سوال 7303

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ!
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کو جو وجہ تخلیق کائنات کہنے والی احادیث ہیں، ان کی استنادی حیثیت کیا ہے؟
قرآن وحدیث کی روشنی میں رہنمائی فرمادیں۔ جزاکم اللہ خیرا کثیرا

جواب

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
موضوع روایت ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته بغیر کسی شک اور شبہ کے باطل اور من گھڑت روایت ہے۔
امام ابن الجوزي نے كتاب الموضوعات کے اندر ایک روایت نقل کی ہے۔
…ولولاك يا محمد ما خلقت الدنيا…
اور اگر دنیا آپ نہیں ہوتے، تو میں دنیا پیدا نہ کرتا۔
ساتھ ہی ابن الجوزي لکھتے ہیں:
هذا حديث موضوع لا شك فيه، وفى إسناده مجهولون وضعفاء
“یہ حدیث بلا شبہ من گھڑت (موضوع) ہے، اور اس کی سند میں ایسے راوی موجود ہیں جو مجہول اور ضعیف ہیں۔”
[كتاب الموضوعات لابن الجوزي : 289/1]
یہی روایت امام ابن عساکر نے تاریخ دمشق میں باسند روایت کی ہے، اس ہی پر امام ابن الجوزي کی جرح ہے، جو اوپر بیان کی گئی ہے۔
[تاريخ دمشق لابن عساكر : 517/3]
جلال الدین سیوطي نے بھی جرح کے ساتھ اس روایت کو موضوع من گھڑت قرار دیا ہے
[اللآلئ المصنوعة في الأحاديث الموضوعة : 249/1]
صغاني نے اس روایت کو من گھڑت قرار دیا ہے
[الموضوعات للصغاني : 52]
ملا علی قاری کا یہ لکھنا کہ اس کا معنیٰ صحیح ہے، محتاجِ دلیل ہے!
علامہ البانی نے اس روایت کو باطل قرار دیا ہے۔
[بداية السول : 18، سلسلة الضعيفة : 282]
كتاب الفردوس بمأثور الخطاب للدیلمي میں یہ روایت بغیر کسی سند کے منقول ہے
[كتاب الفردوس بمأثور الخطاب للدیلمي : 8029]
ھذا ما عندي والله اعلم بالصواب

فضیلۃ العالم حافظ محمد عبداللہ حفظہ اللہ

سائل: واعظین کے لیے فضیلت کے لیے لوگوں کی رغبت دلانے کے لیے اس روایت کو بیان کرنے کا کیا حکم ہے بارک اللہ
جواب: لوگوں کو اس پر رغبت دلائیں،

مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص عمداً میری طرف جھوٹی بات منسوب کرے گا، وہ اپنا ٹھکانہ آگ (دوزخ) میں بنا لے
[صحیح مسلم حدیث نمبر : 4]
جان بوجھ کر رسول اللہ ﷺ کی طرف جھوٹ منسوب کرنا کبیرہ گناہ ہے، لہٰذا لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ فضائل سنائیں، جو قرآن نے بیان کیے، صحیح احادیث میں موجود ہیں، نہ کہ موضوع اور من گھڑت …!
ھذا ما عندي والله اعلم بالصواب

فضیلۃ العالم حافظ محمد عبداللہ حفظہ اللہ

حدیث موضوع اور من گھڑت ہے اس کو بیان کرنا صحیح نہیں۔

فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ