سوال 7250
السلام علیکم وںرحمۃ اللہ وبرکاتہ
محترم شیخ میرا سوال یہ یے کہ میری منرل واٹر کی دوکان ہے یعنی پانی کی دوکان ہے اگر کوئی مجھ سے پانی خریدے اور آگے وہ سبیل کے طور پر چلائے حضرت حسین رضہ اللہ تعالیٰ عنہ کے نام پر چلائیں تو کیا اس کام میں میں بھی شامل ہوا حالانکہ میں تو تجارت کر رہا ہوں؟
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
پانی کا کاروبار تو صحیح ہے، لیکن جب ہمیں یہ معلوم ہو جائے کہ کوئی شخص غیر اللہ کے نام پر سبیل لگانا چاہتا ہے، یا بدعت کے طور پر ایصالِ ثواب کی کوئی رسم جاری کرنا چاہتا ہے، تو پھر ایسے خاص شخص کو پانی فروخت نہیں کرنا چاہیے۔
یہ ایسے ہی ہے جیسے آپ پکوان کا کام کرتے ہوں اور لوگ آپ سے کھانا بنواتے ہوں۔ عام حالات میں آپ کھانا تیار کرتے ہیں، لیکن اگر وہ آپ کو بتائیں کہ محرم کی نیاز کی دیگیں بنانی ہیں یا گیارہویں کی دیگیں پکانی ہیں، تو ظاہر سی بات ہے کہ آپ کے نزدیک یہ ناجائز ہوگا۔
اسی طرح جب معلوم ہو جائے کہ کوئی شخص پانی کو اسی خاص مقصد کے لیے استعمال کر رہا ہے، تو پھر اس خاص بندے کو پانی نہ دیا جائے۔
واللہ اعلم۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




