اگر کوئی شخص وہاں جا کر سر عامل ہونے والے بدعتی عمل کی صراحتاً تردید نہیں کرتا۔ یعنی اس مجلس میں بدعتی نظریے پر مبنی آویزاں اشتہارات، بدعتی نام عید میلاد کے پرچار پر مشتمل فلیکسز اور بینروں سمیت بدعتی نعروں پر کھل کر یہ نہیں کہتا کہ تمھارا یہ میلہ، اکٹھ، اجتماعی پروگرام بدعت ہے اور اس یوم میلاد پر ہونے والے یہ جشن ناجائز ہیں تو پھر کسی شخص کا وہاں جانا حرام اور ناجائز ہے۔
کیونکہ کسی بدعتی عمل یا اہل بدعت کے ہاں جا کر اگر آپ ان کے غلط کام کی تردید نہیں کرتے تو وہاں جانا ان کی تائید ہے، وہاں بیٹھ کر ان کی غلط باتیں سننا گناہ ہے اور گونگا شیطان بننا ہے، نیز ان کی مجلس میں شرکت بالاجماع ناجائز ہے۔ خواہ آپ وہاں جا کر میٹھے میٹھے انداز میں سیرت بیان کریں، صلح جوئی اور اتحاد امت کی باتیں کریں، کیوں کہ یہ رویہ سرا سر اس بدعتی عمل کی تحسین اور اہل حق کی غلط نمائندگی کا وہ بوجھ ہے جو ہمارے کچھ مذہبی لیڈر اٹھا رہے ہیں اور اہل حق کو اپنے طرز عمل سے غلط راستے پر ڈال رہے ہیں جس کا مقصد محض دنیوی مفادات تعلقات اور ووٹ کا حصول ہے۔
3۔ بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ ان دنوں جلسے کرنے سے اچھا پیغام جاتا ہے اور لوگ سن کر نیک اعمال سیکھتے، سنت کے قریب آتے اور اہل حدیث بن جاتے ہیں۔ بلکہ بعض احباب تو کہتے ہیں کہ ہمارے تیجے دسویں پر جا کر تقریریں کرنے سے لوگوں کی اصلاح ہوتی اور کئی تو اہل حدیث بن جاتے ہیں۔
اس حوالے سے پہلی بات تو یہ ذہن میں رکھیے کہ کسی کام میں سب سے پہلے یہ نہیں دیکھا جاتا کہ عمل کا نتیجہ کیا نکلا ہے۔ بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ جو کام کیا جا رہا ہے خود وہ عمل سنت کے مطابق ہے یا نہیں؟!
کیوں کہ ہمارے لیے نتیجہ نہیں، عمل کا طریقہ اہم ہوتا ہے کہ وہ سنت کے مطابق انجام پا رہا ہے یا نہیں؟
وگرنہ یہ دروازہ کھلا تو پھر ہر بدعتی مجلس میں جا کر یا اہل بدعت کی طرح وفات/خوشی کے موقع پر اکٹھ کر کے درس و تقریر کی ایسی بدعات شروع ہوں گی جن کو روکا نہیں جا سکتا۔
آخری گزارش یہ ہے کہ ایسے مواقع پر ہمیںشہ ایسے علماء سے راہنمائی لیا کریں جنھوں نے علوم شرعیہ کی تحصیل علمائے راسخین سے کی ہو اور زندگی کا بڑا عرصہ تعلیم وتعلم میں گزارا ہو، کیوں کہ انہی کی نظر نصوصِ شرعیہ پر حاوی ہوتی ہے اور طویل عرصہ درس وتدریس سے فہم شریعت کا ملکہ راسخہ پیدا ہوتا ہے۔
ایسے مسائل میں کسی انجینئر، ڈاکٹر، موٹی ویشنل اسپیکر، مذہبی/تنظیمی لیڈر، پروفیسر، پیشہ ور واعظ وغیرہ کے طرز عمل اور باتوں سے کوئی اثر نہیں لینا چاہیے۔ کیوں کہ شرعی مسائل میں بولنا یہ اللہ و رسول کا حکم بتانا ہے اور یہ صرف ماہرینِ علم شریعت ہی کا منصب ہے۔ دیگر لوگوں کو اللہ سے ڈرنا چاہیے کہ مبادا ہم کسی ایسے بدعی عمل کو ایجاد کر بیٹھیں جس کا وزر ہمیشہ باقی رہے۔ نسال اللہ العافیہ
الشیخ حافظ شاہد رفیق حفظه الله
اس پر توجہ فرمائیں۔ جزاک اللہ خیرا
جواب
بارک اللہ فیکم
جی بالکل اسی طرح سے ہے۔ دن مختص کرکے قصدا سالانہ طور پر 12 ربیع الاول کو کانفرس کرنے کا ہر سال معمول بنانا یہ بھی درست نہیں۔
اگر برائی کو ہاتھ،زبان سے روکنے والی مطلقا حدیث سے 12 ربیع الاول کو ہر سال دن مختص کرکے سیرت کانفرنسوں کا جواز بیان کرنا ہے تو پھر علی ہجویری دربار جیسی جگہوں پر میلے لگتے ہیں تو ان دنوں میں بھی ہر سال فکس کرکے کانفرسیں رکھ دی جائیں، 25 دسمبر کو بھی سیرت/معجزات عیسی علیہ السلام کے نام کی کانفرنسیں رکھ دی جائیں۔ یا برائی سے روکنے والی حدیث صرف 12 ربیع الاول کے بارے میں ہے؟
ابھی یہ معاملات ہم نہیں کہتے کہ اہل توحید میں بدعت کی صورت بن چکے ہیں، بلکہ اصل بات ہے کہ اگر ان میں احتیاط نہ کی گئی تو آنے والے وقت میں غیر محتاط واعظین ان کو خطرناک صورت بنا دیں گے۔
کسی دن، مہینے،کسی چیز سے مختص کرکے خاص دنوں کی نسبت کسی بھی عمل سے ظاہر نہ ہو باقی مطلقا اہل بدعت کا رد کرتے رہیں جیسے بھی ہو۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم باالصواب
فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ




