سوال 7345

السلام علیکم و رحمة اللہ وبرکاتہ!
رزق اور روزی میں برکت کیلئے روزانہ مغرب کے بعد سورہ واقعہ پڑھنے کا کہا جاتا ہے، یہ عمل کیسا ہے؟
قرآن وحدیث کی روشنی میں رہنمائی فرمادیں۔ جزاکم اللہ خیرا

جواب

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
قرآن و حدیث میں ایسی کوئی صحیح دلیل نہیں ملتی کہ رزق میں برکت کے لیے مغرب کے بعد سورۂ واقعہ پڑھنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بطورِ خاص ثابت ہو۔
البتہ بعض لوگوں کے ذاتی تجربات ہوتے ہیں کہ انہوں نے سورۂ واقعہ پڑھی تو اللہ تعالیٰ نے ان کے رزق میں فراوانی عطا فرمائی، یا کسی نے سورۃ یٰسین یا سورۃ الرحمن پڑھی اور اللہ تعالیٰ نے اس کی مشکل آسان فرما دی۔ یہ ان کے ذاتی تجربات اور معمولات ہو سکتے ہیں۔
لہٰذا اگر کوئی شخص قرآنِ مجید کی برکت کی امید رکھتے ہوئے، اپنے یا کسی معتبر شخص کے تجربے کی بنا پر سورۃ واقعہ یا قرآن کی کوئی دوسری سورت پڑھتا ہے، تو ان شاء اللہ اس میں کوئی حرج نہیں۔
البتہ یہ عقیدہ رکھنا یا یہ کہنا کہ یہ عمل سنت ہے، یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بطورِ خاص ثابت ہے، درست نہیں؛ کیونکہ اس بارے میں کوئی صحیح دلیل موجود نہیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔

فضیلۃ الباحث حسین سوھل حفظہ اللہ

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته مختصراً یہ روایت ثابت نہیں۔
ھذا ما عندي والله اعلم بالصواب

فضیلۃ العالم حافظ محمد عبداللہ حفظہ اللہ

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
یہ جو کہا جاتا کہ مغرب کے بعد سورة واقعہ پڑھنے سے رزق کی تنگی دور ہوتی، یہ ثابت نہیں۔
یہ روایت ان الفاظ کے ساتھ موجود ہے
شعب الایمان#2268

أخبرنا أبو عبد الله الحافظ، أخبرني أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه من أصل كتابه، حدثنا أحمد بن بشر المرثدي، حدثنا خالد بن خداش، حدثنا عبد الله بن وهب، حدثنا السري بن يحيى، أن شجاعًا حدثه عن أبي ظبية، عن ابن مسعود قال سمعت رسول الله ﷺ: «من قرأ سورة الواقعة في كلّ ليلة لم تصبه فاقةٌ».

جو آدمی ہر رات سورہ واقعہ پڑھے گا اسے کبھی فاقہ نہ پہنچے گا۔
شعب الإيمان – ط الرشد ٤/‏١١٩ — أبو بكر البيهقي (ت ٤٥٨)
لیکن سنداً ثابت نہیں, ضعیف ہے.
شجاع اور ابوطیبہ مجہول راوی ہیں حافظ ابن حجر نے دونوں کو مجہول قرار دیا ہے.
لہذا, مغرب کے بعد سورۃ واقعہ پڑھنے سے فاقہ نہیں آتا یہ بات صحیح حدیث سے ثابت نہیں.
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ

وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته
یہ فضیلت کسی بھی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے اور یہ روایت سند و متن کے ساتھ مضطرب و منکر ہے۔
یہ روایت کئ طرق واسانید سے
فضائل الصحابة لأحمد :(1247)،مسند الحارث:(721) ،
عمل اليوم والليلة لابن السني :(680) ،أمالي ابن بشران الجزء الثاني:(1128)، شعب الإيمان للبيهقى :(2268 ،2269 ،2270) ،ترتيب الأمالي الخميسية للشجري:(2876) ،الترغيب والترهيب لقوام السنة:(957) بيان الوهم والإيهام :4/ 662 تا 664( بمع ابن القطان کے نقد وتحقيق کے)
،إتحاف الخيرة المهرة للبوصيرى :6/ 281 ،المطالب العاليه لابن حجر :15/ 307 ،تاریخ دمشق 33/ 186 تا 188 ،فضائل القرآن للمستغفري :(938) ،فضائل القرآن للقاسم بن سلام : ص:257
تفصیل سے بحث و علل دیکھیے تخريج أحاديث الكشاف:3/ 411 تا 414(1295) میں اور مزید الضعيفة للألباني :(289) ،العلل المتناهية لابن الجوزي :(151)
منهج الإمام أحمد في إعلال الأحاديث :2/ 869 ، 870 ، لسان الميزان :4/ 235
امام أحمد نے اس روایت کو منکر کہا
المنتخب من علل الخلال:(49)
اس کی تفصیل منهج الإمام أحمد میں دیکھیے
ائمہ محدثین نے غیر ثابت،غیر محفوظ،منکر،موضوع روایات اس لئے جمع کیں کہ دفاع حدیث رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم کا حق ادا ہو اور رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم کی احادیث وارشادات کے ساتھ ضعفاء،کذابین و وضاعین ومجاہیل ومتروکین روات کی بیان کردہ روایات گھل ،مل نہ جائیں اور علوم حدیث سے ناواقف لوگ ایسی روایات کو حقیقت میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی احادیث وارشادات نہ سمجھنے لگ جائیں
یعنی ایسی روایات صرف معرفت و پہچان کے لئے نقل اور جمع کیں ناں کہ دلیل و حجت کے ارادے سے ۔
اگر آئمہ محدثین ایسے لوگوں کی روایات،اصول تحقیق اور راویان حدیث کے حالات زندگی قلم بند نہ کرتے تو آج ہمارے پاس صحیح اور غیر صحیح روایات میں فرق کرنے کا کوئی ذریعہ موجود نہ ہوتا
اور ہم ضعفاء و مجاہیل کی روایات کو بھی رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی احادیث سمجھتے اور عمل کرتے ۔
بہرحال حدیث رسول صلی الله علیہ وسلم وہی ہے جو شروط صحت پر پورا اترتی ہے اور ہر قسم کی علل سے محفوظ ہے۔
رزق کے حصول و برکت کے لئے
تقوی،استغفار،رب العالمین کی اطاعت و فرمانبرداری،صلہ رحمی،درود پاک اور ذکر وشکر کو اختیار کریں ۔
قرآن وحدیث سے صحیح معنوں میں تعلق قائم کریں اور حقیقی مسلمان بنیں۔
هذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ

سائل: السلام علیکم ورحمة اللّٰه وبرکاته.
احسن اللّٰه الیکم.
اس کے برعکس صحیح احادیث میں رزق و روزی میں برکت کے لیے کیا ہدایات دیں گئیں ہیں؟
جواب: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
رزق اور روزی میں برکت حاصل کرنے کے لیے سب سے اہم چیز نماز کی پابندی، خصوصاً وقت پر نماز ادا کرنا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ذکرِ الٰہی کا اہتمام بھی نہایت اہم ہے۔
اس موضوع پر ڈاکٹر فضل الٰہی حفظہ اللہ کی کتاب “رزق کی کنجیاں” مفید ہے، جس میں قرآن و سنت کی روشنی میں رزق میں برکت کے اسباب تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں۔
اسی طرح صحیح بخاری میں صلہ رحمی کی فضیلت آئی ہے کہ صلہ رحمی کرنے سے عمر میں برکت اور رزق میں وسعت عطا ہوتی ہے۔
مزید یہ کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے رہیں۔ صحیح بخاری کی حدیث کے مطابق ہر روز دو فرشتے نازل ہوتے ہیں؛ ایک دعا کرتا ہے: “اے اللہ! خرچ کرنے والے کو اس کا بہترین بدل عطا فرما۔”
اور دوسرا دعا کرتا ہے:
“اے اللہ! بخل کرنے والے کے مال کو تلف کر دے۔”
غرض یہ کہ نماز، ذکرِ الٰہی، صلہ رحمی، اللہ کی راہ میں خرچ کرنا اور دیگر مشروع اعمال رزق میں برکت کے اہم اسباب ہیں، جن کی مزید تفصیل مذکورہ کتاب میں دیکھی جا سکتی ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔

فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته
1 : کثرت سے استغفار کریں اللہ تعالیٰ سے کثرت کے ساتھ معافی مانگنے کے انعامات گارنٹی بھی اللہ رب العزت کی رزق میں فراوانی اولاد اور نعمتیں حاصل کرنے والا عمل

فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُم إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدرارًا وَيُمِيدُكُم بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَيَجْعَل لَكُم جَنَّاتٍ وَيَجْعَل لَكُمْ أَنْهَارًا

اپنے رب سے بخشش مانگو (اور توبہ کرو) وہ یقیناً بہت زیادہ بخشنے والا ہے۔ وہ تم پر آسمان سے خوب بارش برسائے گا اور تمہیں مال اولاد نرینہ) میں ترقی دے گا اور تمہیں باغات دے گا اور تمہارے لیے دریا جاری کرے گا
(سورۃ النوح آیت نمبر : 10 تا 12)

وَّاَنِ اسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ يُمَتِّعۡكُمۡ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَ يُؤۡتِ كُلَّ ذِىۡ فَضۡلٍ فَضۡلَهٗ ‌ؕ وَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَاِنِّىۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ كَبِيۡرٍ

اور یہ کہ اپنے رب سے بخشش مانگو، پھر اس کی طرف پلٹ آؤ تو وہ تمھیں ایک معین مدت تک اچھا ساز وسامان دے گا اور ہر زیادہ عمل والے کو اس کا زیادہ ثواب دے گا اور اگر تم پھر گئے تو یقینا میں تم پر ایک بہت بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔
(سورۃ ھود آیت نمبر : 3)
سیدنا آدم علیہ سلام کے زمین پر آنے کے بعد پہلی دعا استغفار ہے استغفار یعنی اللہ رب العزت سے معافی مانگنا اور توبہ کرنا ہے اور اس سے رحم مانگنا ہے

رَبَّنَا ظَلَمۡنَاۤ اَنۡفُسَنَا وَاِنۡ لَّمۡ تَغۡفِرۡ لَـنَا وَتَرۡحَمۡنَا لَـنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰسِرِيۡنَ

اے ہمارے رب ! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو نے ہمیں نہ بخشا اور ہم پر رحم نہ کیا تو یقینا ہم ضرور خسارہ پانے والوں سے ہو جائیں گے۔
(سورۃ الاعراف آیت نمبر : 23)
2 : اللہ رب العالمین کا اطاعت و فرمان برداری اختیار کریں

وَمَنۡ يَّـتَّـقِ اللّٰهَ يَجۡعَلْ لَّهٗ مَخۡرَجًا وَّيَرۡزُقۡهُ مِنۡ حَيۡثُ لَا يَحۡتَسِبُ‌

جو اللہ سے ڈرے گا وہ اس کے لیے نکلنے کا کوئی راستہ بنا دے گا، اور اسے رزق دے گا جہاں سے وہ گمان نہیں کرتا
(سورۃ الطلاق آیت نمبر 2 ـ 3)

وَلَوۡ اَنَّهُمۡ اَقَامُوا التَّوۡرٰٮةَ وَالۡاِنۡجِيۡلَ وَمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡهِمۡ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ لَاَ كَلُوۡا مِنۡ فَوۡقِهِمۡ وَمِنۡ تَحۡتِ اَرۡجُلِهِمۡ‌

اور اگر وہ تورات اور انجیل کی پابندی کرتے اور اس کی جو ان کی طرف ان کے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے تو یقینا وہ اپنے اوپر سے اور اپنے پائوں کے نیچے سے کھاتے۔
(سورۃ المائدہ آیت نمبر : 66)

وَلَوۡ اَنَّ اَهۡلَ الۡقُرٰٓى اٰمَنُوۡا وَاتَّقَوۡا لَـفَتَحۡنَا عَلَيۡهِمۡ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ وَلٰـكِنۡ كَذَّبُوۡا فَاَخَذۡنٰهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَكۡسِبُوۡنَ‏

اور اگر بستیوں والے ایمان لے آتے اور بچ کر چلتے تو ہم ضرور ان پر آسمان اور زمین سے بہت سی برکتیں کھول دیتے
(سورۃ الاعراف آیت نمبر : 96)
3 : اللہ رب العالمین کی عبادت، اسکے احکامات پر ڈٹ جائیں

وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ مَا أُرِيدُ مِنْهُمْ مِنْ رِزْقٍ وَمَا أُرِيدُ أَنْ يُطْعِمُونِ إِنَّ اللَّهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ

“اور میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔ میں ان سے نہ کوئی رزق چاہتا ہوں اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں۔ بے شک اللہ ہی بہت زیادہ رزق دینے والا، بڑی قوت والا، نہایت مضبوط ہے۔”
(سورۃ الذاریات : 56- 58)
اللہ کے احکام کے مطابق زندگی بسر کرنے کا نام عبادت ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

يَقُولُ اللَّهُ سُبْحَانَهُ: يَا ابْنَ آدَمَ , تَفَرَّغْ لِعِبَادَتِي أَمْلَأْ صَدْرَكَ غِنًى , وَأَسُدَّ فَقْرَكَ , وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ , مَلَأْتُ صَدْرَكَ شُغْلًا , وَلَمْ أَسُدَّ فَقْرَكَ

”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ابن آدم! تو میری عبادت کے لیے فارغ ہو جا تو میں تیرا سینہ بے نیازی سے بھر دوں گا، اور تیری محتاجی دور کر دوں گا، اگر تو نے ایسا نہ کیا تو میں تیرا دل مشغولیتوں سے بھر دوں گا، اور تیری محتاجی دور نہ کروں گا
(سنن ابن ماجہ حدیث نمبر : 4107)
4 : اللہ کے احکامات پر اس یقین سے عمل کریں کہ آپکا حصول آخرت بن جائے
زید بن ثابت بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا

مَنْ كَانَتِ الدُّنْيَا هَمَّهُ , فَرَّقَ اللَّهُ عَلَيْهِ أَمْرَهُ , وَجَعَلَ فَقْرَهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ , وَلَمْ يَأْتِهِ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا مَا كُتِبَ لَهُ , وَمَنْ كَانَتِ الْآخِرَةُ نِيَّتَهُ , جَمَعَ اللَّهُ لَهُ أَمْرَهُ , وَجَعَلَ غِنَاهُ فِي قَلْبِهِ , وَأَتَتْهُ الدُّنْيَا وَهِيَ رَاغِمَةٌ

جس شخص کا مقصود حصولِ دنیا ہو، اللہ تعالیٰ اس کے کام بکھیر دیتا ہے اور اس کا فقر اس کی آنکھوں کے سامنے کر دیتا ہے اور اسے اتنی ہی ملتی ہے جتنی اس کے لیے مقدر ہے اور جس کی نیت آخرت کا حصول ہو، اللہ تعالیٰ اس کے کام مرتب کر دیتا ہے اور اس کے دل میں استغنا پیدا فرما دیتا ہے اور دنیا ذلیل ہو کر اس کے پاس آتی ہے
(سنن ابن ماجہ حدیث نمبر : 4105)
5 : دینی طالب علموں پر خرچ کرنا
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:

كَانَ أَخَوَانِ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ أَحَدُهُمَا يَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (وَفِي رِوَايَةٍ: يَحْضُرُ حَدِيثَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَجْلِسَهُ)، وَالْآخَرُ يَحْتَرِفُ، فَشَكَا الْمُحْتَرِفُ أَخَاهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! [إِنَّ هَذَا أَخِي لَا يُعِينُنِي بِشَيْءٍ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَعَلَّكَ تُرْزَقُ بِهِ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں دو بھائی تھے، ان میں سے ایک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا جاتا رہتا تھا اور ایک روایت میں ہے: ایک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو اور مجلس میں حاضر رہتا، جبکہ دوسرا کمائی کرنے میں (مصروف رہتا تھا)۔ کمائی کرنے والے نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی اور کہا: اے اللہ کے رسول: یہ میرا بھائی میرے (کام کاج میں میری)کوئی معاونت و مدد نہیں کرتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شاید تجھے اسی کی وجہ سے سے رزق دیا جا رہا ہو
(سلسله احاديث صحيحه حدیث نمبر :1061)
6 : کمزور لوگوں پر خرچ کریں، انکی دعائیں لیں،

رَأَى سَعْدٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،أَنَّ لَهُ فَضْلًا عَلَى مَنْ دُونَهُ،فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: هَلْ تُنْصَرُونَ وَتُرْزَقُونَ إِلَّا بِضُعَفَائِكُمْ

سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا خیال تھا کہ انہیں دوسرے بہت سے صحابہ پر (اپنی مالداری اور بہادری کی وجہ سے) فضیلت حاصل ہے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تم لوگ صرف اپنے کمزور معذور لوگوں کی دعاوں کے نتیجہ میں اللہ کی طرف سے مدد پہنچائے جاتے ہو اور ان ہی کی دعاوں سے رزق دئیے جاتے ہیں۔
(صحیح البخاري حدیث نمبر : 2896)
حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا:

ابْغُونِي الضَّعِيفَ، فَإِنَّكُمْ إِنَّمَا تُرْزَقُونَ، وَتُنْصَرُونَ بِضُعَفَائِكُمْ

میرے پاس کسی ضعیف شخص کو تلاش کر کے لاؤ، کیونکہ ان ضعیف و کمزور لوگوں کی وجہ سے تمہیں رزق ملتا ہے اور تمہاری مدد کی جاتی ہے۔“
سیدنا ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

وَمَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ يَسَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ

جس شخص نے کسی تنگ دست کے لیے آسانی کی ، اللہ تعالیٰ اس کے لیے دنیا اور آخرت میں آسانی کرے گا
(صحیح مسلم حدیث نمبر : 6853)
7 : بار بار حج عمرہ کرنا
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:” تَابِعُوا بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، فَإِنَّهُمَا يَنْفِيَانِ الْفَقْرَ وَالذُّنُوبَ، كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ

”حج و عمرہ ایک ساتھ کرو، کیونکہ یہ دونوں فقر اور گناہ کو اسی طرح دور کرتے ہیں جس طرح بھٹی لوہے کی میل کو دور کر دیتی ہے“۔
(سنن نسائي حدیث نمبر : 2631)
8 : نکاح کرنا

وَاَنۡكِحُوا الۡاَيَامٰى مِنۡكُمۡ وَالصّٰلِحِيۡنَ مِنۡ عِبَادِكُمۡ وَاِمَآئِكُمۡ‌ ؕ اِنۡ يَّكُوۡنُوۡا فُقَرَآءَ يُغۡنِهِمُ اللّٰهُ مِنۡ فَضۡلِهٖ‌ ؕ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيۡمٌ

اور اپنے میں سے بے نکاح مردوں، عورتوں کا نکاح کر دو اور اپنے غلاموں اور اپنی لونڈیوں سے جو نیک ہیں ان کا بھی، اگر وہ محتاج ہوں گے تو اللہ انھیں اپنے فضل سے غنی کر دے گا اور اللہ وسعت والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔
(سورۃ النور آیت نمبر : 32)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

ثَلَاثَةٌ كُلُّهُمْ حَقٌّ عَلَى اللَّهِ عَوْنُهُ: الْغَازِي فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَالْمُكَاتَبُ الَّذِي يُرِيدُ الْأَدَاءَ، وَالنَّاكِحُ الَّذِي يُرِيدُ التَّعَفُّفَ

تین قسم کے لوگ ایسے ہیں جن میں سے ہر ایک کی مدد کرنا اللہ پر حق ہے، ایک وہ جو اللہ تعالیٰ کی راہ کا غازی ہو، دوسرے وہ مکاتب جو بدل کتابت ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہو، تیسرا وہ شخص جو پاک دامن رہنے کے ارادے سے نکاح کرے
(سنن ابن ماجہ حدیث نمبر : 2518)
9 : اللہ کے راستے میں ہجرت کرنا

وَمَنۡ يُّهَاجِرۡ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ يَجِدۡ فِى الۡاَرۡضِ مُرٰغَمًا كَثِيۡرًا وَّسَعَةً‌ ؕ وَمَنۡ يَّخۡرُجۡ مِنۡۢ بَيۡتِهٖ مُهَاجِرًا اِلَى اللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ ثُمَّ يُدۡرِكۡهُ الۡمَوۡتُ فَقَدۡ وَقَعَ اَجۡرُهٗ عَلَى اللّٰهِ‌ ؕ وَكَانَ اللّٰهُ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا

اور وہ شخص جو اللہ کے راستے میں ہجرت کرے، وہ زمین میں پناہ کی بہت سی جگہ اور بڑی وسعت پائے گا اور جو اپنے گھر سے اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کرتے ہوئے نکلے، پھر اسے موت پالے تو بے شک اس کا اجر اللہ پر ثابت ہوگیا اور اللہ ہمیشہ سے بے حد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے
(سورۃ النساء آیت نمبر : 100)

وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَهَاجَرُوۡا وَجٰهَدُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَالَّذِيْنَ اٰوَوْا وَّنَصَرُوۡۤا اُولٰۤئِكَ هُمُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ حَقًّا‌ ؕ لَّهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ وَّرِزۡقٌ كَرِيۡمٌ

اور جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور وہ لوگ جنھوں نے جگہ دی اور مدد کی وہی سچے مومن ہیں، انھی کے لیے بڑی بخشش اور باعزت رزق ہے
(سورۃ الانفال آیت نمبر : 74)
10 : جہاد :
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

بُعِثْتُ بِالسَّيْفِ حَتَّى يُعْبَدَ اللَّهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَجُعِلَ رِزْقِي تَحْتَ ظِلِّ رُمْحِي، وَجُعِلَ الذِّلَّةُ وَالصَّغَارُ عَلَى مَنْ خَالَفَ أَمْرِي، وَمَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ

مجھے تلوار دے کر بھیجا گیا ہے تاکہ اللہ کی ہی عبادت کی جائے جس کا کوئی شریک نہیں، میرا رزق میرے نیزے کے سائے کے نیچے رکھا گیا ہے، میرے احکام کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لئے بھرپور ذلت لکھ دی گئی ہے اور جو شخص کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے گا وہ ان ہی میں شمار ہو گا۔
(مسند احمد حدیث نمبر : 5116)
اوپر دی گئی آیت بھی اس بات کی دلیل ہے۔
11 : نماز قائم کرنا

وَاۡمُرۡ اَهۡلَكَ بِالصَّلٰوةِ وَاصۡطَبِرۡ عَلَيۡهَا‌ ؕ لَا نَسْأَلُكَ رِزۡقًا‌ ؕ نَحۡنُ نَرۡزُقُكَ‌ ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلتَّقۡوٰى

اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دے اور اس پر خوب پابند رہ، ہم تجھ سے کسی رزق کا مطالبہ نہیں کرتے، ہم ہی تجھے رزق دیں گے اور اچھا انجام تقویٰ کا ہے۔
(سورۃ طہ آیت نمبر : 132)
12 : اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ
سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا

مَا مِنْ يَوْمٍ يُصْبِحُ الْعِبَادُ فِيهِ إِلَّا مَلَكَانِ يَنْزِلَانِ فَيَقُولُ أَحَدُهُمَا اللَّهُمَّ أَعْطِ مُنْفِقًا خَلَفًا وَيَقُولُ الْآخَرُ اللَّهُمَّ أَعْطِ مُمْسِكًا تَلَفًا

کوئی دن ایسا نہیں جاتا کہ جب بندے صبح کو اٹھتے ہیں تو دو فرشتے آسمان سے نہ اترتے ہوں۔ایک فرشتہ تو یہ کہتا ہے کہ اے اللہ! خرچ کرنے والے کو اس کا بدلہ دے۔اور دوسرا کہتا ہے کہ اے اللہ! ممسک اور بخیل کے مال کو تلف کردے۔
(صحیح البخاري حدیث نمبر : 1442)
13 : اللہ اور توکل کرنا اور اسباب اختیار کرنا
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

لَوْ أَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَوَكَّلُونَ عَلَى اللَّهِ حَقَّ تَوَكُّلِهِ، لَرُزِقْتُمْ كَمَا تُرْزَقُ الطَّيْرُ تَغْدُو خِمَاصًا وَتَرُوحُ بِطَانًا

اگر تم لوگ اللہ پر توکل (بھروسہ) کرو جیسا کہ اس پر توکل (بھروسہ) کرنے کا حق ہے تو تمہیں اسی طرح رزق ملے گا جیسا کہ پرندوں کو ملتا ہے کہ صبح کو وہ بھوکے نکلتے ہیں اور شام کو آسودہ واپس آتے ہیں
(جامع ترمذي حدیث نمبر : 2344)
14 : صلہ رحمی کرنے والوں کے متعلق فرمایا :

مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُبْسَطَ لَهُ فِي رِزْقِهِ وَأَنْ يُنْسَأَ لَهُ فِي أَثَرِهِ فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ

جسے پسند ہے کہ اس کے رزق میں وسعت ہو اور اس کی عمر دراز ہو تو وہ صلہ رحمی کرے
(صحیح البخاري حدیث نمبر : 5985)
تنبیہ : صلہ رحمی یہ ہے، کہ جب کوئی آپ کے ساتھ رشتہ توڑے تو آپ اسکو جوڑیں جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے :

لَيْسَ الْوَاصِلُ بِالْمُكَافِئِ، وَلَكِنِ الْوَاصِلُ الَّذِي إِذَا قُطِعَتْ رَحِمُهُ وَصَلَهَا

بدلہ چکانے والا صلہ رحمی کرنے والا نہیں ہے، بلکہ صلہ رحمی کرنے والا وہ شخص ہے کہ جب اس کے ساتھ صلہ رحمی کا تعلق ختم کر دیا جائے تو وہ پھر بھی صلہ رحمی کرے
(صحيح البخاري حدیث نمبر : 5991)
یعنی کہ جو رشتے دار آپکے ساتھ اچھا کررہے ہیں آپ انکے ساتھ اچھا کررہے ہیں، یہ صلہ رحمی نہیں، بلکہ صلہ رحمی تو یہ ہے کہ جو آپ کے ساتھ نہ بنائے آپ اسکے ساتھ بھی بنا کر رکھیں
15 : صبح سویرے کام کرنا
صخر غامدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا

”اے اللہ! میری امت کے لیے دن کے ابتدائی حصہ میں برکت دے“ اور جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی سریہ یا لشکر بھیجتے، تو دن کے ابتدائی حصہ میں بھیجتے
(عمارہ کہتے ہیں) صخر ایک تاجر آدمی تھے، وہ اپنی تجارت صبح سویرے شروع کرتے تھے تو وہ مالدار ہو گئے اور ان کا مال بہت ہو گیا۔
(سنن ابی داؤد حدیث نمبر : 2606)
16 : ان اسباب سے بچیں، جو دعاؤں کی قبولیت روکنے کا باعث ہے، نیز رزق کیلئے اللہ سے خصوصی دعائیں کریں

وَقَالَ رَبُّكُمُ ادۡعُوۡنِىۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَـكُمۡؕ اِنَّ الَّذِيۡنَ يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ عَنۡ عِبَادَتِىۡ سَيَدۡخُلُوۡنَ جَهَنَّمَ دَاخِرِيۡنَ

اور تمھارے رب نے فرمایا مجھے پکارو، میں تمھاری دعا قبول کروں گا۔ بے شک وہ لوگ جو میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں عنقریب ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے
(سورۃ غافر آیت نمبر : 40)
ہر دعا ضرور قبول ہوتی ہے

مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَدْعُو بِدَعْوَةٍ لَيْسَ فِيهَا إِثْمٌ وَلَا قَطِيعَةُ رَحِمٍ، إِلَّا أَعْطَاهُ اللَّهُ بِهَا إِحْدَى ثَلَاثٍ إِمَّا أَنْ تُعَجَّلَ لَهُ دَعْوَتُهُ، وَإِمَّا أَنْ يَدَّخِرَهَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ، وَإِمَّا أَنْ يَصْرِفَ عَنْهُ مِنَ السُّوءِ مِثْلَهَا”، قَالُوا: إِذًا نُكْثِرُ؟، قَالَ: اللَّهُ أَكْثَرُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو مسلمان کوئی ایسی دعاء کرے جس میں گناہ یا قطع رحمی کا کوئی پہلو نہ ہو، اللہ اسے تین میں سے کوئی ایک چیز ضرور عطاء فرماتے ہیں، یا تو فوراً ہی اس کی دعاء قبول کرلی جاتی ہے، یا آخرت کے لئے ذخیرہ کرلی جاتی ہے، یا اس سے اس جیسی کوئی تکلیف دور کردی جاتی ہے، صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اس طرح تو پھر ہم بہت کثرت کریں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ اس سے بھی زیادہ کثرت والا ہے
(مسند احمد حدیث نمبر : 11133)

إِنَّ رَبَّكُمْ تَبَارَكَ وَتَعَالَى حَيِيٌّ كَرِيمٌ يَسْتَحْيِي مِنْ عَبْدِهِ إِذَا رَفَعَ يَدَيْهِ إِلَيْهِ أَنْ يَرُدَّهُمَا صِفْرً

سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا رب بہت باحیاء اور کریم (کرم والا) ہے، جب اس کا بندہ اس کے سامنے اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتا ہے تو انہیں خالی لوٹاتے ہوئے اسے اپنے بندے سے شرم آتی ہے
(سنن نسائی حدیث نمبر : 1488)
17 : جتنی نعمتیں میسر ہیں ان پر شکر ادا کرنا

وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكُمۡ لَئِنۡ شَكَرۡتُمۡ لَاَزِيۡدَنَّـكُمۡ‌ وَلَئِنۡ كَفَرۡتُمۡ اِنَّ عَذَابِىۡ لَشَدِيۡدٌ‏

اور جب تمھارے رب نے صاف اعلان کر دیا کہ بے شک اگر تم شکر کرو گے تو میں ضرور ہی تمھیں زیادہ دوں گا اور بے شک اگر تم نا شکری کرو گے تو بلاشبہ میرا عذاب یقینا بہت سخت ہے۔
(سورۃ ابراہیم آیت نمبر : 7)
ھذا ما عندي والله اعلم بالصواب

فضیلۃ العالم حافظ محمد عبداللہ حفظہ اللہ

بارك الله فيكم وعافاكم
حافظ صاحب یہ آپ نے خود لکھا ہے یا کسی ایپ سے لکھوایا ہے؟؟
خیر اس میں بعض روایات کی صحت کا مسئلہ ہے۔
مثلا:
اللهم بارك لأمتي في بكورها
یہ روایت جمیع اسانید کے ساتھ ضعیف و معلول ہے۔
حدیث سلمان فارسی علی الراجح موقوف ہے ۔

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ

شیخنا خود لکھا ہے شیخ علت کیا ہے؟

فضیلۃ العالم حافظ محمد عبداللہ حفظہ اللہ

دراسہ وسبر کریں یا کسی عرب محقق کی تحقیق دیکھ لیں ۔

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ

معلول

قالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ:«اللَّهُمَّ بِارِكْ لأُمَّتِي فِي بُكُورِها عَدَدَها».
قَالَ الْمُؤَلِّفُ: هَذِهِ الأَحَادِيثُ كُلُّهَا لا تَثْبُتُ
العلل المتناهية في الأحاديث الواهية ١/‏٣١٩ — ابن الجوزي (ت ٥٩٧)
ھذا ما عندی واللہ اعلم باالصواب

فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ

ابن الجوزي رحمہ اللہ نے کیا علت بیان کی ہے؟
علل کے دو ائمہ، امام ترمذي اور امام عقیلي اس روایت کو حسن، جید کہتے ہیں
امام ترمذی لکھتے ہیں :

قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ صَخْرٍ الْغَامِدِيِّ حَدِيثٌ حَسَنٌ

(جامع ترمذي: 1212)
امام عقیلي لکھتے ہیں :

وَحَدِيثُ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا رَوَاهُ شُعْبَةُ عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ جَدِيدٍ، عَنْ صَخْرٍ الْغَامِدِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ وَهُوَ أَوْلَى بِإِسْنَادٍ جَيِّدٍ

(الضعفاء الکبیر : 236/1)
ھذا ما عندي والله اعلم بالصواب

فضیلۃ العالم حافظ محمد عبداللہ حفظہ اللہ

یہ تو ضعف کی طرف اشارہ ہے امام ترمذی کا
آپ امام ترمذی کی حسن،حسن غریب،حسن صحیح،صحیح حسن غریب پر مطالعہ کریں
اسناد جید کا معنی ہے کہ اس کی یہ سند یا فلاں سند میں دیگر اسانید کی نسبت کم ضعف ہے ناں کہ اس سے مراد اصطلاحی معنی خیال کرنا
یہ وضاحت ایک جگہ ابن القطان الفاسی نے کر رکھی ہے۔
اور سبر و تتبع سے بھی یہ چیز واضح ہو جاتی ہے۔

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ