سوال (942)

روضہ رسول کے بارے میں احادیث ہیں اور ان کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟
نیز یہ کہ ایک اہل حدیث عالم کا کلپ آیا مسجد نبوی میں وہ کہہ رہے تھے کہ آپ جب مدینہ آئیں تو یہ نیت کریں کہ آپ اپنی عبادت کریں گے نہ کہ آپ روضہ رسول کی زیارت کریں گے ، غالباً وہ شیخ مظفر مدنی ہیں جن کے اکثر کلپ آیا کرتے ہیں ۔

جواب

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حجرے اور منبر کی جگہ کو جنت کا باغیچہ قرار دیا ہے ۔ سیدنا ابوھریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

“مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ، ‏‏‏‏‏‏وَمِنْبَرِي عَلَى حَوْضِي” [صحیح البخاری : 6588]

«میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان کی جگہ کا جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے اور میرا منبر میرے حوض پر ہے»
یہ اس کی فضیلت ہے ، وہاں نماز پڑھنے کی الگ سے فضیلت نہیں ہے ، مسجد نبوی میں جو نماز پڑھتا ہے اس کو ایک ہزار نمازوں کا ثواب ملتا ہے ، باقی لوگوں کے ہاں جو مشہور ہے وہ روضہ گنبذ خضراء کو کہتے ہیں ، وہ تو بعد میں چھٹی صدی میں بنایا گیا ہے ، پہلے وہ بیضاء تھا اب وہ خضراء ہوگیا ہے ، اب کلر بدلنےمیں عذاب ہوگیا ہے ، فتنے کا باعث بن سکتا ہے ، اہل علم اس بات کو جانتے ہیں کہ اس کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے ، ثواب کی نیت سے مسجد نبوی کا قصد کرسکتے ہیں ، بس یہی قصد کرنا چاہیے ، اگر باب السلام سے داخل ہوں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابو بکر صدیق اور عمر فاروق رضی اللہ عنھما کو سلام کردیں ، بس یہی چیزیں ثابت ہیں ، اور ان ہی کی اجازت ہے ۔

“مَنْ زَارَ قَبْرِي، وَجَبَتْ لَهُ شَفَاعَتِي”

والی روایت پائے ثبوت تک نہیں پہنچتی ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

باقی روضة من ریاض الجنہ کی تشریح میں بھی کئی اقوال ہیں ، بعض علماء کے ہاں ہے کہ علمی مجالس کے انعقاد کی مناسبت سے بیان فرمایا وغیرہ ، لیکن آپ نے انتہائی مناسب بات فرمائی ہے کہ اس میں خاص نماز پڑھنے کی فضیلت وارد نہیں ہوئی ، اللہ تعالیٰ آپ کو جزاء خیر عطا فرمائے ۔

فضیلۃ الباحث اسامہ شوکت حفظہ اللہ