سوال 7211

السلام علیکم ورحمۃ اللہ
شیخ مکرم تین اکٹھے حرمت والے مہینوں کی حکمت اور توجیہ کا اندازہ ہے، لیکن رجب کو حرمت والے مہینوں میں شامل کیا گیا ہے، اس کی کوئی توجیہ یا اس کی کوئی حکمت آپ کی نظر میں ہو تو رہنمائی فرما دیں۔ شکرا جزیلا بارک اللہ فیکم

جواب

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ گزارش یہ ہے کہ دنیا کے ہر معاملے میں حکمت یا لاجک تلاش کرنا یہ شریعت کے مزاج کے منافی ہے۔ ہمیں صرف اتنا پتہ ہے کہ: “اِن عدة الشهور عند اللہ اثنا عشر شہرا فی کتاب اللہ یوم خلق السماوات والارض منہا اربعۃ حرم” کہ اللہ کے ہاں گنتی مہینوں کی جس دن سے زمین و آسمان کو پیدا فرمایا اس دن سے 12 ہے ان میں چار حرمت والے مہینے ہیں۔ اب ان کو اللہ نے تین اکٹھے رکھ کے ایک علیحدہ کیوں ذکر کیا اس پر اگر ہم اپنے عقل کے گھوڑے دوڑائیں گے تو ظاہر سی بات ہے اس کی کوئی دلیل یا کوئی ثبوت ہمارے پاس نہیں ہو گا۔ تو جس چیز کی کوئی دلیل یا ثبوت ہمارے پاس نہ ہو ہم اس میں مغز ماری کیوں کریں، کھپائی کیوں کریں؟ ہر چیز کا لاجک ضروری نہیں ہے۔ امید ہے کہ ان شاء اللہ آپ کو سمجھ آگئی ہو گی۔ واللہ تعالی اعلم بالصواب

فضیلۃ الشیخ عبدالرزاق زاہد حفظہ اللہ

اس کی ایک توجیہ یہ ہو سکتی ہے چونکہ ذی الحج میں حج کیا جاتا تھا جس کے لیے حجاج کے قافلے دور دراز سے مکہ آتے جاتے تھے۔ اس کے لیے ظاہر ہے زیادہ وقت درکار تھا۔ سو حرمت کا دورانیہ بڑھا دیا گیا تاکہ زیادہ عرصے تک امن برقرار رہے اور حجاج سہولت کے ساتھ اس فریضے کی ادائیگی کے بعد محفوظ و مامون اپنے اپنے علاقوں کو لوٹ سکیں۔

فضیلۃ العالم حافظ قمر حسن حفظہ اللہ