سوال 7635

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
محترم شیوخِ کرام! ایک مسئلے میں مدلل و مفصل جواب کی اشد ضرورت ہے۔
ایک لڑکی کی ایک لڑکے سے منگنی ہوئی اور اس کے ساتھ نکاح بھی ہو گیا، تاہم رخصتی نہیں ہوئی تھی۔ بعد میں کسی اختلاف کی وجہ سے لڑکے نے ایک ہی مجلس میں لڑکی کو تین طلاقیں دے دیں۔ اس کے باوجود دونوں کے درمیان موبائل پر رابطہ جاری رہا۔
اب دوبارہ ان دونوں میں جھگڑا ہوا تو لڑکے نے غصے میں لڑکی کو ڈرانے کے لیے کہا:
“اگر آپ نے موبائل نہ توڑا تو شادی کے بعد آپ مجھ پر طلاق ہوں گی۔”
لڑکی نے موبائل نہیں توڑا۔
اب سوال یہ ہے کہ پہلی تین طلاقوں کے بعد ان دونوں کا تعلق شرعاً کس حیثیت کا ہے؟ اور بعد میں کہی گئی یہ مشروط طلاق، اگر دوبارہ ان کا نکاح ہو جائے، تو کیا اس کا کوئی اثر ہوگا؟
براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں تفصیل سے رہنمائی فرمائیں۔
جزاکم اللہ خیرا

جواب

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
دیکھیں، آپ نے کہا ہے کہ منگنی بھی ہوئی تھی اور نکاح بھی۔ اگر یہ بات پکی ہے کہ نکاح ولی کے اذن اور اجازت سے ہوا تھا تو نکاح ہو گیا۔ نکاح کے بعد جب لڑکا طلاق دیتا ہے اور رخصتی نہیں ہوئی تھی تو عورت پر کوئی عدت نہیں ہوتی۔ طلاق کے بعد دونوں ایک دوسرے کے لیے حرام اور اجنبی ہو گئے۔
لہٰذا اگر رخصتی نہیں ہوئی تھی تو اب ان کا آپس میں موبائل فون یا کسی بھی ذریعے سے رابطہ رکھنا حرام ہے۔
بعد میں جو طلاق کی بات کی گئی، اس کا معاملہ بھی اسی صورتِ حال کے بعد الگ سے معتبر نہیں ہوگا۔
لہٰذا اس پورے معاملے کو مقامی علماء کے سامنے پیش کیا جائے اور دونوں فریق اپنی پوری بات واضح طور پر ان کے سامنے رکھیں۔ حرام کاری میں نہ پڑیں، بلکہ باقاعدہ فتویٰ لے کر معلوم کریں کہ شرعی طور پر کیا حکم بنتا ہے۔
اور اگر وہ کسی کی بات نہیں ماننا چاہتے تو انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیں۔ آپ خود اس معاملے سے اپنا دامن بچائیں۔

﴿وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلَامًا﴾

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

سائل: شیخ صاحب عفوا اس میں جو لڑکے نے منگنی میں پھلی بار طلاق دی ہے کیا وہ طلاق رجعی ہے ؟؟؟
مطلب اب اگر لڑکا جدید نکاح کریں تو وہ صرف دو طلاق کا مالک ہوگا؟
اور یہ جو ایک آدمی کہے کہ آپ نکاح کے بعد مجھ پر طلاق ہوگی تو کیا اس کا کوئی کفارہ ہے؟
جواب: وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
پہلے آپ نے دو باتیں کہی تھیں کہ منگنی ہوئی اور نکاح بھی ہوا، لیکن اب صرف منگنی کی بات کر رہے ہیں۔ یاد رکھیں کہ منگنی نکاح نہیں ہوتی۔ جب نکاح ہی نہیں ہوا تو طلاق بھی کوئی چیز نہیں، کیونکہ طلاق صرف نکاح کے بعد ہوتی ہے۔
اسی لیے میں نے کہا تھا کہ پورا معاملہ مقامی علماء کے سامنے پیش کریں، کیونکہ اصل صورتِ حال واضح ہونا ضروری ہے۔
منگنی میں طلاق کہاں سے آ گئی؟

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ