سوال 7452

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
میرا سوال یہ ہے کہ جب ہم شہر سے باہر جائیں تو کتنے دن تک قصر نماز پڑھنی ہوگی؟
دوسرا یہ کہ اگر شہر سے باہر رشتے دار کے گھر رہیں ایک ہفتے کے لیے پر امن ماحول میں تو پوری نماز نہیں پڑھ سکتے؟

جواب

وعلیکم السلام و رحمة الله و برکاته
قصر کی مدت 19 دن ہے
ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں (فتح مکہ کے بعد) انیس دن تک تو نماز قصر پڑھتے تھے لیکن جب اس سے زیادہ مدت گزر جاتی تو پھر پوری نماز پڑھتے تھے۔
(صحیح البخاري حدیث نمبر : 4299)
سفر میں قصر نماز پڑھنا اللہ رب العالمین کی طرف سے رخصت ہے اور بہتر ہے کہ اس ہی کو اختیار کیا جائے:

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ أَنْ تُؤْتَى رُخَصُهُ، كَمَا يَكْرَهُ أَنْ تُؤْتَى مَعْصِيَتُهُ

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ اپنی رخصتوں پر عمل کرنے کو اسی طرح پسند کرتا ہے جیسے اپنی نافرمانی کو ناپسند کرتا ہے
(مسند احمد حدیث نمبر : 5866)
لیکن اگر کوئی شخص سفر میں مکمل نماز بھی پڑھ لیتا ہے تو کوئی حرج نہیں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مکمل نماز پڑھنا بھی ثابت ہے
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سفر کے دوران

كَانَ يَقْصُرُ فِي السَّفَرِ وَيُتِمُّ، وَيُفْطِرُ وَيَصُومُ

قصر نماز بھی پڑھ لیا کرتے تھے اور مکمل نماز بھی پڑھ لیا کرتے تھے، آپ روزہ چھوڑ بھی دیتے تھے اور رکھ بھی لیا کرتے تھے۔ شیخ (امام دارقطنی) بیان کرتے ہیں: اس کی سند صحیح ہے
(سنن دارقطنی حدیث نمبر : 2298)
نیز صحابہ سے بھی اس ہی طرح کے آثار مروی ہے، البتہ سفر میں قصر کرنا افضل ہے
ھذا ما عندي والله اعلم بالصواب

فضیلۃ العالم حافظ محمد عبداللہ حفظہ اللہ