سوال (947)

روزے کا فدیہ ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہے ، اس کی اوسط کیا بنتی ہے ؟

جواب

ایسے مسائل میں شریعت نے عرف کی طرف لٹایا ہے ، اھل علاقہ کے ہاں جیسے معروف ہو اور جتنی مقدار معروف ہو اس مناسبت سے ادا کر دیا جائے ، جس سے اعتدالا ایک آدمی اچھے سے کھا لے ۔

فضیلۃ الباحث اسامہ شوکت حفظہ اللہ

روزے کا فدیہ انسان کے کھانے کے اوپر ہے ، کوئی کم درجے کا کھاتا ہے ، کوئی متوسط تو کوئی اعلی درجے کا کھاتا ہے ، وہ اپنا فیصلہ خود کرلے یہی بات وزنی ہے ، بہتر اور اقرب الی الصواب یہی بات ہے ، ایک ٹائم کا کھانا اس کے ذمے ہے ، اگر زیادہ کرتا ہے اس کا اجر اللہ کے پاس ہے ، بہرحال ذمہ سے بری ہونے کے لیے ایک وقت کا کھانا جو وہ خود کھاتا ہے ، وہ مسکین کو کھلادے تو اس کا فدیہ ادا ہو جائے گا ، روزانہ ایک مسکین کو کھلادے یا دس دس کرکے تیس کو کھلادے یا ایک ہی دفعہ تیس کو کھلادے یا تیس روزوں کے کھانے کے مساوی رقم دے دے تو بھی صحیح ہے ۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ